/ Friday, 04 April,2025


ہے یہ قولِ ابو سعید سعید





حدیثِ سی وہفتم از مشکوٰۃ ،بابِ مَناقبِ صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنھم

 

عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِنِ الْخُدْرِیِّ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمَ:

لَا تَسَبُّوْٓا اَصْحَابِیْ فَلَوْ اَنَّ اَحَدُکُمْ اَنْفَقَ مِثْلَ اُحُدٍ ذَھَبًا مَّا بَلَغَ مُدَّ اَحَدِھِمْ وَلَا نِصْفَہٗ۔‘‘ (مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ)

 

ہے یہ قولِ ابو سعید سعید
وہ صحابی ہے مقتدا و رشید
یعنی کہتے تھے دو جہاں کے امام
میرے اَصحاب کو نہ دو دشنام
جو کوئی تم سے از برائے خدا
خرچ کر دے پہاڑ سونے کا
یعنی وہ شخص
مثلِ کوہِ اُحُد
زر لُٹائے گا بے عدد بے حد
کوہِ زر سے زیادہ تر ہوگا
نیم پیمانہ اُس صحابی کا
یارِ حضرت کی کیا فضیلت ہے
اُن کی صحبت کی کیا فضیلت ہے
جب کہ ہوں اُن سے مصطفیٰ راضی
اُن سے کیوں کر نہ ہو خدا راضی
میری اُلفت کے واسطے اُن کو
تم یہ چاہیے کہ دوست رکھو
بعد میرے نہ کیجیو ایسا
 کہ نشانہ بناؤ تیروں کا
یعنی اُن کو نہیں کرو دُشنام
 اور نہ لو اُن کا تم بدی سے نام
ہے تقاضا مِری محبّت کا
میرے یاروں کو تم کہو اچھا
میرے یاروں سے جس نے بغض رکھا
بغض گویا کہ اُس نے مجھے سے کیا
اور جس نے کہ اُن کو دی ایذا
وہ تو ایذا مجھی کو دی گویا
اور میرے تئیں ستائے جو
اُس نے ایذا دی میرے خالق کو
اور جس نے مجھے کیا ناراض
اُس نے اللہ کو رکھا ناراض
اُس پہ آئے گا عنقریب عذاب
حق تعالیٰ کرے گا سخت عتاب
آفریں تجھ کو مرحبا کاؔفی
وصفِ اَصحاب کہہ سنا کاؔفی!

 

غزل

بیاں کس مونھ سے ہو ہو جو رتبۂ اَصحابِ حضرت ہے
کہ اُن میں ہر بشر کے واسطے کیا کیا شرافت ہے
صحابی
کَالنُّجُوْم اُن کے مَناقب میں ہُوا وارد
کہ اُن تاروں سے روشن بُرجِ اَفلاکِ ہدایت ہے
نہیں اس سے زیادہ اور کوئی رتبۂ عالی
 کہ حاصل اُن کو
فیضِ صحبتِ ختمِ رسالت ہے
بجا ہے گر ملائک رشک کھائیں اُن کے رتبے پر
جَوارِ سیّدِ کونَین میں جن کی سُکونت ہے
مشرف جو ہُوئے ہیں دولتِ دیدارِ حضرت سے
تو اُن کے واسطے باغِ جناں گُلزارِ جنّت ہے
تمامی عدل تھے اور سب کے سب راہِ خدا پر تھے
یہی ہے مذہبِ حق، اعتقادِ ا
ہلِ سنّت ہے
امیر المومنیں صدّ
یقِ اکبر نائبِ حضرت
بَہ ایوانِ خلافت صدرِ ایوانِ صداقت ہے
پھر اُس کے بعد ہے فاروقِ اعظم جاہد و غازی
کہ انسانِ بصیرت مردمِ عَینِ عدالت ہے
مَناقب کیا کروں عثمانِ ذی النورین کا ظاہر
کہ عین و شرم و
تمکیں مخزنِ جود و سخاوت ہے
خدا کا شیر حیدر ابنِ
عمِ سروَرِ عالَم
وہ جس کے دستِ بالا دست میں
تیغِ شجاعت ہے
؟؟؟ عادت اَصحاب سلطان رسل باہم
؟؟؟ فتوت ہے مودّت ہے محبّت ہے
؟؟؟ دولتِ دیدار محبوبِ خدا جس کو
؟؟؟ طالع زہے مقسوم کیا وہ نیک  قسمت ہے
؟؟؟ راضی ہے اُن سے اور وہ راضی خدا سے ہیں
؟؟؟ رحمتِ عالَم کو اُن کے ساتھ شفقت ہے
ثنا خوانِ نبی ہُوں اور اَصحابِ نبی، کاؔفی!
ابو بکر و عمر، عثماں، علی سے مجھ کو اُلفت ہے