بینی ہے کہ ہے ’’الِف‘‘ خدا کا
یا آخری حرف مصطفیٰﷺ کا
ہے کتنا لطیف استعارہ[1]؎
کہئے اسے گر الِف اشارہ
کونین کا یعنی ہے خدا ایک
اور اس کا حبیبِ باصفاﷺ ایک
محبوبِ خدا ہوا نہ ہوگا
دنیا میں بشر کوئی بھی ایسا
اوّل ہیں یہی، یہی ہیں آخر
باطن ہیں یہی، یہی میں ظاہر
آئے گا کوئی نہ ایسا آیا
اُس ایک نے ایک ہی بنایا
[1]استعارہ بمعنے اشارہ یعنی خدا، مصطفیٰﷺ، اول، آخر، ظاہر اور باطن، ان سب میں ’’الف‘‘ ہے اور بینی مبارک کو ان سے تشبیہ دی جارہی ہے ، لہذا مطلب ظاہر ہے ۱۲ اختر الحامدی