امام الائمہ شیخ الاسلام ابو بکر محمد ابن خزیمہ
نام : محمد
کنیت: ابوبکر
لقب : شیخ
الاسلام
نسب: محمد
بن اسحاق بن خزیمہ بن مغیرہ بن صالح بن بکر۔
ولادت :
آپ کی ولادت ۲۲۳ھ میں خراسان کے مشہور شہر نیشاپور میں
ہوئی، اس زمانہ میں نیشاپور علم و علماء کا مرکز تھا، ابن خزیمہ نے اپنے وطن کے
اکابرِ علم سے ابتدا میں علم حاصل کیا مگر ان کے دامن کی وسعت متقاضی تھی کہ وہ
اپنے شہر سے نکل کر دیگر بلادِ اسلامی بلاد و امصار کے ذخیر ہائے علم سے خوشہ چینی
کریں چنانچہ انہوں نے بڑے ذوق و شوق کے ساتھ مرو، بغداد، کوفہ، بصرہ، شام، حجاز،
عراق، مصر، واسط کا سفر کیا، طلبِ علم کے لیے رحلت و سفر کا شوق بچپن ہی سے دامن
گیر تھا، ان کے پوتے محمد بن الفضل کا بیان ہے:
میں نے اپنے دادا سے سنا ہے فرماتے تھے میں
نے امام قتیبہ بن سعید سے اکتسابِ فیض کرنے کے لیے اپنے والد سے سفر کی اجازت طلب
کی تو فرمانے لگے پہلے قرآن پڑھ لو، پھر تمہیں ان کے پاس جانے کی اجازت دونگا، میں
نے تھوڑے ہی عرصہ میں قرآن مجید حفظ کر لیا، عید الفطر کے بعد انہوں نے مجھے جانے
کی اجازت دی۔ "فخرجت الی مرو سمعت بمرو الروذ من محمد بن ہشام یعنی صاحب
ہشیم فمعنی علینا قتیبہ"۔ میں پہلے مرو گیا اور مرو الروض
میں امام ہشیم کے تلمیذ محمد بن ہشام سے ہی سماع کر رہا تھا کہ قتیبہ کی وفات کی
خبر ملی اور یوں میں ان سے کسبِ فیض نہ کر سکا۔ (تذکرۃ
الحفاظ ج۲ ص۲۶۱)
اساتذہ:
امام ابن خزیمہ نے
غیر معمولی حافظہ اور بے نظیر جذبۂ تحصیلِ علم کے ساتھ جن اکابرِ علم سے اپنے
دامن کو مالا مال کیا ان میں چند اہم نام یہ ہیں۔ ابوقدامہ سرخسی، ابوکریب، احمد
بن منیع، اسحاق بن موسیٰ خطمی، بشر بن معاذ عقدی، عبدالجبار بن اعلیٰ، عتبہ بن
عبداللہ محمدی، علی بن حجر علی بن خشرم، محمد بن ابان ستملی، محمد بن اسلم زاہد،
محمد بن حرب، محمد بن مہران محمود بن غیلان، نصر بن علی جہمی، یونس بن عبدالاعلیٰ۔ (تذکرۃ ج۲ ص۲۶۲)
علم و فضل:
ابن خزیمہ کا
حافظہ اتنا قوی تھا کہ انہوں نے صغر سنی ہی میں قرآن حکیم حفظ کر لیا تھا اور پھر
اسلامی بلاد و امصار کے اکابرِ علم سے بڑے ذوق وانہماک کے ساتھ علم حاصل کیا اور
اپنے وقت کے نامور حفاظِ حدیث کی صفِ اول میں داخل ہو گئے، آپ سے وفورِ علم کے
بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا۔ "قال رسول الله ﷺ ماء زمزم لما شرب له
وانی لما شربت ماء زمزم سالت الله علما نافعا" حضور ﷺ نے
فرمایا ہے کہ زمزم کا پانی جس مقصد سے پیا جائے وہ مقصد حاصل ہو جاتا ہے اس لیے
میں نے جب زمزم کا پانی پیا تو میں نے اللہ تبارک و تعالیٰ سے علمِ نافع کا سوال
کیا تھا۔
(تذکرۃ
