بو اُمامہ سے کیا روایت ہے
واہ کیا مژدۂ بشاشت ہے
کیا خوشی کی خبر سناتا ہے
کیا ہی مہجوروں کو ہنساتا ہے
واہ کیا فضلِ کبریائی ہے
کیا ہی الطافِ مصطفائی ہے
یہ عنایاتِ سرورِ عالَم
زخمِ دل پر ہے صورتِ مرہم
اُس کلام و بیان کے صدقے
اُس زبان و دہان کے صدقے
اُس مبارک لسان کے قربان
اُس لبِ دُر فشان کے قربان
یہ جو ارشاد مصطفیٰﷺ کا ہے
یہ مکاں حمدِ کبریا کا ہے
شکر اُس کا ادا کریں کیوں کر
ہے یہ نعمت قیاس سے باہر
الغرض یوں نبیﷺ نے فرمایا
کہ مجھے جس کسی نے دیکھ لیا
اُس کو حاصل خوشی کی بات ہُوئی
خُرّمی ایک اُس کے ساتھ ہُوئی
اور جس نے نہیں مجھے دیکھا
غائبانہ ہُوا مِرا شیدا
دین کو میرے اختیار کیا
اور ایمان کا قرار کیا
واسطے اُن کے سات بار خوشی
جس کی غائبانہ دیں داری
واہ کیا مژدۂ عجائب ہے
کیا ہی دولت نصیبِ غائب ہے
کیا ہی مژدہ سنا دیا ہم کو
عَینِ غم میں ہنسا دیا ہم کو
کیوں نہ ہو ہم کو بار بار خوشی
اور یہ سن کے سو ہزار خوشی
اب تو، کافؔی! نہ در گزر کیجے
ہم صفیروں کو بھی خبر کیجے
ہے بشارت شبِ فرقت کے گرفتاروں کو
اور مژدہ ہے شبِ ہجر کے بیماروں کو
اِس نویدِ طرب اَفزا کو سنا کر تم نے
کیا سبک دوش کیا غم کے گراں باروں کو
گر نہ تم اہلِ کبائر کی شفاعت کرتے
کون پھر پوچھتا دوزخ کے سزاواروں کو
جب سُنی مخبرِ صادق کی زباں سے یہ خوشی
شبِ فرقت میں ہُوئی عید دل افگاروں کو
ذاتِ پاکِ شہِ لَوْلَاک حبیبِ رحماں
کیا وسیلہ ہے شفاعت کے گنہ گاروں کو
گرچہ نعمائے حضوری کی تمامی دولت
مجلسِ خاص میں حاص ہوئی حضاروں کو
عاصیوں کو بھی سنا دی وہ نویدِ صادق
جس نے آزاد کیا غم کے گرفتاروں کو
آپ کا جلوۂ دیدار ہُوا بدِ مُنیر
ظلمتِ جہل وشبِ کفر کے آواروں کو
یا الٰہی! بَہ طفیلِ شرفِ ختمِ رُسُل
عملِ خیر کی توفیق ہو دیں داروں کو
اپنے محبوب کی اُلفت سے نصیبِ کاؔفی
کر عطا میرے تئیں اور مِرے یاروں کو