تاج الاسلام امام ابو سعد عبدالکریم سمعانی
نام: عبد الکریم
کنیت : ابو سعد
لقب : سمعانی
ولادت:
آپ کی
ولادت بمقام مرو ۲۱ شعبان ۵۰۶ھ میں ہوئی۔
نسب :
عبد
الکریم بن ابی بکر محمد بن ابی مظفر منصور بن محمد بن عبد الجبار بن احمد بن محمد
بن جعفر بن احمد بن عبد الجبار بن فضل بن ربیع بن مسلم بن عبد اللہ بن عبد الجبیب
تمیمی، سمعانی، مروزی۔ (وفیات
الاعیان ج ۲ ص ۱۰۰)
خاندان :
علمی و
دینی وجاہت کے لحاظ سے آپ کا خاندان مرو کا بڑا معزز اور محترم خاندان تھا۔ دادا
ابو المظفر منصور بن محمد (۴۲۶ھ ۴۸۹ھ) مرو کے عظیم فقیہ اور متبحر عالم تھے۔ آپ نے حلقۂ
درس قائم کیا۔ بحیثیت مفتی فتوے صادر کیے اور فقہ شافعی میں مفید کتابیں تصنیف کیں۔
فقہ کے علاوہ دوسرے علوم میں بھی آپ نے کتابیں لکھیں۔ جن میں منہاج اھل السنہ،
الانتصار، الرد علی القدریہ، القواطع، البرھان، الاوسط، الاصطلام تفسیر القرآن
مشہور ہیں۔
ابن
خلکان تحریر فرماتے ہیں: " امام عصرہ بلا مدافعة اقر لہ بذلک الموافق والمخالف"
"آپ بلا اختلاف اپنے وقت کے امام تھے اس کا اعتراف مخالف اور موافق سب نے کیا
ہے۔ (ایضاً)
والد
ابو بکر محمد بن منصور سمعانی (۴۶۶ھ ۵۱۰ھ) باپ ہی کی طرح زبردست عالم محدث اور فقیہ تھے۔ دل نشین
وعظ کہتے آپ کی عالمانہ عظمت کا سکہ دلوں پر بیٹھا ہوا تھا۔ حدیثیں بھی اس حسن سے
املا کرائیں کہ اس کی نظیر نہیں ملتی۔ آپ کی بلند پایہ علمی شخصیت کا تعارف ابن
خلکان ان الفاظ میں تحریر کرتے ہیں۔
"کان ابوہ
محمداً اماماً ، فاضلاً ، مناظراً ، محدثاً فقیھاً شافعیاً ، حافظاً و لہ الاملاء
الذی لم یسبق الیٰ مثلہ۔ تکلم علی المتون والاسانید وابان مشکلاتہا و لہ عدة
تصانیف"
"ان (ابو سعد سمعانی) کے باپ محمد امام، فاضل، مناظر، محدث، شافعی فقیہ، حافظ
حدیث تھے۔ انہوں نے حدیثوں کا ایسا املا کرایا کہ کوئی ان کے مثل نہ ہو سکا۔ حدیث
کے متن و سند پر کلام کیا اور ان کی مشکلات کو واضح کیا ان کی متعدد تصانیف ہیں۔
(ایضاً)
آپ کے صاحبزادے تحریر فرماتے ہیں:
"آپ ہوش
سنبھالتے ہی عبادت و ریاضت اور تحصیلِ علم میں مصروف ہو گئے تھے۔ ادب اور دیگر
فنون میں کمال پیدا کیا۔ فنِ حدیث، معرفتِ رجال، انساب اور تاریخ میں کوئی آپ کا
مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔ آپ کے فضل و کمال کے جوہر اس وقت کھلتے جب آپ مجالسِ وعظ
میں تخویف و تبشیر سے پتھروں کے دل پانی کر دیتے۔ آپ کے تقویٰ و پرہیزگاری کا سکہ
سلاطین اور اکابر کے دلوں پر بھی بیٹھا ہوا تھا"۔ (تذکرۃ
الحفاظ، ج ۴، ص ۶۱)
تحصیلِ علم:
امام
سمعانی اسی عظیم عالمِ دین کے فرزندِ ارجمند تھے جو اپنے بیٹے کو بھی اپنی ہی طرح
عظیم محدث، فقیہ، واعظ اور مصنف بنانا چاہتے تھے چنانچہ بچپن ہی سے آپ کی تعلیم و
تربیت پر خاص نہج سے توجہ دی گئی۔ جب آپ کی عمر تین سال کی ہوئی تو والدِ گرامی آپ