ج۲ ص۲۶۰)
آپ کے حفظ و ضبط، ثقاہت و عدالت اور بلند
علمی مرتبہ کا اعتراف بڑے بڑے مشائخِ وقت نے کیا ہے۔
* حافظ ذہبی: "الحافظ
الکبیر امام الائمہ شیخ الاسلام" بہت بڑے حافظِ حدیث، شیخ الاسلام
اور اماموں کے امام ہیں۔ (تذکرۃ ج۲
ص ۲۵۹)
ابو علی نیشاپوری: کان ابن
خزیمہۃیحفظ الفقہیات من حدیثہ كما یحفظ القارئ السورة..... لم ار
مثل ابن خزیمہ ۔
امام ابن خزیمہ کو اپنی احادیث سے یاد کردہ فقہی مسائل اس طرح یاد تھے جس طرح حافظ
کو قرآن کی کوئی سورت یاد ہوتی ہے۔ میں نے ان کے جیسا کوئی عالم نہیں دیکھا۔ (تذکرۃ
ج۲ ص۲۶۰)
حافظ ذہبی: "انتھت الیہ الامامۃ
والحفظ فی عصرہ بخراسان ہذا الامام کان فرید عصرہ۔ آپ کے زمانہ میں
خراسان میں امامت فی الحدیث اور حفظ واتقان آپ پر ختم ہو گیا۔ یا اپنے زمانہ میں
دریکدانہ تھے۔
ابو حاتم ابن حبان: "ما رایت
علی وجہ الارض من یحسن ضاعۃ السنن و یحفظ الفاظھا الصحاح وزیاداتھا حتی کان السنن
بین عینیہ الا محمد بن اسحاق بن خزیمہ فقط" میں نے
روئے زمین پر بجز امام ابن خزیمہ کے ایسا کوئی شخص نہیں دیکھا جسے فن حدیث میں اس
قدر مہارت ہو کہ اسے صحیح الفاظ اور زیادات حدیث اس طرح یاد ہوں کہ گویا حدیث کی
سب کتابیں اس کے سامنے کھلی پڑی ہیں۔
(ایضاً
ص ۲۶۲،۲۶۱)
امام دارقطنی: "کان ابن خزیمۃ
اماماً ثبتاً معدوم النظیر" ابن خزیمہ پختہ کار، اور بے نظیر
عالم تھے۔
(ایضاً
ص ۲۶۶)
ابو احمد دارمی: "میں نے خواب میں ابن
خزیمہ سے ان کے حافظہ کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے جواب دیامیں نے سفید کاغذ پر
سیاہی سے جو کچھ لکھا ہے، اسے خوب جانتا ہوں:۔ "مابنی ما کتبت سواداً
فی بیاض الا وانا اعرفہ" (ایضاً)
حدیث:
علم حدیث میں وہ
درجہ امامت پر فائز تھے ایک باکمال محدث کی تمام صفات ان کے اندر موجود تھیں وہ
اکابر محدثین اور نامور ائمہ جن میں نمایاں نظر آتے ہیں احادیث کے اسناد و متون پر
وہ بڑی گہری نظر رکھتے تھے ابو حاتم محمد بن حبان عجلی کا قول اوپر گزر چکا ہے۔
فقہ شافعی کے جامع و تدوین امام مزنی سے
ایک عراقی شخص نے دریافت کیا کہ جب قرآن مجید نے نقل کی صرف دو ہی صورتیں بیان کی
ہیں۔عمدا ۔ خطاً ،تو آپ لوگ تیسری قسم شبہ
عمد کو کس طرح مانتے ہیں انہوں نے جواب میں ایک حدیث پیش کی اس نے کہا کہ آپ علی
بن زید بن جدعان کی روایت سے استدلال کرتے ہیں یہ سن کر مزنی خاموش ہوگئے اور ابن
خزیمہ نے جواب دیا کہ شبہ عمد کی روایتیں
دوسرے سے بھی مروی ہیں عراقی نے کہا اور کس کے واسطے سے مروی ہیں امام ابن خزیمہ
نے فرمایا ایوب سختیانی اور خالد خدا سے
اس نے ایک راوی خالق خدا سے اس نے ایک راوی عقبہ بن اویس کے متعلق چک و تردد کا
