امام ابو محمد عبدالعظیم زکی الدین منذری شامی
نام: عبدالعظیم
کنیت : ابو محمد
لقب : زکی الدین
ولادت :
شعبان ۵۸۱ھ میں آپ کی ولادت ہوئی۔
نسب :
عبدالعظیم بن
عبدالقوی بن عبداللہ بن سلامہ بن سعد بن سعید مالندری الشامی۔
آبائی وطن شام تھا اسی مناسبت سے تذکرہ نگاروں نے شامی
لکھا ہے مگر آپ کا خاندان شام سے مصر منتقل ہو گیا تھا .
تحصیل علم:
امام منذری نے
مصر جیسے علمی فضا میں آنکھ کھولی تھی چنانچہ ابتدا میں علماء مصر سے علم حاصل
کرتے رہے پھر ذوق علم کو اسلاف کی طرح ملکوں ملکوں شہروں شہروں کا سفر اختیار کرنا
پڑا پورے عزم و استقلال کے ساتھ دور دراز کا سفر محض طلب علم کے لیے کرتے رہے۔
انہوں نے حصول علم کے لیے مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، بیت المقدس، دمشق، حران، اور
ہراة، اسکندریہ وغیرہ کے سفر کیے اور وہاں کے ائمہ سے علم حاصل کیا ۔
اساتذہ:
ابو عبداللہ ارتاحی،
عبد المجیب بن زہیر، ابراہیم بن بتیت ، ابو الجود
غیاث بن فارس، حافظ ابو الحسن مقدسی، حافظ جعفر بن امور سان، عمر بن طبر
زد، محمد بن رتف۔ تاج کِندی وغیرہ (تذکرة
الحفاظ ج ۴ ص ۲۲۱)
علم و فضل:
امام منذری
قرآن، تجوید و قرآت اور حدیث وفقہ میں بہت اونچا مقام رکھتے تھے کثرت دوام اور تقویٰ
و برتری انہیں علم حدیث میں کمال کی بدولت ملی علم حدیث اور اس کے متعلقات میں آپ
کے تبحر کا اعتراف وقت کے با عظمت علمی
شخصیتوں نے کیا ہے۔ شیخ الاسلام عزالدین بن عبدالسلام (۶۶۰ھ) جو
اپنے وقت کے بلند پایہ عالم اور مجدد و احیائے دین کا ستون تھے انہیں امام منذری کی
شاگردی پر فخر تھا وہ کہتے ہیں۔
ہمارے شیخ زکی
الدین حدیث اور اس کے مختلف فنون میں اپنی نظیر آپ تھے صحیح اور سقیم کے واقف،
معلول اور اسانید کے عالم احکام اور معانی کے شناسا اقوال کے جاننے والے اور تحریر
و حدیث اعراب وترکیب اور اختلافِ الفاظ کی عقدہ کشائی کرنے والے تھے نیز فنِ حدیث
میں امام، حجت اور ثبت تھے۔ جو بات کہتے سچ فرما کہتے اور جو روایت کرتے تحقیق اور
یقین سے روایت کرتے تھے میں نے ان سے حدیث کا مقدمہ حصہ پڑھا ہے اور ان سے بہت
فائدہ اٹھایا ہے۔
حافظ ذہبی: "الحافظ الکبیر
الامام الثبت شیخ الاسلام۔۔۔ الشامی" شام کے رہنے والے جلیل القدر حافظِ حدیث، یگانہ
کار امام اور شیخ الاسلام ہیں۔ (ایضاً)
اشاعتِ علم:
میدانِ فیاض نے
آپ کو علم و فضل کی جو عظمت عطا فرمائی تھی اور علوم و فنون کے درخشاں موتیوں سے
آپ کے دامن کو مالا مال کیا تھا اس کا تقاضا تھا کہ آپ اپنے علمی جواہر پاروں سے
طالبانِ علم کا دامن بھریں چنانچہ ایسا ہی ہوا آپ کے سرچشمہ علم سے ہزاروں تشنگانِ
علم کی پیاس بجھی اور لوگ سیراب ہوتے رہے اور آپ کے علم و عرفان کا چشمہ دور دراز
کے علاقوں تک جاری رہا۔
تلامذہ:
آپ سے علم حاصل
کرنے والوں کی تعداد کافی ہے چند مشہور تلامذہ یہ ہیں :
شیخ دمیاطی ،
ابن ظاہری، ابوالحسین یونینی ، ابو عبد اللہ بن قزاز ، اسماعیل بن نصر اللہ ، علم
الدین سنجزدواری، قاضی القضاة تقی الدین
ابن دقیق العید، اسحاق بن وزیری، حافظ شیخ الاسلام عز الدین بن عبد السلام ۔ ( تذکرہ
ج ۴ ص ۲٢۱)
تصانیف :
منذری ایک باکمال مصنف بھی تھے انہوں نے حدیث ، فقہ، تاریخ
اور رجال میں مستند کتابیں تصنیف فرمائیں ۔ ان میں سے چند یہ ہیں:
(۱) فقہ شافعی کی مشہور کتاب "التنبيه" کی
شرح
(۲) مختصر سنن ابی داؤد
(۳) حواشی سنن ابی داؤد
(۴) مختصر صحیح مسلم
(۵) الحجم
(۶) الترغيب والترهيب
(۷) کتاب الخلافيات و مذاهب السلف
