امام حافظ ابو عمر یوسف ابن عبد البر مالکی قرطبی
نام: یوسف
عرف : ابن عبدالبر
کنیت: ابو
عمر
لقب : نمری
اور قرطبی
ولادت:
شہر قرطبہ میں آپ کی ولادت ۲۵ ربیع الآخر ۳۶۸ھ
میں ہوئی۔
سلسلہ نسب:
یوسف بن عبد اللہ بن محمد بن عبد
البر بن عاصم۔
آپ کا خاندانی
تعلق قبیلہ نمر بن قاسط کے ساتھ تھا جن کا تعلق قبیلہ عدنان سے ہے۔ وطن اندلس کا
پایہ تخت قرطبہ تھا اسی لیے نمری اور قرطبی کہلائے ۔
دولتِ ہسپانیہ کی
راجدھانی قرطبہ اس زمانہ میں علم وفضل کا بڑا مرکز تھا علمی دنیا میں وہ اس وقت
بغداد ومصر نیشاپور کا ہم پلہ سمجھا جاتا تھا آپ کے والد عبداللہ بن محمد قرطبہ کے
فقیہ اور صاحب فضل وکمال تھے مگر ان کا وصال ۳۸۰ھ
ہی میں ہو گیا اور ابن عبدالبر ان سے زیادہ فیض حاصل نہ کر سکے ۔ انہوں نے معارف پرور
شہر میں آنکھیں کھولیں اور بچپن ہی سے غیر معمولی شوق وانہماک کے ساتھ طلبِ علم میں
مصروف ہو گئے اور اپنے شہر کے اکابر علم وفن کی بارگاہوں سے خوب فیض پایا۔ طلبِ
علم کے غرض سے دانیہ، اشیون، مشترین، ملبنیہ، شاطبہ تشریف لے گئے ۔
شیوخ :
ابوزکریا الاشہری،
ابوسعید نصر، ابوعمر احمد بن حسور، احمد بن فتح الرسان،احمد بن قاسم بزار، حسین بن
یعقوب، خلف بن سہل، ابوالقاسم خلف بن قاسم، سعد بن نصر، سعید بن قزاز، ابو زید
عبدالرحمٰن بن یحییٰ، عبداللہ بن محمد جہنی، ابو محمد عبداللہ بن محمد بن
عبدالمومن، عبداللہ محمد بن عبدالملک بن ضیفون، عبدالوارث بن سلیمان، یحییٰ بن وجہ
الحیۃ ۔
(تذکرہ
ج۳ ص ۳۰۶)
آپ نے علم فقہ وحدیث
کے علاوہ دوسرے علوم وفنون میں بھی امتیازی شان پیدا کی غسانی کہتے ہیں: ”طلب ولزم
ابا عمر احمد بن عبدالملک الفقیہ ولزم ابا الولید بن الفرضی و ذاب فی طلب الحدیث
والفتن به و برع براعة فاق بها من تقدمه من رجال الاندلس وكان مع تقدمه فی علم
الاثر وبصره بالفقه والمعانی وله بسطة كبيرة فى علم النسب والاخبار“ ”وہ
طلب علم کے لیے نکلے اور فقیہ ابو عمر احمد بن عبدالملک اور ابو الولید بن فرضی کے
حلقۂ درس میں شریک ہوئے حدیث اور اس کے متعلقہ فنون کی تحصیل میں برابر مصروف رہے
حتیٰ کہ ان میں کمال پیدا کیا اور اندلس کے تمام سابق علماء سے گوئے سبقت لے گئے
آپ کو علم حدیث میں تقدم اور علم فقہ و معانی میں بصیرت حاصل ہونے کے ساتھ علم
الانساب اور علم الاخبار میں بھی پوری دسترس حاصل تھی۔
(تذکرہ
ج۳ ص ۳۰۷)
فضل وکمال:
متذکرہ بالا بیان
سے ظاہر ہو چکا ہے کہ حافظ ابن عبدالبر علماء اندلس میں امامت و امتیاز کے مقام