اظہار کیا آپ نے فرمایا کہ وہ ایک بصری شیخ ہیں اور ان سیرین بھی جیسے جلیل القدر
بزرگ نے بھی ان سے روایت کی ہے معترض نے امام مزنی سے عرض کیا کہ آپ مناظرہ کر رہے
ہیں یا یہ انھوں نے فرمایا "اذا جاء
الحدیث فھو یناظر لانہ اعلم بہ منی ثم اتکلم انا" یہ احادیث
کے بارے میں مجھ سے زیادہ واقف کار ہیں اس لیے جب حدیثوں پر گفتگو ہوتی ہے تو میں
خاموش رہتا ہوں اور یہ بحث ومناظرہ میں حصہ لیتے ہیں۔
(تذکرۃ
الحفاظ ج ۱۱ص ۲۶۰)
امام ابن خزیمہ پیش آنے والے مسائل واستفسارات کا جواب بھی احادیث
کی روشنی میں دیا کرتے تھے امیر اسماعیل بن احمد نے ایک مرتبہ فنی غنیمت کا فرق دریافت کیا تو انہوں نے سورۃ الانفال کی
آیت "واعلموا
انما غنمتم من شیء فان للہ خمسہ" (الآیہ) پڑھنے کے بعد چند حدیثیں
بیان کیں پھر سورۃ حشر کی آیت "ما افاء اللہ علی رسولہ"
(الآیہ) پڑھ کر احادیث سے مسئلہ کی وضاحت کی تو ابوزکریامحمد بن یحییٰ کا بیان ہے
کہ اس موقع پر انہوں نے تقریباً ایک سو ستر احادیث بیان کی ہیں۔ (طبقات
الشافعیۃ الکبریٰ ج ۲ ص ۱۳۴)
این شریح بیان کرتے ہیں کہ وہ بڑی چھان بین
اور محنت سے احادیث کے نکات اور مطالب کا استخراج کرتے تھے (ایضاً) حدیث کی نقل و
روایت میں فضل واجتہاد کا اعتراف کرتے ہوئے علامہ ابن جوزی نے لکھا ہے "وکان
مبرزاً فی علم الحدیث" وہ علم حدیث میں بہت ممتاز اور نہایت کامل تھے (المنتظم
ج ۶ ص ۱۸۴)
امام ابن خزیمہ کے کسی صاحب علم پڑوسی نے
خواب میں دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شبیہ مبارک ایک تختی پر ہے جسے
ابن خزیمہ صاف کر کے اجلا کر رہے ہیں معبر نے اس خواب کی تعبیر میں کہا یہ وہ شخص
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو زندہ کرے گا۔ (تذکرۃ
ج ۲ ص ۲۶۶)
چنانچہ ایسا ہی ہوا امام ابن خزیمہ نے کج
احادیث و سنن کی اشاعت میں اپنی پوری زندگی وقف کر دی۔
فقہ واجتہاد:
حدیث کے ساتھ فقہ
واجتہاد میں بھی کمال رکھتے تھے وہ کسی مسلک کے پابند نہیں تھے بلکہ وہ خود مجتہد
تھے علامہ ابن سبکی نے ان کو المجتہد المطلق اور علامہ ابن کثیر نے "وھو من
المجتھدین فی دین الاسلام" لکھا ہے، وہ خود صاحب مذہب مجتہد اور امام فقہ کی حیثیت رکھتے تھے اور ان
کے فتاوی بعض اسلامی ملکوں میں رائج تھے ان کی فقہ کارآمد احادیث پر تھا ابو زکریا یحییٰ
بن محمد کہتے ہیں میں نے ابن خزیمہ کو سنا "لیس لاحد مع رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قول اذا صح الخبر" رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم کے صحیح فرمان کی موجودگی میں کسی شخص کی بات کا اعتبار نہیں
