/ Friday, 04 April,2025


چمکا جہاں میں جب مہِ اقبالِ مصطفیٰﷺ





حدیث بست و ہفتم از کتاب مشارق الاَنوار

 

عَنِ ابْنِ  عُمَرَ وَ ابْنِ مَسْعُوْدٍ اَشْھِدُوْا اَشْھِدُوْا وَ یُرْوٰی اَللّٰھُمَّ اَشْھِدْ قَالَہٗ عِنْدَ اِنْشِقَاقِ الْقَمَرِ۔

 

حَبَّذَا ذاتِ صاحبِ لَوْلَاک
عینِ اعجازہے یہ جوہرِ پاک
ہیں بِلا ریب وہ حبیبِ خدا
اُن کو اللہ نے دیا کیا کیا
جو کہ اعجاز انبیا کے تھے
سب وہ اپنے حبیب کو بخشے
اور اُس کے سوا بہت اعجاز
خاص اُن کو دیے، کیا ممتاز
واہ کیا ایک ہی اشارے سے
کر دیا قرصِ ماہ دو ٹکڑے
ابنِ مسعود اور ابنِ عمر
کہتے ہیں: وقتِ انشقاقِ قمر
ایسا فرماتے تھے رسول اللہ
رہو، اے لوگو! تم گواہ گواہ
اور راوی نے یہ ہی کی تقریر
کہ جنابِ نبی بشیر و نذیر
اُس گھڑی اِس طرح ہُوئے گویا
یا الٰہی! گواہ تو رہنا
الغرض، ہے جو حالِ شقِّ قمر
اُس میں راوی ہیں متفق اکثر
اور مذکور ہے خبر اس کی
اوّلِ سورۂ قمر میں یہی
جب کریں آپ ماہ دو ٹکڑے
دلِ کفّار کیوں نہ ہو ٹکڑے
مصطفیٰ نے کیا دو نیم قمر
اشقیا کیوں نہ ہوئیں خاک
اب تو، کاؔفی! سنا نئے اشعار
بَہ صفاتِ نبی شہِ ابرار

 

غزل در نعت

 

چمکا جہاں میں جب مہِ اقبالِ مصطفیٰ
ماہِ سپہر ہو گیا پامالِ مصطفیٰ
اک زلزلہ سا کوشکِ کسریٰ میں پڑ گیا
چمکی جو برقِ شوکت و اجلالِ مصطفیٰ
دعویٰ ہُوا ہے کانِ جواہر کا گوش کو
سن کر حدیثِ لعل پُر افضالِ مصطفیٰ
بس آرزو یہی دلِ حسرت زدہ کی ہے
سنتا رہے شمائل و احوالِ مصطفیٰ
کافؔی ہے اپنے واسطے گر منکر و نکیر
دکھلائیں لا کے قبر میں تمثالِ مصطفیٰ