ہے کلامِ جنابِ خیرِ اَنامﷺ
کہ لکھے جو کوئی ہمارا نام
اور اُس پر لکھے وہ صَلِّ عَلٰی
اور جب تک رہے وہاں وہ لکھا
لکھنے والے کے واسطے دن رات
بھیجتے ہیں مَلَک دُرود و صلات
یعنی جب تک وہاں ہے آپ کا نام
اور اُس پر لکھا دُرود و سلام
جو مَلَک اُس کے راز داں ہوں گے
بہرِ کاتب دُرود خواں ہوں گے
اور راوی جو بو سلیماں ہے
اُس نے اِس طرح سے کہا یاں ہے
کہ کوئی شخص گر سوال کرے
حق تعالیٰ سے عرضِ حال کرے
ابتدا وہ کرے دُرود کے ساتھ
پھر کرے وہ گزارشِ حاجات
کر چکے جب کہ مدّعا کو تمام
چاہیے پھر پڑھے دُرود و سلام
یعنی مطلب سے اوّل و آخر
اُس کو وردِ دُرود ہے بہتر
کہ بَہ درگاہِ خالقِ معبود
ہے قبول اور مستجاب دُرود
ہو دُرودوں کے بیچ میں جو دعا
کیوں نہ اُس کو کرے قبول خدا
حق تعالیٰ ہے اَجوَد و وہّاب
اُس کی رحمت ہے بے شمار و حساب
دور ہے اُس کی شانِ رحمت سے
اور اندازۂ عنایت سے
کہ دُرودوں کو مستجاب کرے
اور سائل کو ردِّ باب کرے
بلکہ ہم کو یقین ہے کامل
جو دعا ہو درود کے شامل
وہ دُرود اور وہ دعا ہے قبول
بَہ طُفیلِ نبی جنابِ رسولﷺ
ہر مرض کی دوا دُرود شریف
دافعِ ہر بَلا دُرود شریف
وِرد جس نے کیا دُرود شریف
اور دل سے پڑھا دُرود شریف
حاجتیں سب روا ہُوئیں اُس کی
ہے عجب کیمیا دُرود شریف
آفتابِ سپہرِ ایماں ہے
گوہرِ پُر ضیا دُرود شریف
آپ کے ساتھ حشر میں ہوگا
جس نے اکثر پڑھا دُرود شریف
جو محبِّ جنابِ احمدﷺ ہے
اُس کا مُونِس ہُوا دُرود شریف
اے صبا! تو ہی جا کے پہنچا دے
بَہ درِ مصطفیٰﷺ دُرود شریف
توشۂ راہِ آخرت کیجے
کاؔفیِ بے نوا! دُرود شریف