/ Friday, 04 April,2025


آنکھیں ہیں کہ نور کے کٹورے





چشمِ کرم ترجمان

آنکھیں ہیں کہ نور کے کٹورے
صہبائے طہور کے کٹورے
ہیں جام مئے سرور کے دو
روشن ہیں چراغ نور کے دو
دل بولا یہ دفعتہً مچل کے
دو پھول ہیں خندن زن کنول کے
محرابِ حرم کے درمیاں دو
ضو بار حسیں کنول ہیں دیکھو
کس درجہ لطیف ہے سیاہی
پر نور حسیں پتلیوں کی
کہتا ہے یہ صاف رنگِ اسود
پلکیں ہیں غلافِ سنگِ اسود