/ Friday, 04 April,2025


بے مثل ہے رات بھی سحر بھی





بے مثل ہے رات بھی سحر بھی
حیران ہے حسن کی نظر بھی
دلہن کی طرح سجی ہوئی ہیں
دونوں ہی بنی ٹھنی ہوئی ہیں
ہیں پیکرِ لاجواب دونوں
ہر چھب میں ہیں کامیاب دونوں
دونوں کے یہ دل میں آرزو ہے
دونوں کو بس ایک جستجو ہے
ہوں مجھ میں حبیب جلوہ افگن
تقدیر ہو آفتابِ روشن