ابو سعید
امام یحی بن ذکریا بن ابی زائدہ
نام : یحی
کنیت : ابو سعید
والد کا نام: زکریا اپنے دادا ابو زائدہ کی نسبت سے مشہور ہیں۔
ولادت :
آپ کی ولادت محمد
بن مبشر سے ولاء کا تعلق رکھتے تھے کوفہ
میں 120 ھ ہوئی ۔
سلسلۂ نسب:
یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ میمون بن فیروز ہمدانی الکوفی
کوفہ اس زمانہ میں علم وفن کو زبر دست مرکز تھا جہاں کے چپہ چپہ سے علم وفضل کی شعاعیں
پھونتی تھیں ، آپ کے والد زکریا خود صاحب علم اور محدث تھے یحی کو علم کی مناسبت وراثت
میں ملی تھی۔
تعلیم :
یحی ایک محدث وفقیہ کے فرزند تھے اس لیے ابتدا ہی سے اپنے
والد کے زیر سایہ علمی ماحول میں پروان چڑھے حضرت زکریا اپنے فرزند کو بڑا عالم
بنانا چاہتے تھے یحی بن یونس کا بیان ہے میں نے زکریا بن ابی زائدہ کودیکھا کہ
اپنے صغر سن بچے یحی کو مجالد بن سعید کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئے ۔
فطری صلاحیت والد کی تربیت اور کوفہ کی علمی فضا سے پورا پورا
فائدہ اٹھایا اور علم وفضل میں اتنا کمال پیدا کیا کہ وقت کے ممتاز شیوخ میں شمار
کیے جانے لگے ۔آپ حافظ احادیث اور فقیہ ثقہ ، متدین ،متورع،متقن اور ان فضلاء میں
شمار کئے جاتے تھے جنہوں نے فقہ حدیث کو جمع کیا امام ابو حنیفہ کے جو چالیس اصحاب
تدوین کتب میں مشغول تھے ۔ان میں سے آپ عشرۂ متقد مین میں داخل تھے ۔یحییٰ بن معین
کہتے ہیں کہ ابن عباس زمانے میں علم ابن عباس پر منتہیٰ ہوا،پھر لعبی پھر ثوری پھر
یحییٰ بن ابی زائد پوان کے عہد پر منتہیٰ ہوا۔
اساتذہ کرام
زکریا بن ابی زائدہ، اعمش، ابن عون، عاصم احول، ہشیم بن عروہ،
یحی بن سعید انصاری، داؤد بن ابی ہند، حارثہ بن ابی رجال، اسماعیل بن ابی خالد،
عبدالرحمن بن غسیل، حسین بن حارث جدلی، عکرمہ بن عمار، عبداللہ بن عمر عمری، ابو
مالک اشجعی، حجاج بن ارطاۃ، اسرائیل، عبدالملک بن حمید بن ابی غنیۃ، مسعر، ہاشم بن
ہاشم بن عتبہ بن ابی وقاص، موسی جہنی۔ (تہذیب التہذیب ج11ص
183)
فضل کمال
یحی بن ابی زائدہ علم وفن میں امتیازی شان کے مالک تھے حدیث
ان کا خاص میدان تھا اس باب میں ان کی رفعت وبلندی کا اعتراف بڑے بڑے ائمہ حدیث نے
کیا ہے۔
علی بن مدینی:لم یکن بالکوفۃ بعد
سفیان الثوری اثبت منہ۔۔۔ انتھی
العلم الی یحی بن ابی زائدۃ فی زمانۃ‘‘ سفیان ثوری کے بعد کوفہ
میں ان (یحی) سے زیادہ پختہ کار کوئی
نہیں تھا۔ یحی بن ابی زائدہ کے زمانہ میں علم ان پر ختم ہوگیا۔ (تذکرہ ج1ص
247)
نیز فرمایا کرتے تھے ابن عباس
اپنے زمانہ میں تھے ان کے بعد حضرت شعبی اپنے عہد میں علم کے مرکز قرار پائے پھر
سفیان ثوری کا عہد آیا وہ امام وقت ہوئے اسی طرح یحی بن ابی زائدہ اپنے زمانہ میں