بلند پر فائز تھے مشرق میں جو امتیاز خطیب بغدادی کو حاصل تھا وہی حیثیت آپ کو
مغرب میں حاصل تھی ان کے علمی مرتبہ اور کمال کا اعتراف اکابر علماء اسلام نے کیا
ہے حافظ ذہبی نے احد الاعلام اور صاحب شذرات نے العلامۃ العلم لکھا ہے سمعانی کہتے
ہیں وہ جلیل القدر امام فاضل تھے۔
ابن خلکان: ”امام عصرہ
فی الحدیث والاثر وما یتعلق بھما“ ”وہ اپنے زمانہ میں حدیث و اثر اور ان سے
متعلقہ علوم میں امامت کا درجہ رکھتے تھے۔ (وفیات
الاعیان ج۳ ص ۴۳۵)
ابوالولید باجی: ”لم یکن
بالاندلس مثل ابی عمر ابن عبدالبر فی الحدیث ابو عمر احفظ اهل المغرب“
اندلس میں کوئی محدث ابو عمر ابن عبدالبر جیسا علم حدیث میں نہ تھا۔ ابو عمر اہل
مغرب میں سب سے بڑے حافظ حدیث تھے۔ (ایضاً)
حافظ ذہبی: ”الامام
شیخ الاسلام حافظ المغرب“ ” آپ امام، شیخ الاسلام اور مغرب کے بہت
بڑے حافظ تھے۔
حمیدی: "ابو عمر
فقیہ حافظ مکثر عالم بالقرأت وبالخلاف وبعلوم الحدیث والرجال"
ابو عمر فقیہ، حافظ اور بکثرت حدیث جاننے والے تھے قرأت، خلاف اور علم الرجال کے
ماہر تھے۔ (ایضاً ص ۲۰۹)
حافظ ذہبی: "ساد اهل
الزمان في الحفظ والاتقان..... كان دينا صينا ثقة حجة صاحب سنة واتباع"
حفظ اور ضبط حدیث میں اپنے زمانہ کے سردار بن گئے..... آپ دیانت دار، عیب سے دور
رہنے والے ثقہ حجت اور متبع سنت تھے۔ (ایضاً
ص ۳۰۶ ، ۳۰۸)
ابن حزم:
"فقہ حدیث میں آپ کی طرح گفتگو کوئی نہیں کر سکتا تھا چہ جائے کہ آپ سے بہتر
کوئی ہوتا"۔
(سیر
اعلام النبلاء ج ۱۸ ص ۱۵۸)
شاہ عبدالعزیز
لکھتے ہیں: "بعض مورخین نے یہ لکھا ہے کہ اندلس سے باہر نہیں گئے۔ سوائے ان
ستر عالموں کے جو اس زمانہ میں یکتا تھے اور کسی کو نہیں دیکھا اور نہ ان کے سوا
کسی اور سے علم حاصل کیا۔ اس کے باوجود ان کا علم خطیب، بیہقی اور ابن حزم سے کسی
طرح کمتر نہیں ہے۔ بلکہ بعض چیزیں ان کے پاس ایسی تھیں جو دوسروں کے پاس نہیں ہیں"۔
(بستان المحدثین ص۱۱۴،۱۵)
فن حدیث میں کمال:
حافظ ابن عبدالبر
اگرچہ اپنے زمانہ کے جملہ علوم متداولہ سے اشتغال رکھتے تھے مگر علم حدیث میں ان
کو کمال و امتیاز حاصل تھا امام ابو عمر ابن عبدالبر اہل مغرب میں سب سے بڑے حافظ
تھے۔
صاحب دیباج: وہ علماء اندلس کے شیخ اور
محدث کبیر تھے۔
غسانی: "سمعت ابن
عبد البر يقول لم يكن احد ببلدنا مثل قاسم بن محمد واحمد بن خالد الحباب (قلت) لم
يكن ابن عبدالبر بدونهما ولا متخلفا عنهما" ابن
عبدالبر کہتے تھے ہمارے شہر میں قاسم بن محمد ابو احمد بن خالد حباب جیسا کوئی