کو ساتھ لے کر نیشاپور گئے جہاں مشہور محدث شہر ویہ کے حلقۂ درس میں شریک کیا اسی
طرح وہ اپنے فرزند کو وقت کے اہم محدثین کی خدمت میں لے جاتے۔ سماعِ حدیث کراتے
اور سند بھی دلواتے تھے لیکن ابھی آپ کی عمر ساڑھے تین سال کی ہوئی تھی کہ والد کا
سایہ سر سے اٹھ گیا۔ اگرچہ خاندان میں چچا اور دوسرے افراد آپ کی علمی تربیت کے لیے
کافی تھے مگر والد نے بوقتِ رحلت اپنے رفیقِ مشہور عالم امام ابو اسحق ابراہیم بن
محمد مروزی (م ۵۳۴ھ) کو آپ کی تعلیم و تربیت کے لیے وصیت فرمائی۔
والد
کے وصال کے بعد آپ نے مرو کے شیوخ و اساتذہ سے مروجہ علوم و فنون کی تحصیل کی مگر
کم سنی کی وجہ سے دوسرے ملکوں اور شہروں کے سفر کی خاندانی سرپرستوں نے اجازت نہ دی۔
اگرچہ علمِ حدیث کی تحصیل کا شوق بچپن ہی سے پیدا ہو گیا تھا اور عمر کے ساتھ اس
شوق میں اضافہ ہوتا رہا۔ بالآخر ۵۳۰ھ میں جب عمر ۲۴ سال کی ہوئی طلبِ حدیث کے لیے نیشاپور کا سفر کیا وہاں
سے واپسی کے بعد مشرق سے مغرب تک شمال سے جنوب تک بے شمار شہروں کا سفر کیا جن میں
قومس، خراسان، رے، اصفہان، بلادِ جبال، عراق، حجاز، موصل، جزیرہ، شام، ماوراء
النہر، بخارا، سمرقند اور بلخ خصوصیت کے ساتھ قابلِ ذکر ہیں۔ ابنِ خلکان لکھتے ہیں:
آپ نے ان علمی رحلات میں جتنے شیوخ اور اساتذہ سے کسبِ
علم کیا اس کی صحیح تعداد معلوم کرنا تواز بس دشوار ہے، بن خلکان لکھتے ہیں "
وكان عدة
شيوخه تزيد على اربعة آلاف شيخ" ان کے شیوخ کی تعداد چار ہزار سے زائد ہے۔ (ایضاً)
ابن
نجار کہتے ہیں "
وسمعت من يذكر ان عدد شيوخه سبعة آلاف شيخ وهذا شئ لم يبلغه احد" میں
نے بہت سے لوگوں سے سنا ہے کہ آپ کے شیوخ اور اساتذہ کی تعداد سات ہزار افراد تک
پہنچی تھی اور یہ وہ تعداد ہے کہ آپ کے سوا اتنے شیوخ سے استفادہ کا موقع کسی کو
کم ہی ملا ہو گا۔ (تذکرۃ
الحفاظ ج ۴ ص ۱۰۷)
شیوخ و اساتذہ :
شیخ عبدالغفار
بن محمد شیرازی، عبید بن محمد قشیری، ابو منصور محمد بن علی ناقلہ کراعی، ابو
عبداللہ فراوی، زاہر شحامی، حسین بن عبدالملک خلال، سعید بن ابی الرجاء، ابوبکر
محمد بن عبدالباقی انصاری، عمر بن ابراہیم علوی، ابوالفتح مصیصی۔ (ایضاً)
علم و فضل:
امام
سمعانی نے جس انہماک، شوق اور وقت نظر سے علومِ اسلامی کی تحصیل کی تھی اس کا لازمی
نتیجہ اور اثر یہ ہوا کہ آپ مرو کے بے نظیر عالم و محدث ہو گئے۔ فقہ، حدیث، ادب میں
آپ کا پایہ کافی بلند تھا۔ حافظ ذہبی لکھتے ہیں:
"الحافظ البارع
العلامة تاج الاسلام ........... صاحب التصانيف" حافظ ذہبی
گرامی عالم اور بہت سی کتابوں کے مصنف ہیں۔ (ایضاً)
حافظ
ذہبی: " وكان
ذكيا فهما سريع الكتابة مليحا درس وافتى ووعظ واملى وكتب عمن دب ودرج وكان ثقة
حافظا حجة واسع الرحلة عدلا دينا جميل السيرة حسن الصحبة كثير المحفوظ"
آپ بڑے ذہین اور تیز فہم تھے۔ آپ کی تحریر بہت خوش خط اور خوش نما ہوتی تھی اور
