امام یحییٰ بن سعید قطان
نام : یحییٰ
لقب: تمیمی
،
ولادت:
آپ کی ولادت ١٢٠ ھ بصرہ میں ہوئی ۔
حافظ الحدیث امام جرح وتعدیل یحییٰ بن سعید قطان کا نسبی
تعلق احرارِ عرب سے تھا۔ آپ کے دادا فروخ بنو تمیم کے آزاد کردہ غلام تھے اسی نسبت
سے تمیمی کہلائے جاتے ہیں۔
یحییٰ بن سعیدقطان نے جس ماحول میں آنکھ کھولی تھی وہ
قال اللہ وقال الرسول کے غلغلوں سے معمور تھا۔ قدرت نے انہیں حفظ وضبط کی بے مثال
قوت سے نوازا تھا۔ وہ بے شمار احادیث کے حافظ تھے۔ کتاب سامنے رکھ کر حدیث بیان نہ
کرتے تھے۔ بڑے بڑے ائمہ حدیث آپ کی قوتِ حفظ وضبط کے قائل تھے۔
سلیمان بن اشعث نے ایک دفعہ امام احمد سے پوچھا کہ یحییٰ
آپ کو اپنے حافظہ سے روایت سناتے تھے؟ فرمایا ہم نے ان کے پاس کتاب نہیں دیکھی اور
وہ ہماری کتاب کی طویل حدیثیں پڑھ دیا کرتے تھے۔
بعض
اوقات محدثین امتحان کی غرض سے حدیثوں کو گڈ مڈ کر کے ان کے سامنے بیان کرتے۔
یحییٰ بن سعید بلا تامل سقمِ روایت اور تدلیس کی نشاندہی کر کے حدیث کو صحیح صحیح
بیان فرما دیا کرتے تھے۔ یحییٰ بن سعید کا بیان ہے:
ایک مرتبہ امام سفیان ثوری نے سونے چاندی کے برتن میں
پانی پینے سے متعلق حدیث اس سند کے ساتھ بیان کی عن عبید اللہ عن نافع عن ابن
عمرمیں نےعرض کی اے ابو عبداللہ (سفیان) یہ آپ پر زیادہ آسان تھا کہ کہتے ’’حدثنا
عبید اللہ عن نافع عن یزید بن عبد اللہ بن عبد اللہ بن عبد الرحمن عن ام سلمہ‘‘ تو امام ثوری نے مجھ سے فرمایا کہ تم نے سچ کہا۔
(تہذیب التہذیب
ج ۱۱ ص ۱۹۱)
ابن مہدی کا بیان ہے کہ ایک بار مجھ سے حضرت سفیان نے
فرمایا تم کوئی ایسا آدمی لاؤجس سے میں حدیث میں مذاکرہ کروں، یہ حضرت یحییٰ بن
سعید کو لے کر پہنچ گئے۔ دونوں میں دیر تک مذاکرۂ حدیث ہوتا رہا جب یحییٰ گھر
تشریف لے گئے تو سفیان نے مجھ سے کہا کہ ابنِ مہدی میں نے تم سے کوئی انسان لانے
کو کہا تھا لیکن تم بجائے انسان کے ایک جن لے آئے ۔ حافظ ذہبی واقعہ نقل کرنے کے
بعد لکھتے ہیں "اندهش سفيان من حفظه" سفیان
ثوری نے حضرت یحییٰ کے غیر معمولی حافظہ سے مرعوب ہو کر یہ فرمایا تھا۔ (تذکرہ ج
۱ ص ۲۷۶)
شیوخ :
سلیمان تیمی، حمید الطویل، اسماعیل بن ابی خالد، عبید
اللہ بن عمرو، یحییٰ بن سعید انصاری، ہشام بن عروہ، عکرمہ بن عمار، یزید بن ابی
عبید، ابان بن صمعہ، ابن حلیم، جعفر بن محمد بن علی بن حسین، جعفر بن میمون اعمش،
حسین معلم، ابن جریج، اوزاعی، مالک، ابن عجلان، ابو صخر، حمید بن زیاد، حسن بن
ذکوان، حاتم بن ابی صغیرہ، خثیم بن عراک، سلیم بن حیان، شعبہ، سفیان ثوری، ابن ابی
عروبہ، سیف بن سلیمان، عبداللہ بن سعید بن ابی ہند، عبدالحمید بن جعفر، عبدالملک
بن ابی سلیمان، عثمان بن غیاث، عثمان اسود، عبید اللہ بن اخنس، عوف الاعرابی،