کہا جائے گا۔ (تذکرۃ
ج ۲ ص ۲۶۶)
تلامذہ:
علم و فضل میں
کمال کے سبب اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی شہرت و ناموری عطا فرمائی تھی امام الائمہ
ان کے نام کا جز بن گیا تھا آپ کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ استفادہ کرنے کے لیے
علماء و طلبہ کا ہجوم ہر وقت در دولت پر لگا رہتا تھا بڑے بڑے ارباب کمال دور دراز
سے آتے، استفادہ کرنے والوں کا قافلہ ہر وقت موجود رہتا اور اِربابِ ثروت بھی آپ
کا احترام کرتے تھے علامہ ابن سبکی بیان کرتے ہیں وہ مختلف علوم کے جامع اور مرتبہ
کمال پر فائز تھے نیشاپور میں جو علم و فن کا گہوارہ اور فضلاء و ارباب کمال کا
مرکز تھا یگانہ روزگار تھے ان کی علمی شان سب سے بالا و برتر تھی ان کے گرد طلبہ و
مستفیدین کا ہجوم رہتا تھا ان کے تلامذہ تمام روئے زمین میں نقل ہوتے تھے، حسنِ و
فطانت میں بے مثال تھے بحث و مباحثہ میں انہیں زیر نہیں کیا جا سکتا تھا وہ حقیقت
میں علم و فضل کا بحرِ زخار تھے جس سے تشنگانِ علوم سیراب ہوتے تھے ان کی اس علمی
ضیاء سے ایک عالم کو بصیرت حاصل ہوئی تھی علماء و اساطینِ فن بھی ان کی جانب رجوع
کرتے تھے ان کے فیض کا یہ حال تھا کہ وہ سمندر کی طرح اپنے قریب کے لوگوں کو موتی
اور جواہرات سے مالا مال کرتے تھے اور دور والوں کے لیے بارانِ رحمت کی طرح سامانِ
فیض فراہم کرتے تھے۔
(طبقات
الشافعیہ ابن سبکی ج ۲، ص ۱۳۰)
ان کے چند مشہور تلامذہ یہ ہیں: امام
بخاری، امام مسلم، محمد بن عبد اللہ بن حکم، احمد بن مبارک، ابوبکر احمد بن مہران
مقری، ابو حاتم محمد بن بالویہ، ابو علی نیشاپوری، ابو عمرو بن حمدان، اسحاق بن
سعید نسوی، محمد بن احمد بن نصیر، محمد بن فضل، ابراہیم بن ابی طالب، ابو عمرو بن
حمدان۔
(تذکرۃ
الحفاظ ج ۲، ص ۲۶۰)
مکارمِ اخلاق:
امام ابن خزیمہ
سچے سنت، زہد و عابد اور متقی پرہیز گار فقیہہ محدث تھے ان کی زندگی سنت رسول صلی
اللہ علیہ وسلم کے سانچے میں ڈھلی ہوئی تھی ابو بکر بن بالویہ کہتے ہیں امام ابن
خزیمہ سے کہا گیا کاش آپ حمام میں جاکر بال صاف کروا لیں فرمایا "لم یثبت
عندی ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دخل حماماً قط ولا حق شعرہ انما تاخذ شعری
جاریۃ لی بالمقراض" میرے نزدیک یہ ثابت نہیں ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ
علیہ وسلم کبھی حمام میں داخل ہوئے اور بال صاف کیے میری لونڈی قینچی سے میرے بال
تراشتی ہے۔
(تذکرہ
ج ۲ ص ۲۶۰)
آپ کی معاشرت بڑی سادہ اور تکلفات سے پاک
تھی معمولی رقم میں گزار اوقات کر لیتے تھے پہننے کے لیے صرف ایک ہی قمیص ہوتی جب
