/ Friday, 04 April,2025


جس کو خیرالوریٰ سے اُلفت ہے





حدیثِ پنجم از ’’اَلْمَوَاھِبُ اللَّدُنِّیَّۃُ‘‘

 

عَنِ اَنَسٍ رَّضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ مَرْفُوْعًا: مَنْ اَحْیَا سُنَّتِیْ فَقَدْ اَحَبَّنِیْ وَمَنْ اَحَبَّنِیْ کَانَ مَعِیَ فِی الْجَنَّۃِ۔(رَوَاہُ فِی الْمَوَاھِبُ اللَّدُنِّیَّۃُ)

 

یہ روایت بَہ صورتِ مرفوع
رکھتی ہے اِس طرح ظہورِ وقوع
کہ انس نے بیاں کیا ایسا
یعنی حضرت نبی نے فرمایا
کہ جس انسان نے مِری سنّت
جہد و کوشش سے زندہ کی سنّت
اُس نے تحقیق مجھ کو دوست رکھا
دوستی میں مِری یہ کام کیا
اور جو میری دوستی میں ہو
حُبّ و اخلاص اُس کے جی میں ہو
ساتھ میرے وہ ہوگا جنّت میں
کہ رہا ہے مِری محبّت میں
ہیں جو اَفعال و عادت ِ نبوی
اُس کو کہتے ہیں سنّتِ نبوی
جو کہ طالب ہُوا صفائی کا
روش و راہِ مصطفائی کا
آپ نے اُس کو یہ بِشارت دی
۔۔۔(؟) مشتاق کی تسلّی دی

 

 

غزل در نعتِ رسول

 

جس کو خیرالوریٰ سے اُلفت ہے
بس وہی دوستدارِ سنّت ہے
سالکِ راہِ مصطفیٰ کے لیے
شہِ کونین کی معیّت ہے
حا
صلِ حُبِ سرورِ عالَم
باغِ رضواں ریاضِ جنّت ہے
ہے جو عامل بَہ سنّتِ نبوی
اُس کو دونوں جہاں کی دولت ہے
شاہِ دیں خاتَمِ نبوّت کو
۔۔۔(؟) رحمت بَہ حالِ اُمّت ہے
۔۔۔(؟) کدھر طالبانِ راہِ صفا
واسطے اُن کے یہ بِشارت ہے
۔۔۔(؟) حضرت ہمیں تو اے کؔافی
۔۔۔(؟) و ایماں کی حقیقت ہے