عالم نہیں ہے میں (غسانی) کہتا ہوں کہ امام ابن عبدالبر ان سے کمتر نہ تھے۔
(تذکرہ ج ۳ ص ۳۰۷)
حافظ ذہبی: "واجاز له
من مصر المسند ابو الفتح بن سخيت والحافظ عبد الغني ومن مكة ابو القاسم عبيد الله
بن السقطي وساد اهل الزمان في الحفظ والاتقان" آپ کو مصر
سے مسند ابو الفتح بن سخیت اور حافظ عبدالغنی نے اور مکہ معظمہ سے ابوالقاسم عبید
اللہ بن سقطی نے اجازت دی اس طرح آپ حفظ و ضبط حدیث میں اپنے اہل زمانہ کے سردار
بن گئے ۔ (ایضاً) ان کے علوے اسناد سے بھی ان کے کمال کا پتہ چلتا ہے تمام محدثین
نے ان کی اس خصوصیت کا ذکر کیا ہے۔
امامتِ فن کی طرح
علوئے اسناد کا بھی ان پر خاتمہ ہو گیا اس بنا پر کہا جاتا ہے کہ "وكان سنده
مما يتنافس فيه"
یعنی ان کی سندیں اس قابلِ رشک ہوتی ہیں ان کے عوالی اسناد میں ابو داؤد کی سنن
اور زعفرانی کی کتاب کا خصوصیت کے ساتھ ذکر کیا جاتا ہے کیوں کہ ان کے اور ان مصنفین
کے درمیان صرف دو ہی واسطے ہیں۔
حافظ ذہبی لکھتے ہیں:
"قلت
اعلى ماعنده كتاب الزعفراني سمعه من ابن صيفون انا ابن الاعرابي عنه وسنن ابى داؤد
سمعه من ابن عبدالمؤمن انا ابن داسهۃعن المؤلف وانتهى اليه مع امامته علو الاسناد"
میں کہتا ہوں آپ کو کتاب الزعفرانی اور سنن ابی داؤد نہایت اعلیٰ سندوں کے ساتھ
حاصل ہوئی ہیں۔ پہلی کتاب کا آپ نے ابن صیفون سے انہوں نے ابن الاعرابی سے اور
انہوں نے مؤلف سے سماع کیا ہے اور دوسری کتاب کا عبدالمؤمن سے انہوں نے ابن داسہ
سے اور انہوں نے امام ابو داؤد سے سماع کیا ہے اس طرح آپ امامت کے ساتھ علوّ اسناد
کے بھی حامل ہیں۔ (تذکرۃ
الحفاظ ج ۳ ص ۲۰۸)
جرح وتعديل:
حافظ ابن عبدالبر
فن اسماء الرجال کے بھی امام تھے۔ اس سلسلہ میں آپ کی کتاب "الاستيعاب
في معرفة الاصحاب" "الاستغناء في معرفة الكنى" بہت مشہور
ہیں جن پر امتِ مسلمہ کا اعتماد ہے۔
جرح وتعدیل اور
نقدِ رجال میں آپ کو بڑی مہارت حاصل تھی ابو عبداللہ حمیدی کہتے ہیں کہ آپ حافظِ
وقت، علومِ حدیث اور رجال کی معرفت، قرآن اور اختلافات کا علم رکھنے والے تھے۔
امام محمد بن عبدالباقی زرقانی فرماتے ہیں
وہ حدیث و رجال کے عالم تھے اس سلسلہ میں حافظ ذہبی کا بیان اوپر گزر چکا ہے۔
انہوں نے مؤطا کی جو شرح فرمائی ہے اس سے
ان کی حدیث و جرح وتعدیل دونوں میں مہارت کا پتہ چلتا ہے آپ نے متن وسند کی تصحیح،
مرسل ومسند کی تمیز، موصول و منقطع میں تفریق، ضعفاء اور ثقات میں امتیاز کیا۔
فقہ:
حافظ عبدالبر
ابتداء میں ظاہری تھے مگر بعد میں انہوں نے فقہ مالکی کا اتباع کیا وہ علم فقہ میں
