عَنْ اَنَسٍ اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمَ صَعِدَ اُحُدًا وَّ اَبُوْ بَکْرٍ وَّ عُمَرُ وَ عُثْمَانُ فَرَجَفَ بِھِمْ فَضَرَبَہٗ بِرِجْلِہٖ فِقَالَ اثْبُتْ اُحُدُ فَاِنَّمَا عَلَیْکَ نَبِیٌّ وَ صِدِّیْقٌ وَ شَھِیْدانِ۔‘‘ (رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ)
ہے انس نے بیاں کیا ایسا
کہ فرازِ اُحُد رسولِ خدا
ایک دن اس طرح سے آ نکلے
کہ ابو بکر ساتھ تھے اُن کے
اور فاروق بھی تھے آپ کے ساتھ
اور عثمان مجمعِ حسنات
الغرض جب گزار فرمایا
زیرِ پائے نبیﷺ پہاڑ ہلا
جنبشِ کوہ جب ہوئی پیدا
آپ نے کوہ پر قدم مارا
اور اس طرح سے کہا اُس کو
کہ بس اب اے پہاڑ ساکن ہو
یعنی تو جانتا نہیں تجھ پر
اِس گھڑی کو کر رہا ہے گزر
ایک تو ہے رسول حق تحقیق
دوسرے ساتھ اُس کے ہے صدّیق
اور یہ دو شہید ہیں ہمراہ
یعنی ہمراہیِ رسول اللہﷺ
یاں زبانِ نبیﷺ سے بالتحقیق
ہوئی ثابت صداقتِ صدّیق
اور ثابت ہُوئی شہادت بھی
اُس جگہ سے عمر کی، عثماں کی
جن کا رتبہ زبانِ حضرت سے
ہوئے ثابت بیانِ حضرت سے
چاہیے ہم کو دوستی اُن سے
دوستی، اُلفتِ دلی اُن سے
مَناقب
مجھے اُلفت ہے یارانِ نبیﷺ سے
ابو بکر و عمر، عثماں، علی سے
محبّت اُن کی ہے ایمان میرا
میں اُن کا مدح خواں ہوں جان و جی سے
رسول اللہ کے یہ جا نشیں ہیں
نبی راضی ہے اُن سے، یہ نبی سے
یہ ہیں چرخِ نبوّت کے ستارے
جہاں روشن ہے اِن کی روشنی سے
صحابہ کا ہُوا ثابت مَناقب
زبانِ دُر فشانِ احمدی سے
رسول اللہ کب راضی ہیں اُن سے
جو ہو ناراض اَحبابِ نبی سے
جو ہیں اَصحاب اَنصار و مہاجر
مجھے حُسنِ عقیدت ہے سبھی سے
صحابہ کا یہ کاؔفی مدح خواں ہے
خلوصِ جان و اخلاصِ دلی سے