/ Friday, 04 April,2025


اشکوں کا دریا





در منقبت حضور مفتیٔ اعظم علیہ الرحمہ

--------------

چل دیئے تم آنکھ میں اشکوں کا دریا چھوڑ کر

رنج فرقت کا ہر اک سینہ میں شعلہ چھوڑ کر

 

لذت مے لے گیا وہ جام و مینا چھوڑ کر

میرا ساقی چل دیا خود مے کو تشنہ چھوڑ کر

 

ہر جگر میں درد اپنا میٹھا میٹھا چھوڑ کر

چل دیئے وہ دل میں اپنا نقش والا چھوڑ کر

 

جامۂ مشکیں لئے عرشِ معلی چھوڑ کر

فرش پر آئے فرشتے بزمِ بالا چھوڑ کر

 

عالمِ بالا میں ہر سو مرحبا کی گونج تھی

چل دیئے جب تم زمانے بھر کو سونا چھوڑ کر

 

موتِ عالِم سے بندھی ہے موتِ عالَم بے گماں

روحِ عالَم چل دیا عالَم کو مردہ چھوڑ کر

 

متقی بن کر دکھائے اس زمانے میں کوئی

ایک میرے مفتیٔ اعظم کا تقویٰ چھوڑ کر

 

خواب میں آکر دکھائو ہم کو بھی اے جاں کبھی

کون سی دنیا بسائی تم نے دنیا چھوڑ کر

 

ایک تم دنیا میں رہ کر تارک دنیا رہے

رہ کے دنیا میں دکھائے کوئی دنیا چھوڑ کر

 

اس کا اے شاہِ زمن سارا زمانہ ہوگیا

جو تمہارا ہوگیا سارا زمانہ چھوڑ کر

 

رہنمائے راہِ جنت ہے ترا نقشِ قدم

راہِ جنت طے نہ ہوگی تیرا رستہ چھوڑ کر

 

مثلِ گردوں سایۂ دستِ کرم ہے آج بھی

کون کہتا ہے گئے وہ بے سہارا چھوڑ کر

 

ہوسکے تو دیکھ اخترؔ باغِ جنت میں اسے

وہ گیا تاروں سے آگے آشیانہ چھوڑ کر

٭…٭…٭