/ Friday, 04 April,2025


اللہ رے وہ حسین پیکر





سراپائے مبارک

اللہ رے وہ حسین پیکر
جس پہ ہو نثار ماہِ انور
کیا نورِ نگاہِ آمنہ﷝ کا
بے مثل ہے دلنشیں سراپا
رعنائیاں خلد کی سمٹ کر
انساں کی ہیں شکل میں زمیں پر
یہ منظر گلستانِ قدرت
ہے پیشِ نظر بشد کی صورت
ہے شکلِ بشر، سوا بشر سے
انسان، مگر جُدا بشر سے
واللہ ہے کیا حسیں سراپا
ہے ظلِّ خدا حسیں سراپا
صورت گرِ دوجہاں کا مظہر
ہے ذاتِ عیاں نہاں کا مظہر