(۸) التكمله الوفيات النقلة
(۹) الطهور شطر الايمان
(۱۰) حدیث ان من افضل ايامكم يوم الجمعة (رسالہ)
(۱۱) جزء المنذري
(۱۲) عمل اليوم والليلة
(۱۳) جزء الفوائد الشفريه
(۱۴) كفاية التعبد و تحفة
التزهد ، ان کے علاوہ متعدد رسائل بھی لکھے ہیں ۔
الترغيب والترهيب:
اسلامی دنیا میں
احادیثِ نبوی کے بیشمار مجموعے مرتب کیے گئے ہیں۔ تدوین و ترتیب اور موضوع کے لحاظ
سے ان کتابوں کو مختلف انواع میں تقسیم کیا جاتا ہے ۔ کچھ محدثین نے کسی خاص ایک
موضوع پر حدیثیں جمع کیں مثلاً عبادات ، اخلاقیات، فضائل اعمال ، اذكار و دعوات پر
مستقل تصانیف تیار کی گئیں ۔ ترغیب و ترہیب کے عنوان پر بھی مستقل کتابیں لکھی گئیں
جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ تمام اقوال و ارشادات جمع کیے گئے ہیں
جن میں آپ نے فضائلِ اعمال اور اعمالِ صالحہ پر اجر و ثواب اور فصائلِ رذیلہ
واعمالِ قبیحہ پر جو زجر وعتاب بیان فرمایا ہے۔
زہد وتقویٰ:
حافظ منذری
علومِ ظاہری کے ساتھ علمِ باطن کے بھی رمز شناس تھے ان کی زندگی زہد وورع تقویٰ
اور پرہیزگاری سے عبارت تھی وہ صانع، وزاہدِ عالم تھے ان سے خیر وبرکت کا صدور
ہوتا تھا حافظ ذہبی نے انہیں عابد، زاہد وقاری قرار دیا وہ لکھتے ہیں "کان ذا
نسک وتعبد" یعنی
عبادت گزار اور زاہد آدمی تھے۔
امام منذری کا قلب عشقِ رسول کا گنجینہ اور عرفان ومعارف
کا آئینہ تھا۔ علمِ ظاہری کے ساتھ علمِ حدیث کے پرکھنے کا ملکہ تو رکھتے ہی تھے
باطنی حس سے بھی انہیں حدیث کی وسعت کا ادر اک حاصل تھا۔ انہوں نے محدثین کے متعلق
فیصلہ کن اصولوں کے تحت جو کلام كيا وه علماءحدیث کے نزدیک طے شدہ ہیں لیکن اپنے
نورِ بصیرت سے کہیں کہیں اس راہ میں انہوں نے کام ضرور لیا چنانچہ اپنی کتاب الترغیب
والترہیب میں ایک جگہ حدیث، "ازھد فی الدنیا یحبک اللہ وازھد فیما فی ایدی الناس یحبک
الناس"
(دنیا میں زہد کی زندگی اختیار کرلو تو لوگوں کے ہاتھ میں جو کچھ ہے اس سے رغبت نہ
چاہو تو لوگوں کے محبوب بن جاؤ گے) پر گفتگو کرتے ہوئے اس کے ایک راوی خالد بن
عمرو القرشی الاموی کے متعلق لکھا ہے کہ یہ متروک ومتہم ہے اور میں نے کوئی ایسی
توثیق کرنے والا نہیں پایا اور من بعض مشائخ نے اس حدیث کو سنن کہا ہے ان کی رائے سے
اختلاف کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ "فيه بعد ، یعنی یہ بات بعید ہے لیکن اس کے باجود ان کا نورِ بصیرت
ان کو ٹھوکر کھانے پر مجبور کر رہا ہے چنانچہ فرماتے ہیں:
"لکن علیٰ ھذا
الحدیث لا معۃ من انوار النبوۃ ولا یمنع کون راویہ ضعیفاً ان یکون النبی صلی اللہ
علیہ وسلم قالہ" یعنی
اس حدیث پر انوارِ نبوت کی شعاعیں محسوس ہو رہی ہیں اور راوی کے کمزور ہونے سے یہ
بات ضرورنہیں ہوجاتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہی نہ ہو اس لیے
کہ راوی کے کمزور ہونے سے یہ صرف اتنا معلوم ہوسکا کہ اس حدیث کے ہم تک پہنچنے کا
واسطہ کمزور ہے لیکن یہ بات کہنا کہ زبانِ رسول سے یہ الفاظ نکلے تھے یا نہیں
بالکل الگ چیز ہے"۔
(الترغیب
والترہیب ج ۳ ص ١۵۷)
اس کے بعد مصنف نے ایک دوسری سند سے اس کی متابعت وتائید
کی ہے لیکن ہمیں تو اس جگہ صرف یہ ظاہر کرنا ہے کہ اس حدیث کی تائید وتوثیق کا اصل
محرک وہی عقلِ شناسا اور باطن ہے جس نے اس میں نورِ نبوت کی جھلک دیکھائی ہے۔ ذلک فضل
اللہ یوتیہ من یشاء۔
وصال:
آپ کا
وصال پر ملال ۴، ذی قعدہ ۶۵۶ھ میں ہوا ۔
تدفین:
مصر میں کوہ مقطم کے دامن میں مدفن کیے گئے۔
ماخذ مراجع: محدثین عظام حیات و خدمات
