/ Friday, 04 April,2025


فضاء کی خوشبو بتا رہی ہے کوئی گیا ہے ابھی ابھی





نعت شریف

ابھی ابھی

فضاء کی خوشبو بتا رہی ہے کوئی گیا ہے ابھی ابھی
مہک رہے ہیں وہ سارے راستے نبیﷺ جو گذرے ابھی ابھی
چمک گیا ہے ضیاء سے ان کی جہان بھر کا ہر ایک ذرہ
گزر گئے ہیں مکاں میں ایسے حسین لمحے ابھی ابھی
رضؔا کی نعتوں کے شعر سن کر عجب یہ احساس ہو رہا ہے
نزولِ قرآن سے جھڑے ہیں وحی کے کلمے ابھی ابھی
نبیّ رحمت شفیع امّتﷺ ہر ایک نعمت کے ہیں یہ مالک
قلم سے نکلے ہیں واہ کتنے حسین جملے ابھی ابھی
حضورﷺ کی جالیوں کی قربت مشام جاں کو سرور بخشے
دکھا گئے ہیں قریب ہی سے کرم کے جلوے ابھی ابھی
نبیﷺ کے چرچے رہے ہمیشہ نبیﷺ کے دشمن پہ ایسے بھاری
پڑے ہوئے ہیں یہ خاک بن کے زمین پہ جل کے ابھی ابھی
نبیﷺ کے در پر کھڑا ہے حافؔظ سکون سے بھی وقار سے بھی
سُنا ہے رحمت کے کچھ فرشتے گئے ہیں مل کے ابھی ابھی
(۲۳ رجب المرجب ۱۴۳۹؁ھ/ ۱۰ اپریل ۲۰۱۸؁ء)نزیل موریشس