بھی بڑی وسیع نظر رکھتے تھے مسائل میں ان کی ژرف نگاہی مشہور ہے ائمہ فن نے ان کی
فقہی جلالت کا اعتراف کیا ہے۔ ابو علی غسانی فرماتے ہیں ہمارے استاذ حافظ ابن
عبدالبر قرطبی نے اپنے وطن میں فقہ کی تحصیل کی اور اس میں نمایاں قابلیت و بصیرت
پیدا کی اور مشہور فقیہ ابو عمر احمد بن عبدالملک بن ہاشم اشبیلی کی صحبت اختیار کی
اور ان سے مسائل کی تحصیل کی (ایضاً) وہ فقہی کمالات کی بناء پر درجۂ اجتہاد پر
فائز تھے حافظ عبدالحی کتانی لکھتے ہیں : وہ ائمہ مجتہدین کے مقام و مرتبہ پر فائز
تھے اور مالکی ہونے کے باوجود بعض مسائل میں دوسرے ائمہ کے ہم نوا اور بعض میں
منفرد رائے رکھتے تھے۔ (الابھاج)
فقہ میں جامعیت و
کمال کی وجہ سے وہ اشبیون اور مشترین کے قاضی رہے۔ حدیث و فقہ کے علاوہ قراءت و
تفسیر ، تاریخ، انساب، آثار و اخبار، ادب و عربیت ، شعر و شاعری میں بھی کامل
مہارت و دستگاہ رکھتے تھے۔
تلامذہ:
حافظ ابن عبدالبر
کی ذات علمی کمالات اور اہم تصانیف کے باعث مرجع خلائق تھی آپ سے علم حاصل کرنے
والوں کی بہت بڑی تعداد ہے ذیل میں اہم تلامذہ کے نام درج کیے جاتے ہیں:
ابو العباس دلائی ، ابو عبداللہ حمیدی ،
ابو محمد بن ابی قحافه ، ابو احمد جعفر بن جحاف ، ابو علی حسین بن احمد غسانی ،
ابو بحر سفیان بن عاصی ، ابو داؤد سلیمان بن ابی القاسم مقری ، ابو الحسن ظاہر بن
منصور، محمد بن فتوح انصاری۔ (تذکرہ
ج ۳ ص ۲۰۸)
تصانیف:
حافظ ابن عبدالبر
مایہ ناز مصنف تھے انہیں تصنیف و تالیف سے فطری لگاؤ تھا انہوں نے اپنی گراں قدر
مصنفات سے اسلام کے علمی خزانہ کو زینت بخشی ۔ آپ کی بلند پایہ مفید علمی و تحقیقی
کتابوں کو قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ علامہ ابن خلکان تحریر فرماتے ہیں
"وكان
مؤلفا فی التالیف معافا علیہ ونفع اللہ به"
(وفیات الاعیان ج ۳
ص ۴۴۶)
تصنیف و تالیف میں
توفیق الہی اور تائید ایزدی ان کے شامل حال تھی اللہ تعالیٰ نے ان کی کتابوں سے
بڑا فائدہ پہونچایا۔ علامہ ابن حزم فرماتے ہیں ان کی کتابیں مختلف حیثیتوں سے اہم
اور بے مثال ہیں۔ حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں ابن عبدالبر عمدہ اور عظیم الشان کتابوں
کے مصنف تھے۔ علامہ کتانی کا بیان ہے وہ عدیم النظیر مصنف تھے ان کی تصنیفات کو بڑی
شہرت و مقبولیت حاصل ہوئی۔
ان کی کتابیں یہ ہیں:
(۱) البستان
فی الاخذان
(۲) البیان عن تلاوۃ القرآن
(۳) اخبار
ائمۃ الامصار
(۴) اختصار
تاریخ احمد بن سعید
