امامِ اہلِ سنّت کون ہے، میرے شہا تم ہو
یہ بیڑہ سُنّیوں کا اور اس کا ناخدا تم ہو
وہ جس کی ذات پر ہے فخر اگلوں اور پچھلوں کو
بفضلِ حق وہی حقّانیت کے رہنما تم ہو
وہ توحید رسالت کے معانی جس نے سمجھائے
حصارِ دین و ملّت، ہادئ راہِ ھُدٰی تم ہو
محافظ تھا جو ناموسِ رسالت کا زمانے میں
جسے یہ فخر تھا کہ ہوں میں عبد المصطفیٰ تم ہو
دہی جو عظمتِ ختم الرسّل کا پاسباں ٹھہرا
غریقِ بحر اُلفت، عاشقِ نورِ خدا تم ہو
قبولیت ملی ہے جس کو دربارِ رسالت میں
رضائے احمد مختار یا احمد رضا تم ہو
کیا اسلام زندہ جس محّی الدین ثانی نے
مسلمانوں کا تھا اِس دور میں جو آسرا تم ہو
کمالاتِ غزالی اور رازی کا مرقّع ہو
سیوطی اور محقّق دہلوی والی ضیا تم ہو
علومِ ابنِ عربی، سوزِ رومی، عشقِ جامی بھی
سمایا جس کے سینے میں وہ قطب الاولیا تم ہو
شریعت میں امامت کا رہا سہرا تمہارے سر
جو ہے اہلِ طریقت کے لئے قبلہ نما تم ہو
امامِ بو حنیفہ کے اِدھر نور نظر ٹھہرے
طریقت میں اُدھر بھی نائبِ غوث الوریٰ تم ہو
حرم والوں نے ہو کر یک زبان اعلان فرمایا
علوم و معرفت میں آج کل سب سے سوا تم ہو
وہ جس کے زُہد و تقویٰ کو سراہا شان والوں نے
کہا یوں پیشواؤں نے ہمارے پیشوا تم ہو
حقیقت ہے ملے ہیں دین و ایماں آپ کے گھر سے
شریعت کے محافظ اے شہِ احمد رضا تم ہو
تمہیں تو قافلہ سالار ہو نوری جماعت کے
ہدایت کی کسوٹی دورِ حاضر میں شہا تم ہو
حدائق جس نے بخشش کے بسائے حُبِّ نبوی سے
مدینے کا وہ بُلبل، طوطئ نغمہ سرا تم ہو
عمائد کُفر کے جس نے سرِ میداں پچھاڑے تھے
علمبردارِ شانِ مصطفیٰﷺ، شیرِ خدا تم ہو
جو بارہ سُو چھیاسی سن سے کے کر آخری دم تک
ہو چوّن سال مذہب کی حمایت میں لڑا تم ہو
ہدایت کے تمہیں اس دُور میں ہو نیر تاباں
ہے یہ بے نوا اختؔر اس میں بھی جلوہ نما تم ہو