لکھنے میں سبک رفتار تھے۔ عرصہ تک درس و تدریس اور فتویٰ نویسی میں مصروف رہے وعظ
بھی کیا کرتے تھے اور حدیث کی املا بھی کرایا کرتے تھے آنے جانےوالے مشاہیر سے علمی
فوائد لکھ لیا کرتے تھے۔ ثقہ حافظ اور حجت تھے۔ حصولِ علم کے لیے آپ کے سفر کا
دائرہ بہت وسیع تھا۔ راست گو اور دیانت دار تھے۔ آپ کی سیرت بے داغ تھی۔ دوستوں کے
ہمدرد اور خیر خواہ تھے۔ علم کا وسیع ذخیرہ اپنے قلب و دماغ میں محفوظ رکھتے تھے۔
(ایضاً)
ابن خلکان: ”کان ابوسعد واسطة عقد البيت السمعانی وعينہم الباصرة
ويدہم الناصرة والیہ انتہت رياستہم وبہ کملت سيادتہم“ ابو سعد
خانوادۂ سمعانی کے علمی سلسلے کی اہم کڑی اور ان کے دیدہ ور فرداوروان کے معاون دست و بازو تھے۔ اور آپ پر
ان لوگوں کی علمی ریاست کا خاتمہ ہوگیا اور آپ کے ذریعہ ان کی علمی سیادت کی تکمیل
ہوئی۔ (وفیات ج۲ص۱۰۰)
ابن عساکر: آپ بڑے بااخلاق ملنسار اور عفیف تھے آپ بلا
شرکتِ غیر فقیہ خراسان تھے۔ (سیر اعلام النبلاء ج۲۰ص۴۶۰)
علامہ سبکی: ابو سعد محدث مشرق تھے۔ (طبقات
الشافعیہ ج۴ص۲۵۹)
حلقۂ درس:
ابو سعد سمعانی
علمِ حدیث اور فقہ میں بڑا اونچا مقام رکھتے تھے وہ تحصیل علم کے بعد اپنے والد
اور دادا کی علمی قلمرو کے تاجدار بنے۔ حلقۂ درس قائم کیا۔ اہل حاجت کے دینی وعلمی
استفسارات کے جوابات دیئے، شائقینِ علم کو اپنے علم سے مالا مال کیا اور لوگوں کے
اصلاح اور تزکیہ باطن کے لیے مجلسوں میں مؤثر وعظ کہے۔ اس طرح آپ کی ذات عوام و
خواص کا مرجع بن گئی تھی۔ شیوخ کی طرح تلامذہ کی تعداد بھی کافی ہے ۔
تلامذہ :
صاحب زادے عبد
الرحیم مفتی مرو، حافظ ابو القاسم بن عساکر، قاسم بن ابن عساکر، عبدالوہاب بن سکینہ،
عبدالغفار بن منتیا، ابو روح عبدالمعز بن محمد ہروی، ابوالضوء شباب شزیانی، افتخاری
عبدالمطلب حلبی، ابو الفتح محمد بن محمد صائغ، ابو الفتوح خفاف بغدادی۔ (تذکرہ ج۴ص۱۰۸)
تصانیف:
امام سمعانی
بلند مقام صاحبِ قلم مصنف بھی تھے۔ درس وتدریس، افتاء اور وعظ کی مصروفیات سے جب
فارغ ہوتے کتابوں کی تصنیف وتالیف میں اپنا قیمتی وقت صرف کرتے۔ ابن خلکان لکھتے ہیں:
"صنف التصانيف
الحسنة الغزيرة الفائدة" انہوں نے عمدہ، مفید کتابیں تصنیف کیں۔ (وفیات
الاعیان ج ۲ ص ۱۰۰)
حافظ
ذہبی نے ۴۷ کتابوں کا نام تذکرۃ الحفاظ میں درج کیا ہے۔ اور علامہ یمامی
نے ۵۳ کتابوں کا ذکر کیا ہے، جن میں تذہیل، تاریخ بغداد، تاریخ
مرو، الانساب، التعبیر فی المعجم الکبیر، معجم البلدان، معجم الشیوخ، ادب الطلب،
تحفۃ المسافر، عز العزلۃ، المناسک، فوائد الموائد، وفیات المتاخرین، الامالی الخمس
مائۃ، الامالی، تقدیم الجفان الی الضیفان، الصدق فی الصداقۃ، الربح فی التجارۃ۔
الانساب:
یہ
امام سمعانی کی بہت اہم اور مشہور کتاب ہے۔ یہ فن انساب لفظیہ کی سب سے پہلی جامع