(۵) اختصار
التحریر
(۶) اختصار
التمیزبمسلم
(۷) کتاب
اختلاف اصحاب مالک بن انس
(۸) کتاب
الاستظہار فی حدیث عمار
(۹) کتاب
الشواہد فی اثبات خبر الواحد
(۱۰) کتاب
الفرائض
(۱۱) کتاب المدخل فی القرآت
(۱۲) فہرست الشیوخ
(۱۳) کتاب
جمرۃ الانساب
(۱۴) الاحتیال بمانی شعر ابی العتاہیۃ
(۱۵) العجوبہۃ الموعبۃ
(۱۶) کتاب
العقل والعقلاء
(۱۷) کتاب
الکنی
(۱۸) کتاب
الاکتفاء
(۱۹) کتاب
الدرر فی اختصار المغازی والسیر
(۲۰) بهجۃ
المجالس (۲۱) کتاب الکافی
(۲۲) القصد والامم
(۲۳) الانباہ
علی قبائل الرواۃ
(۲۴) الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب
(۲۵) الانصاف فیما فی بسم اللہ من الخلاف
(۲۶) الانتقاء فی فضائل الثلاثۃ الفقہاء
(۲۷) جامع بیان العلم وفضلہ
(۲۸) کتاب
الاستذکار
(۲۹) التغطاء
فی حدیث الموطا
(۳۰) التقصىٰ فی حدیث الموطا
(۳۱) تجرید
(۳۲) التمہید
فی الموطا من المعانی والاسانید۔
ذیل
میں چند کتابوں کا تعارف پیش کیا جاتا ہے:
موطا امام مالک کی شروح:
انہوں نے مؤطا
امام مالک کی کئی شرحیں لکھی تھیں۔ (الف) کتاب الاستذکار۔ یہ مصنف کی عظیم الشان
شرح تمهید کا خلاصہ ہے اور اسی کی طرح شروحِ حدیث میں کافی اہم ہے۔ شاہ عبدالعزیز
محدث دہلوی لکھتے ہیں:
ان کی کتاب الاستذکار مؤطا کی بہترین شروح
میں سے ہے اور مؤطا کی تنسیق ابواب میں استادی دکھائی ہے یہ کتاب کافی ضخیم ہے اگر
بخط جلی لکھی جائے تو تیس جلدیں ہوں گی اور اگر بخط خفی لکھی جائے تو پندرہ جلدیں
ہوں گی۔
الاستیعاب في معرفۃ الاصحاب:
یہ بڑی مفید اور
اہم کتاب ہے یہ کتاب بھی حافظ عبدالبر کی شہرہ آفاق کتاب ہے اسے اہل علم نے بڑی
قدر و منزلت سے دیکھا اس میں ۳۵۸۵ صحابہ
کرام کے حالات ومناقب بیان کیے گئے ہیں اس موضوع پر لکھی جانے والی کتابوں میں کافی
اہمیت کی حامل ہے ابن اثیر جزری لکھتے ہیں صحابہ کے حالات میں بے شمار کتابیں لکھی
گئی ہیں مگر سب میں جامع ابن مندہ ابو نعیم اور ابن عبدالبر قرطبی کی کتابیں ہیں
ان کی مصنفات عمدہ اور سعی بلیغ کا نتیجہ ہیں۔
دوسرے محدثین کی طرح ابن مندہ اور ابو نعیم
کی کتابیں بھی امتدادِ زمانہ سے معدوم ہو گئیں مگر ابن عبدالبر کی کتاب موجود ہے
اور اس سے آج تک اہل علم کا استفادہ جاری ہے۔
وصال:
آپ کو شدید آزمائش
و ابتلاء سے بھی دوچار ہونا پڑا وہ قرطبہ چھوڑ کر مغرب کے دوسرے علاقوں میں چلے
گئے اسی غریب الوطنی اندلس کے ایک شہر شاطبہ میں بعمر ۹۵
سال ربیع الآخر ۴۶۳ھ میں انتقال فرمایا۔
ماخذ مراجع، محدثین عظام حیات و خدمات
