/ Friday, 04 April,2025


بارِ عشقِ احمدی، کؔافی! اُٹھانا چاہیے





حدیثِ ششم

 عَنِ عَبْدِاللہِ بْنِ ھُشَّامٍ رَّضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  قَالَ کُنَّا معَ النَّبِیٍّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ وَ ھُوَ اَخَذَ بِیَدِ عُمَرَبْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ لَہٗ عُمَرُ یَا رَسُوْلَ اللہِ اَنْتَ اَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ کُلِّ شَیْءٍ اِلَّا نَفْسِیْ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ حَتّٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْکَ مِنْ نَفْسِکَ فَقَالَ لَہٗ عُمَرُ فَاِنَّہُ الْاٰنَ وَاللہِ لَاَنْتَ  اَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ نَفْسِیْ فَقَالَ النَّبِیُّ عَلَیْہِ السَّلَامُ الْاٰنَ یَا عُمَرُ۔

 راویِ خوش کلام ابنِ ہشام
خادمِ بارگاہِ خیرِ انام
اِس روایت کو ہے رواں کرتا
اور یہ حال ہے بیاں کرتا
عاشقانہ کلام کرتا ہے
یہ سخن دل میں کام کرتا ہے
کہ ہمراہِ سرورِ عالَم
یعنی تھے ایک روز حاضر ہم
اس گھڑی عین مرحمت کے ساتھ
تھے وہ پکڑے ہُوئے عمر کا ہاتھ
بختِ فاروق تھا بلندی پر
اور معراجِ ارجمندی پر
کیا ہی رتبہ عمر کو حاصل تھا
دست دستِ نبی سے واصل تھا
دستگیرِ خلائقِ عالَم
ساتھ اُس یار کے تھے گرم کرم
جس گھڑی یہ عمر نے دیکھا حال
یہ عنایات اور یہ افضال
بَہ جنابِ نبی حبیبِ خدا
اپنی اُلفت کا حال عرض کیا
کہ مجھے آپ سے یہ اُلفت ہے
اور اس طرح کی محبّت ہے
کہ بجز ذاتِ سیّدِ ابرار
کوئی محبوب اب نہیں زنہار
دوست اب تم سوا نہیں کوئی
کچھ محبّت پر اپنی جان سے ہے
جب عمر نے یہ حال عرض کیا
سَرورِ انبیا نے فرمایا
کہ نہیں کام ایسی الفت سے
اور مطلب نہ اس محبّت سے
ہے قسم ذاتِ کبریائی کی
دستِ قدرت میں جس کے جاں ہے مِری
مجھ سے اِس درجہ چاہیے اُلفت
اور اُس درجہ ہو مِری چاہت
کہ مجھے اپنی جان سے بہتر
تو سمجھتا رہے مدامِ عمر
جب کہ فاروق نے یہ حال سنا
خاتمِ انبیا سے عرض کیا
کہ محبّت کا حال ایسا ہے
اب عمر آپ کا یہ شیدا ہے
ہے خدائے کریم کی سوگند
اپنے ربِّ رحیم کی سوگند
کہ مجھے آپ سے جو اُلفت ہے
اپنی جاں سے نہ وہ محبّت ہے
دوست تر تم جاں سے رکھتا ہوں
اپنی روح و رواں سے رکھتا ہوں
آپ نے سن کے اِس حقیقت کو
یوں کہا اُس ر
ہینِ اُلفت کو
کہ بس اب یہ جو حال تیرا ہے
میری اُلفت سے تجھ کو بہرہ ہے

  

غزل در نعت شریف

 

بارِ عشقِ احمدی، کؔافی! اُٹھانا چاہیے
گر نہیں یہ غم تو غم سے مر ہی جانا چاہیے
جب کہ ٹھہری عَینِ ایماں حبِ محبوبِ خدا
اپنے ایماں کو بھلا پھر کیا چھپانا چاہیے
دین و ایمان آپ کی اُلفت سے ہوتا ہے حصول
طالبِ ایمان کو یہ باتیں سنانا چاہیے
ہیں کدھر وہ منکرانِ الفتِ خیرالبشر
بے تمیزوں کو ذرا مجھ تک بُلانا چاہیے
شاید آجائیں طریقِ راستی پر بے ادب
درسِ عشقِ مصطفائی کو سنانا چاہیے
جس کو کچھ بہرہ نہیں حُبِ شہِ ابرار سے
اُس کو جھوٹا دعوی الفت میں جانا چاہیے
قول یہ میرا نہیں ، قولِ شہِ اَبرار سے
مخبرِ صادق کے فرما نے کو مانا چاہیے
کچھ بھی گر دل میں تمھارے خواہشِ ایمان ہے
ہر بشر سے آپ کو محبوب جانا چاہیے
جان و دل قرباں کرو حُبِ شہِ اَبرار میں
مغفرت کے واسطے کچھ بھی ٹھکانا چاہیے
گر رضائے حق تعالیٰ دوستو! منظور ہے
نقشِ حُبِ احمدی دل پر بٹھانا چاہیے
روئے اطہر جو ہے والا
حَبَّذَا صَلِّ عَلٰی
ایسے محبوبِ خدا پر دل لگانا چاہیے
شاہدِ اَخلاقِ حضرت آیتِ خُلقِ عظیم
وَالضُّحٰی وصفِ رخِ پُر نور جانا چاہیے
واصفِ چشمِ مبارک آیتِ
مَا زَاغ ہے
وصفِ گیسو سورۂ
وَاللَّیْل جانا چاہیے
جانِ احمد کی خدائے پاک نے کھائی قسم
ہم کو سوگندِ نبی کیوں کر نہ کھانا چاہیے
یاد کر لطفِ تبسّم سیّدِ کونین کا
دل یہی کہتا ہے ہر دم مسکرانا چاہیے
سیریِ کاؔفی نہیں ممکن ہے نعتِ پاک سے
عندلیبِ زار کو گُل کا فسانا چاہیے