بے مثل ہے رات بھی سحر بھی
حیران ہے حسن کی نظر بھی
دلہن کی طرح سجی ہوئی ہیں
دونوں ہی بنی ٹھنی ہوئی ہیں
ہیں پیکرِ لاجواب دونوں
ہر چھب میں ہیں کامیاب دونوں
دونوں کے یہ دل میں آرزو ہے
دونوں کو بس ایک جستجو ہے
ہوں مجھ میں حبیب جلوہ افگن
تقدیر ہو آفتابِ روشن