دوسری قمیص بنواتے تو پرانی کسی ضرورت مند کو دے دیتے لوگ کہتے کچھ زیادہ کپڑے
سواری اچھے طریقے سے اچھے لباس کے آرام و راحت کو حق خیال نہیں تو کل و قناعت کے
ساتھ سخاوت و فیاضی کا وصف بھی بیکراں تھا ان کے پوتے محمد بن فضل کہتے ہیں میرے
دادا کوئی چیز ذخیرہ نہیں کرتے تھے بلکہ سارا مال اہل علم پر خرچ کر دیتے بخل کرنا
بالکل نہیں جانتے تھے محتاجوں پر صدقہ
کرتے وقت دس بیس میں تمیز نہیں کرتے تھے۔ (ایضاً) وہ بے باک گو اور اعلانِ حق میں
بے باک اور جری و دماغ ہوئے تھے سلاطین و امراء کے روبرو بھی حق گوئی میں انہیں تامل نہ ہوتا تھا۔ ایک بار امیر اسماعیل بن احمد
سامانی نے اپنے والد کے واسطے سے ایک حدیث بیان کی جس کی سند میں ان کو وہم ہو گیا
تھا ابن خزیمہ بھی وہاں موجود تھے انہوں نے فوراً اس کی تصحیح کی جب واپس ہوئے تو
قاضی ابوذر نے بتایا کہ ہم لوگ بیس سال سے
یہ غلط روایت سنتے تھے مگر سچ کی جرات نہ ہوتی تھی ابن خزیمہ نے کہا میں رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں خطا و تحریف جان کر خاموش رہنا گوارہ نہیں کر
سکتا۔ (طبقات
الشافعیہ ج ۲، ص ۱۲۳)
علمِ حدیث کی برکت اسوہ رسول صلی اللہ علیہ
وسلم کے اتباع نے ان کے آئینہ ذات وصفات کو تجلی و مرکز بنا دیا تھا۔ اور علم ظاہر
و باطن کے امام و مقتدی بن گئے تھے ان کی ذات میں برکت و کرامت کا سرچشمہ بن گئی
تھی لوگ ان کی بزرگی و کرامت اور خیر و برکت کے قائل و معترف تھے ابو عثمان حیری
کا بیان ہے اللہ تعالیٰ ابن خزیمہ کی وجہ سے اہل نیشاپور سے بہت سی مصیبتیں دور
کرتا ہے۔ (تذکرہ ج ۲) محمد بن ہارون
طبری بیان کرتے ہیں کہ وہ اور محمد بن نصر المروزی محمد بن علویہ و زان اور محمد
بن اسحاق بن خزیمہ چاروں آدمی تحصیل علم و سماع حدیث کے لیے ربیع بن سلیمان کے پاس
گئے، وہاں ہم لوگوں کا ساز و سامان ختم ہو گیا مسلسل تین روز فاقوں میں بسر ہوئے
تو ہم نے آپس میں کہا ایسی حالت میں ہمارے لیے سوال کرناجائز ہے لیکن ہر شخص سوال
کرنے میں عار محسوس کرتا تھا اس لیے قرعہ اندازی کی گئی اتفاقاً قرعہ خزیمہ کے نام
نکلا انہوں نے کہا پہلے مجھے دو رکعت صلوٰۃ استخارہ پڑھ لینے دو ابھی وہ نماز میں
مشغول ہی تھے کہ کسی نے دروازہ پر دستک دی دروازہ کھولا گیا تو حاکم مصر احمد ابن
طولون کا خادم با اجازت کے اندر آیا اور سلام کرکے بیٹھ گیا پہر ایک پرزہ نکال کر
پوچھا محمد بن نصر کون ہیں؟ ہم نے ان کی طرف اشارہ کر دیا اس نے پچاس ہزار کی ایک تھیلی دی اور کہا امیر مصر نے
سلام عرض کیا ہے اور اخراجات کے لیے آپ کو یہ رقم پیش کی ہے ختم ہونے بعد مزید رقم
پیش کی جائے گی اسی طرح ہم چاروں کو تھیلیاں دے کر یہی پیغام پہنچایا ہم نے اس سے