علم کے منتہی تھے ۔(تاریخ بغداد ج14 ص 115)
تصانیف:
یحی بن ابی زائدہ محدثین کوفہ میں سب سے پہلے امام فن ہیں
جنہوں نے حدیث میں تصنیف کی۔ خطیب بغدادی ، سمعانی، علامہ ابن حجر اس امر پر متق
ہیں۔ ’’ھو اول من صنف الکتب بالکوفۃ‘‘ یحی پہلے شخص ہیں جنہوں نے کوفہ میں کتابیں
تصنیف کیں۔ یعقوب بن شیبہ کہتے ہیں یحی ثقہ حسن الحدیث تھے لوگ کہتے ہیں وہ کوفہ
کے اولین صاحب تصنیف بزرگ تھے۔ (تہذیب ج11ص 184)
آپ کا اندازہ تصنیف اس قدر مقبول ہوا کہ دوسرے ائمہ فن نے ان کی
تفاسیر میں کتابیں لکھیں، حضرت وکیع نے اپنی کتابوں میں حضرت یحی کی کتابوں کی پیروی
کی ہے ۔ عجلی کہتے ہیں ۔ ’’وکیع انما صنف کتبہ علی کتب یحی
بن ابی زائدہ‘‘امتداد زمانہ کی وجہ سے ان کی تصانیف آج ناپید ہوچکی ہیں ابن ندیم نے ان کی ایک کتاب ، کتاب
السنن کا ذکر کیا ہے۔
فقہ وافتاء:
حضرت یحی حدیث کی
طرح فقہ میں بھی کمال رکھتے تھے امام اعظم سے استفادہ کیا تھا وہ حنفی فقہ کے جرعہ خوار تھے اس لیے وہ عام محدثین
کی طرح محض عطار ہی نہیں طبیب بھی تھے انہیں استنباط واستخراج مسائل کا ملکہ بھی تھا
ایک بار امام عجلی کے سامنے یحیی بن ابی زائدہ کا ذکر آیا انہوں نے فرمایا حضرت
یحی کے والد زکریا بن ابی زائدہ ثقہ تھے ان کے فرزند یحی بھی ثقہ ہیں اور یہ دونوں
باپ بیٹے ان اکابر امت میں سے ہیں جو حدیث
وفقہ دونوں کے جامع تھے۔
(تاریخ
بغداد ج14 ص 116)
حسن بن ثابت ایک بار حضرت یحی
ابن ابی زائدہ سے ملاقات کرکے واپس ہوئے تو انہوں نے بیان کیا ک میں کوفہ کے سب سے
بڑے فقیہ یحی بن ابی زائدہ کے پاس مہمان تھا۔ (تہذیب ج11 ص 183)
ابن حجر ساری مقدمۂ فتح
الباری میں لکھا ہے کہ ابن مدینی کہتے ہیں کہ کوفہ میں بعد ثویر کے کوئی آپ سے
زیادہ اثبت نہ تھا اور نسائی نے آپ کو ثقہ حجت کہا ہے۔ خطیب نے تاریخ بغداد میں لکھا ہے آپ بیس سال تک
برابر یومیہ دن رات قرآن شریف کا ختم کرتے رہے۔آپ نے بغداد میں آکر مدت کت تحدیث
کی اور آپ سے امام احمد اور ابن معین اور قتیبہ اور حسن بن غرقہ اور ابو بکر بن
ابی شیبہ نے روایت کی۔ عبد الرحمٰن رازی سے روایت ہے کہ آپ ہی نے کوفہ میں پہلے
ایک مسند بھی آپ نےجمع کی اور
وصال پر ملال:
خلیفہ ہارون رشید کے زمانہ میں آپ کے ثبت فی الحدیث اور تفقہ میں
کمال کے باعث مدائن کے قضا کا عہدہ پیش کیا گیا جسے آپ نے قبول بھی کرلیا مگر عمر
نے وفا نہ کی اور عہدہ قضا پر ماموری کے زمانہ ہی میں ماہ جمادی الاولی ترانوے سال کی عمر ۱۸۴ھ میں شہر مدائن وصال فرمایا ۔ سال وفات آپ
کا لفظ ’’یگانۂ زمانہ ‘‘ہے۔
(حدائق الحنفیہ)
(ماخذ مراجع : محدثین عظام کی حیات وخدمات)
