سید غلام نصیر الدین نصیر گیلانی
ولادت :
14
نومبر 1949مطابق14 جمادی الاولی 1379 ہوئی ۔
نام : سید
غلام نصیر الدین نصیر گیلانی المعروف پیر نصیر الدین نصیر چشتی قادری گولڑوی،
حالات زندگی
آپ پیر
غلام معین الدین (المعروف بڑے لالہ جی) کے فرزند اور پير مہر علی
شاہ کے پڑپوتے تھے۔ آپ کی ولادت 14 نومبر 1949ء میں گولڑہ شریف میں
ہوئی۔ حضرت پیر سید نصیر الدین نصیرؒ اپنے والدِ محترم حضرت غلام معین الدین
المعروف بڑے لالہ جیؒ کے 1997ء میں وصال کے بعد مسندِسجادگی پر جلوہ افروز ہوئے۔
آپ گولڑہ شریف درگاہ کے سجادہ نشین تھے
خصوصیات:
آپ ایک شعلہ بیاں خطیب اور صوفی باصفا تھے، جنہیں "سلطان الشعراء"
بھی کہا جاتا تھا۔ ایک ممتاز صوفی بزرگ، عالم دین، خطیب اور قادر الکلام شاعر تھے۔
انہیں ان کی عربی، فارسی، اردو، پنجابی، ہندی، پوربی اور سرائیکی میں شاعری کی وجہ
سے "شاعر ہفت زبان" کہا جاتا ہے۔ وہ سلسلہ چشتیہ کے ممتاز پیر اور پیر
مہر علی شاہ کے پڑپوتے تھے۔ نصیر الدین نصیر، پیرمہر علی شاہ کے پڑ پوتےاور سیدغلام معین الدین گیلانی کےبیٹےتھے۔وہ سیدشاہ عبدالحق گیلانی کےبھتیجے
ہیں۔ آپ اردو، فارسی اور پنجابی زبان کے شاعر تھے۔ اس کے علاوہ عربی، ہندی، پوربی اور سرائیکی زبانوں میں بھی شعر کہے۔ اسی وجہ سے
انھیں"شاعر ہفت زبان" کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے اور آپ کو سلطان
الشعراء بھی کہا جاتاہے۔ انھوں نے اسلام، قرآن، آیت اور پیغمبر اسلام پر 36 کتابیں تصنیف کیں۔ ان کی فارسی
روباعیات ایران کی یونیورسٹیوں کی پڑھائی میں شامل ہیں۔ انھوں نے برصغیر اور بیرون ملک اسلام، محبت، امن، اتحاد
اور انسانیت کے پیغام کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا۔
خاندانی پس منظر:
آپ
گولڑہ شریف کی درگاہ کے سجادہ نشین اور پیر مہر علی شاہ کے پڑپوتے تھے۔ آپ کے والد
کا نام سید غلام معین الدین گیلانی تھا۔علمی و ادبی خدمات: انہوں نے اسلام، قرآن
اور شاعری پر 36 سے زائد کتابیں تصنیف کیں، جن میں نعت، منقبت، اور صوفیانہ کلام
شامل ہیں۔
وصال پر
ملال :
13 فروری 2009ء مطابق17
صفر 1430ھ59 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ انھیں دل کا شدید دورہ پڑا نجی
اسپتال منتقل کر دیا گیا طبی امداد فراہم کیے جانے سے پہلے ہی ان کا انتقال ہو گیا۔
مزار:
ان کا مزار گولڑہ شریف، اسلام آباد میں مرجع
خلائق ہے۔