کتاب ہے۔ علامہ ابن اثیر فرماتے ہیں کہ اگر کوئی کہے کہ "ان هذا
تصنيف لم يسبق اليه لكان صادقا، ولو زعم انه قد استقصى الانساب لكان بالحق ناطقا"
"یہ ایسی کتاب ہے کہ اس سے قبل اس طرح کی کوئی تالیف نہیں کی گئی ہے۔ تو اس
کا کہنا درست ہوگا اور اگر دعویٰ کرے کہ انہوں نے سارے انساب کو جمع کر دیا ہے تو
حق بجانب ہوگا۔ نیز فرمایا کہ مؤلف کتاب نے اس میں ایسی چیزیں پیش کی ہیں جس سے
پہلے کے لوگ عاجز رہے اور بعد کے لوگ اب ایسا نہیں کر سکتے۔ علامہ ابن اثیر لکھتے
ہیں کہ "امام سمعانی نے اس میں مختلف قسم کے انساب کا ذکر کیا ہے۔ (اللباب في تهذيب الانساب ۱/۸)
خواہ
وہ نسبت قبائل اور اس کے فروع کی جانب ہو، یا آباؤ اجداد کی جانب ہو، یا مذاہب اور
تحریکات کی جانب ہو یا مقامات و وطن کی جانب ہو یا صنعت و حرفت کی جانب ہو۔ یا
صفات و عیوب کی جانب ہو اس طرح سے یہ فن انساب میں ایک حسین گلدستہ ہے"۔ (ایضاً)
امام
سمعانی کتاب کا سبب تالیف اس طرح بیان کرتے ہیں: "میں فن کی تلاش و جستجو میں
سرگرداں و حیران رہتا تھا۔ لیکن پیری میں ہمیشہ یہ کوشش رہتی تھی کہ ان نسبتوں اور
ان کی حقیقت کے بارے میں ماہرین انساب سے معلومات حاصل کروں اور جو معلومات ملتی
تھیں۔ ان کو جمع کرتا جاتا تھا ۔ ایک مرتبہ اپنے پیشوا اور استاذ محترم ابو شجاع
بسطامی سے ملاقات ہوئی تو آپ نے ان انساب پر ایک منظم مجموعہ تیار کرنے کی ترغیب
دلائی تو میں نے ۵۵۰ھ سے مقام سمرقند میں یہ کام کرنا شروع کر دیا۔"۔
(الانساب
للسمعانی ج ۱ ص ۴)
کتاب
حروف معجم کی ترتیب پر بڑی مہارت اور دقت نظر سے لکھی گئی ہے۔ ترجمہ میں نسبت کی
وضاحت کے بعد مذکورہ شخص کی حالات و سیرت کا ذکر کیا ہے جس میں صاحبِ ترجمہ کے
اساتذہ و تلامذہ، مولد و وفات کے ساتھ ساتھ علماء کے اقوال کا بھی ذکر کیا ہے۔۔
کتاب کی
ابتدا میں ایک بسیط مقدمہ تحریر کیا ہے۔ جس میں انساب کی معرفت اور اس کے حصول کے
لیے کتاب وسنت کی روشنی میں ترغیب دلائی گئی ہے۔ پھر رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم
کے حسب و نسب کا ذکر کیا ہے اس کے بعد ایک فصل بنی ہاشم کے حسب و نسب کے لیے اور ایک
فصل قریش کے لیے مختص کیا ہے۔ پھر اہل عرب کے حسب و نسب اور کچھ مشہور قبائل جیسے
قحطان، کلان، قضاعہ، وغیرہ کا تذکرہ کیا ہے بعدازاں اصل کتاب شروع ہوتی ہے۔
(مقدمہ کتاب ج اص ۶۳)
کتاب کی
اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کے مختصرات بھی تحریر کیے گئے ہیں جن میں علامہ ابن
اثیر جزری م ۶۳۰ھ نے اللباب فی تہذیب الانساب میں اس کا اختصار کیا ہے،
علامہ قطب الدین صمد بن محمد خضیری شافعی م ۸۹۴ھ نے بھی
اپنی کتاب اللکتاب میں اس کا خلاصہ نقل کیا ہے۔
وفات :
امام
سمعانی کی وفات ان کے وطن مرو ٥٧٦ ھ میں ہوئی ۔
تدفین :
قبرستان ”سنجداب“ میں سپرد خاک کیے گئے۔
ماخذ مراجع: محدثین عظام حیات و خدمات
