قول ہے یہ ابو قتادہ کا
کہ جنابِ نبیﷺ نے فرمایا
تم نہ ہوگے ہلاک، اے لوگو!
کھول لاؤ میرے پیالے کو
آپ نے یہ کہا تھا اُس ہنگام
آخرِ شب جہاں کیا تھا مقام
شبِ تعریس اُس کو ہیں کہتے
آخرِ شب تھی وہ جہاں اُترے
اور وہ رات جب تمام ہُوئی
روزِ روشن کو صبح دکھلائی
دوپہر بھی ڈھلی جب اُس دن کی
آپ نے جب یہ بات فرمائی
اِس خبر میں رہا جو رہا ہے اِجمال
اُس کا شارح نے یوں لکھا ہے حال
یعنی تشریف آپﷺ جب لائے
پھر کے جنگِ تبوک سے آئے
تھا ترقی پہ موسمِ گرما
اور اُس سر زمیں میں آب نہ تھا
واں ہُوا جب زوالِ نصف ِ نہار
لوگ بولے کہ، اے شہِ ابرارﷺ!
ہم یہاں اب ہلاک ہوتے ہیں
تشنہ کامی سے جان کھوتے ہیں
تب وہاں آپﷺ نے یہ فرمایا
اور پیالے کو اپنے منگوایا
تھا کجاوے میں جو کسا کاسہ
پیشِ حضرتﷺ وہ لا رکھا کاسہ
آپ نے پھر وضو کے برتن سے
ڈالا کاسے میں آب کچھ لے کے
پھر اُٹھا کر وہ کاسۂ پُر آب
لبِ جاں بخش سے کیا سیراب
خواہ پانی پیا و یا نہ پیا
یا کہ کچھ اُس کے درمیاں پھونکا
اُس میں پھر اِس قدر رہا پانی
سارے لشکر نے پھر پیا پانی
ایسا راوی نے یاں کیا اظہار
آدمی فوج میں تھے تیس ہزار
اور کہتے ہیں یہ بھی اہلِ خبر
تھا وہ ستّر ہزار کا لشکر
سب کے سب کو پلا کے آپﷺ نے آب
عینِ اعجاز سے کیا سیراب
دیکھتا کیا ہے مدح کاؔفی
عرض کر کچھ صفاتِ مصطفویﷺ
اے تباشیرِ سحر عکسِ رخِ تابانِ تو
آبِ حیوانِ رشحۂ آبِ لبِ خندانِ تو
؟؟؟ طُفیلِ خاکِ پایت رونقِ باغِ جناں
گُلشنِ ایجادِ برگے از بہارستانِ تو
حَبَّذَا صَلِّ عَلٰی اے گیسوے خیر الورا
رشکِ اذفر نفحۂ از جنبشِ دامانِ تو
از تجلّیِ رخت خورشید باشد لمعۂ
؟؟؟ فض ؟؟؟ از دست نور افشانِ تو
؟؟؟ عالم از بہارِ حسن تو باشد گلی
؟؟؟ نوح منقش از نگارستانِ تو
اے نگاہت جو ہرِ آئینۂ نورِ یقیں
دیدۂ اہلِ بصیرت ہر زماں قربانِ تو
اے وجودت آفتابِ آسمانِ معرفت
صد جہانِ اہلِ عرفاں روشن از عرفانِ تو
رحم کن رحمی نما اے رحمۃ للعالمیں
اے کلیدِ رحمتِ حق درکفِ احسانِ تو
درد دارم دردِ سر از لطف بخشا یک نظر
اے شفائے دردِ من وابستۂ درمانِ تو
صد جہاں عاصی بَہ میدانِ شفاعت روزِ حشر
کم ز گو ئی درمیانِ عرصۂ جولانِ تو
می کند ابلاغِ تسلیم و سلامِ بے شمار
بندۂ کاؔفی بَہ روحِ پُر فُتوحِ جانِ تو
ہم بَہ روحِ عترتِ اطہار و اہلِ بیتِ تو
ہم بَہ جانِ پاکِ اصحابِ معظّم شانِ تو
بر امیدِ آں کہ بعد از روزگارِ بشنوم
یک جواب از لعل سیرابِ لبِ خندانِ تو