ہے انس اِس حدیث کا راوی
خادمِ بارگاہِ مصطفوی
خبرِ معتبر سناتا ہے
بات ایمان کی بتاتا ہے
واہ کیا جاں فزا اِشارت ہے
او محبّو! تمھیں بِشارت ہے
کہ رسولِ خدا نے فرمایا
دین کے رہ نما نے فرمایا
یعنی تم میں سے ایک بھی انساں
کر سکے کیوں کہ دعویِ ایماں
جب تلک میری الفتِ کامل
ہووے نہ اُس کو اِس قدر حاصل
کہ مجھے اپنے باپ و بیٹے سے
وہ بہر حال دوست تر سمجھے
اور کوئی بشر زمانے کا
اُس کو محبوب ہو نہ میرے سوا
ہووے اِس درجہ مجھ پہ جب قرباں
ہے بجا اُس کو دعویِ ایماں
الغرض حُبِ احمدِ مختارﷺ
اُن کے اوپر سلام لاکھوں بار
مومنوں کو تو عینِ ایماں ہے
دین داروں کو راحتِ جاں ہے
عِشقِ احمد سے دل کو راحت ہے
کیا ہی اللہ کی عنایت ہے
ذاتِ پاکِ محمد ِ عربی
عَینِ رحمت ہےعَینِ رحمت ہے
حُبِ احمد کا نام ہے ایماں
او محبّو! تمھیں بِشارت ہے
گر میسّر ہو آپ کی چاہت
کیا ہی دولت ہےکیا ہی دولت ہے
روش و راہِ دینِ مصطفوی
واہ کیا کوچۂ سلامت ہے
ہو سکے کس سے نعتِ پاک رقم
کس کے کام و زباں میں طاقت ہے
جرمِ کؔافی تو بخش دے، یا رب!
یہ بھی خیر البشر کی اُمّت ہے