کہا پہلے اس واقعہ کا سبب بتاؤ ورنہ ہم تھیلیاں قبول نہ کریں گے اس نے کہا آج
دوپہر میں امیر قیلولہ کر رہے تھے انہوں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص کہہ رہا ہے
کل خدا کے ہاں حاضر ہو کر کیا جواب دو گے جب وہ تم سے ان چاروں علماء کے بارے میں
سوال کرے گا جو تین روز سے بھوکے ہیں اس خواب سے امیر گھبرا کر اٹھ بیٹھے اور آپ
لوگوں کا نام لکھوا کر یہ تھیلیاں بھیجیں۔
(المنتظم
ابن جوزی ج ۶ ص ۱۸۵)
تصانیف:
امام ابن خزیمہ
باکمال کثیر التصانیف مصنف بھی تھے ابن کثیر نے لکھا ہے انہوں نے بے شمار کتابیں
تصنیف کیں امام حاکم کتاب علوم الحدیث میں فرماتے ہیں: "فضائل ابن
خزیمة مجموعة عندي في اوراق كثيرة و مصنفاته تزيد على مائة واربعين كتابا سوى
المسائل والمسائل المصنفة مائة جزء وله فقه حديث بريرة في ثلاثة اجزاء"
"امام ابن خزیمہ کے فضائل و مناقب میرے پاس بہت سے اوراق میں جمع ہیں مختلف
مسائل اور فتاویٰ کے علاوہ ان کی مصنفات کی تعداد ایک سو چالیس سے زائد ہے مسائل
اور فتاویٰ الگ سو جزء میں جمع کیے گئے ہیں۔ (تذکرہ
ج ۲ ص ۶۶)
امام ابن خزیمہ کا معمول تھا کہ تصنیف سے
پہلے وہ نماز استخارہ پڑھا کرتے تھے اگر استخارہ نکل آتا تو تصنیف کی ابتدا کرتے
ابو عثمان حیری کہتے ہیں: "حدثنا ابن خزيمة قال كنت اذا اردت ان اصنف
الشي دخلت في الصلاة مستخيرا حتى يقع لي فيها ثم ابتدائی " امام ابن
خزیمہ نے ہمیں بتایا جب میں کوئی کتاب تصنیف کرنا چاہتا تو پہلے نماز میں مصروف
ہوتا پھر دعا استخارہ کرتا اطمینانِ قلب حاصل ہونے پر لکھنا شروع کر دیتا تھا۔
(ایضاً) ان کی اکثر کتابیں ناپید ہو گئیں چند کتابوں کے نام یہ ہیں: فقہ حدیث
بریرہ، کتاب التوحید والصفات، صحیح ابن خزیمہ۔
صحیح ابن خزیمہ یہ آپ کی سب سے اہم کتاب ہے
جسے حدیث کی معتبر کتابوں میں شمار کیا جاتا ہے ثقہ علماء اس کی حدیثوں سے اخذ و
استفادہ کرتے ہیں ابن کثیر لکھتے ہیں:
"من انفع الكتب واجلها"
یعنی صحیح ابن خزیمہ نہایت مفید اور اہم کتابوں میں ہے۔ علامہ سیوطی نے بخاری و
مسلم کے بعد جن کتابوں کو زیادہ معتبر بتایا ہے ان میں کتبِ صحاح کے ساتھ اس کا
بھی ذکر کیا ہے وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ صحیح ابن خزیمہ کا مرتبہ صحیح ابن حبان سے
زیادہ ہے کیوں کہ ابن خزیمہ نے صحت کی جانب زیادہ توجہ کی ہے وہ ادنیٰ شبہ پر بھی
توقف سے کام لیتے ہیں ..... یہ صحت میں صحیح مسلم کے قریب قریب ہے۔
وصال :-
آپ کا وصال پر
ملال ۲
ذی قعدہ ۳۱۱ھ نیشا پور میں ہوا اور اپنے گھر میں ہی مدفون ہوئے۔
ماخذ مراجع: محدثین عظام حیات و خدمات
