وہی تبسم وہی ترنم وہی نزاکت وہی لطافت
وہی ہیں دزدیدہ سی نگاہیں کہ جن سے شوخی ٹپک رہی ہے
گلوں کی خوشبو مہک رہی ہے دلوں کی کلیاں چٹک رہی ہیں
نگاہیں اٹھ اٹھ کے جھک رہی ہیں کہ ایک بجلی چمک رہی ہے
یہ مجھ کو کہتی ہے دل کی دھڑکن کہ دستِ ساقی سے جام لے لو
وہ دور ساغر کا چل رہا ہے شرابِ رنگیں چھلک رہی ہے
یہ میں نے مانا حسین و دلکش سماں یہ مستی بھرا ہے لیکن
خوشی میں حائل ہے فکر فردا مجھے یہ مستی کھٹک رہی ہے
نہ جانے کتنے فریب کھائے ہیں راہِ الفت میں ہم نے اخترؔ
پر اپنی مت کو بھی کیا کریں ہم فریب کھا کر بہک رہی ہے
٭…٭…٭