عمران قصیر، قرہ بن خالد، فضیل بن غزوان، یزید بن کیسان، مثنیٰ بن سعید ضبیعی۔ (تہذیب ج
۱۱ ص ۱۹۰)
حدیث:
علمِ حدیث میں یحییٰ بن سعید کو امتیازی شان حاصل تھی وہ
درجۂ امامت پر فائز تھے۔ عراق میں حدیث کا عام رواج انہیں کی ذات سے ہوا۔ انہوں نے
رواۃ کی تنقید اور جرح وتعدیل کا خاص اہتمام کیا۔ پھر جو راوی ثقہ ثابت ہوئے ان کی
مرویات کو رائج کیا اور جو لوگ ضعیف ثابت ہوئے ان کو ترک کر دیا۔
امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں: "ما رأيت
احدا اقل خطأ من يحيى بن سعيد" میں نے یحییٰ بن سعید سے کم خطا کرنے والا کسی کو
نہیں دیکھا۔
عجلی فرماتے ہیں: "كان تقى الحديث
لا يحدث الا عن ثقة" یحییٰ کی حدیثیں بڑی صاف ستھری ہوتی تھیں اور وہ
بجز ثقات کے کسی اور سے روایت نہیں کرتے تھے۔ (تذکرہ
الحفاظ ج ۱ ص ۲۷۵)
تلامذہ :
محمد بن یحییٰ بن سعید، حفید، احمد بن محمد، احمد، اسحق،
علی بن مدینی، یحییٰ بن معین، عمرو بن علی فلاس، مسدد، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابو خیثمہ،
بشر بن حکم، صدقہ بن فضل، ابو قدامہ سرخسی، عبداللہ بن عمر قواریری، بندار، ابو
موسیٰ، یعقوب دورقی، محمد بن ابی بکر مقدمی، ابو کامل، جحدری،
شعبہ، سفیان، معتمر بن سلیمان، عبدالرحمن بن مہدی۔ (تہذیب ج ۱۱ ص ۱۹۰)
تقویٰ
اور خشیت الہی:
یحییٰ بن سعید قطان جتنے عظیم عالم تھے اتنے ہی زیادہ خدا
ترس، عبادت گزار اور پیکرِ زہد و اتقاء بھی تھے۔ قرآن حکیم سے حد درجہ شغف تھا۔ یحییٰ
بن معین کہتے ہیں۔ یحییٰ قطان کا بیس سال تک معمول رہا ہے کہ وہ ہر رات قرآن کریم
ختم کرتے تھے۔ (تذکرہ
ج ۱ ص ۲۷۵)
یحییٰ بن معین کا بیان ہے "کان یحییٰ اذا
قری القرآن عندہ سقط حتی یصب وجہہ الارض" جب یحییٰ بن سعید کے پاس قرآن پڑھا جاتا تو بیہوش
ہو کر گر جاتے اور ان کا سر زمین سے لگ جاتا۔ (ایضاً)
علی بن مدینی کا بیان ہے کہ ایک بار ہم لوگ یحییٰ کی مجلس
میں بیٹھے ہوئے تھے کسی نے سورۃ دخان کی تلاوت شروع کی جوں جوں وہ پڑھتا جاتا ان
پر رقت طاری ہوتی جاتی تھی جب وہ اس آیت ان یوم الفصل۔۔۔ پر پہنچا تو ان کا جسم
لرزنے لگا اور وہ بیہوش ہو گئے کچھ دیر بعد جب افاقہ ہوا تو ان کی زبان پر یہی آیت
تھی۔ (صفوۃ
الصفوۃ ج ۳ ص ۲۷۷)
کمال عبدیت یہ ہے کہ انسان خوشی اور غم، صحت اور مرض ہر
حال میں خداوند تعالیٰ کی رضا اور اس کی مشیت پر صابر و شاکر رہے اس لحاظ سے یحییٰ
پیکرِ تسلیم و رضا اور مجسمہ صبر و وفا تھے مرض الموت میں کسی نے کہا خدا آپ کو
صحت عطا فرمائے فرمایا میں اپنے لیے وہی پسند کرتا ہوں جو اللہ عزوجل میرے لیے
پسند کرتا ہے۔
وصال:
78
سال کی عمر پاکر ١٩٨ ھ میں وصال فرمایا۔
ماخذ مراجع، محدثین عظام حیات و خدمات
