عائشہ سے ہُوا ہے یوں مروی
کہ حقیقت یہ ایک دن گزری
کہ جنابِ نبیﷺ بَہ وقتِ سحر
لائے تشریف صبح دم باہر
آپ اوڑھے ہُوئے تھے ایک گلیم
تھی منقّش گلیم با تکریم
قسم مو کی گلیم والا تھی
کہ عجب نقش دار و زیبا تھی
پھر جو آئے حسن علی کے پسر
لے لیا اُس گلیم کے اندر
پھر حسین ابنِ حیدر ِ کرّار
آئے، اُن کو بھی لے لیا اک بار
؟؟؟ بنتِ رسول
لائے تشریف واں بَہ حُسنِ قبول
لے لیا اُس کے بیچ اُن کو بھی
اپنے پہلو میں آپ نے جا دی
بعد اِس کے جو مرتضیٰ آئے
اُن کو بھی اُس گلیم میں لائے
پھر پڑھا آپ نے اِس آیت کو
اُن کی ثابت کیا طہارت کو
یعنی اللہ کو یہ ہے منظور
کہ وہ تم سے کرے نجاست دور
پاک تم کو گناہ سے کر دے
دور عصیاں کے راہ سے کر دے
تم کو اے اہلِ بیتِ پیغمبر
کر دے اللہ طاہر و اطہر
کاؔفیِ مدح خوانِ آلِ عبا
اب غزل پڑھ بَہ شانِ آلِ عبا
اہلِ بیتِ احمدِ مختارﷺ کی کیا شان ہے
اُن کی ذاتِ پاک گویا کشتیِ طوفان ہے
دامنِ آلِ نبیﷺ دستِ یقیں میں جس کے ہے
ساحلِ مقصود اُس کے واسطے آسان ہے
اقتدا و اتّباع آلِ رسول اللہ کا
مومنوں کو مغفرت کا کیا بڑا سامان ہے
جو محبِّ اہلِ بیتِ سیّدِ کونینﷺ ہے
واسطے اُس کے بہار و روضۂ رضوان ہے
عفّت و عصمت، طہارت، پارسائی، اتّقا
شان میں اُن کے تمامی لائق و شایان ہے
کیوں نہ ہو اُس کو اماں خورشیدِ محشر سے؟؟؟
جس کے سر پر حُبِّ اہلِ بیت کا دامان ہے
آیتِ تطہیر جن کے وسطے نازل ہُوئی
وہ جنابِ مصطفیٰﷺ کی آل والا شان ہے
ہم کو، اے کاؔفی! محبّت عترتِ اَطہار کی
دین ہے، اسلام ہے، ایمان ہے، عرفان ہے