اے شگفتہ شگفتہ گُلِ پنجتن، مولوی شاہ مفتی ریاض الحسن
اے نسیمِ ریاضِ حسین و حسن، مولوی شاہ مفتی ریاض الحسن
عالمِ نکتہ رس، ماہرِ علم و فن، مولوی شاہ مفتی ریاض الحسن
تجھ سا لائیں کہاں سے اب اہلِ وطم، مولوی شاہ مفتی ریاض الحسن
مسندِ اقتدارِ شریعت پہ تو، رفعتِ آسمانِ فضیلت پہ تُو
گو کہ خاکِ لحد پر ہے تیرا بدن، مولوی شاہ مفتی ریاض الحسن
رخصتی آپ کی الاماں الاماں، ہر براتی کی آنکھوں میں سیلِ رواں
جیسے میکے سے سُسرال جائے دلہن، مولوی شاہ مفتی ریاض الحسن
یہ محمد[1]؎ علی ہیں، یہ مفتی[2]؎ خلیل، سب کے سب زینتِ بزمِ میلاد ہیں
آج تم کیوں نہیں رونقِ انجمن، مولوی شاہ مفتی ریاض الحسن
نغمۂ جانفزا نَمْ کَنَوْمِ الْعُرُوْس، سُن کے آسودہ ہیں آپ تو چین سے
اور ہم ہیں یہاں وقفِ رنج و محن، مولوی شاہ مفتی ریاض الحسن
مسندِ اَوج تم نے کہاں پائی ہے؟ کس مبارک[3]؎ مہینے میں موت آئی ہے
دُھل کے زمزم[4]؎ سے آیا تمہارا کفن، مولوی شاہ مفتی ریاض الحسن
آشنا ہم ہیں تیری تفاسیر سے، دِل مُنورّ ہیں تیری تقاریر سے
تیری آواز کانوں میں ہے نغمہ زن، مولوی شاہ مفتی ریاض الحسن
دامنِ اختؔرِ بے نوا بھر دیا، آپ نے کامِل علم دفن کر دیا
آپ پر دائما رحمتِ ذوالمنن، مولوی شاہ مفتی ریاض الحسن
حضرت مولانا محمد علی رضوی، ممبر قومی اسمبلی ۱۲[1]
حضرت مفتی محمد خلیل خاں صاحب مدظلہ، دار العلوم احسن البرکات ۱۲[2]
[3] برادرِ گرامی کا وصال ۲۷ رمضان المبارک کا روزہ افطار فرمانے کے بعد اٹھارہویں تراویح پڑھ کر ہوا ۱۲
[4]کئ جگہ سے کفن آئے جو زمزم شریف سے دُھلے ہوئے تھے مگر الحاج مولانا سید محمد علی صاحب رضوی(ممبر قومی اسلمبلی) کے مدینہ طیبہ سے لائے ہوئے اور آبِ زمزم سے ڈوبے ہوئے کفن سے ملبوس کر کے آپ کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کیا گیا ۱۲ اخترالحامدی