ایسا فاروق نے بیان کیا
کہ حبیبِ خدا نے فرمایا
یعنی جس دم جنابِ آدم سے
ہوئی سر زد خطا اُس اکرم سے
بوالبشر نے دعا خدا سے کی
التجا ذاتِ کبریا سے کی
کہ محمدﷺ کے واسطے، یا رب!
میری تقصیر بخش دے، یا رب!
یہ حکم ہُوا ربِّ امجد کا
کس طرح جانا نام احمدﷺ کا
اب تلک وہ نہیں ہُوا پیدا
تو نے کس طرح اُس کو پہچانا
کہا آدم نے، اے خدائے کریم!
ربِّ غفّار اے رحیمِ قدیم
تو نے میرے تئیں بنایا جب
روح بھی مجھ میں پھونک دی، یا رب!
میں نے اُس دم جو سر اُٹھا دیکھا
پایۂ عرش پر لکھا دیکھا
کلمہ ’’لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوْ‘‘
اور نامِ محمدِ خوش خوﷺ
یہ محمدﷺ کا نام، یا اللہ!
دیکھ کر تیرے نام کے ہمراہ
رتبۂ احمدی کو پہچانا
اور حالِ محمدی جانا
جس کو بخشا یہ رتبۂ مرغوب
افضلِ خَلق ہے تِر محبوب
جس کا یہ درجۂ مبارک ہے
تیرا محبوب وہ بِلا شک ہے
پھر خدا کی طرف سے حکم آیا
آدمِ بوالبشر سے فرمایا
کہ کیا تو نے ٹھیک ٹھیک کلام
میرا محبوب ہے یہ خیرِ اَنام
تو نے احمد کا واسطہ جو دیا
میں نے تیرے قصور کو بخشا
گر نہ ہوتا محمدِ محمودﷺ
میں نہ کرتا تجھے کبھی موجود
تیری اولاد میں عیاں ہوگا
اور ختمِ پیمبراں ہوگا
ترجمہ اِس حدیث کا، کاؔفی!
یاں تلک نظم میں لکھا، کاؔفی!
مجھ سے کہتا ہے اب دلِ غم ناک
لکھیے اوصافِ صاحبِ لَوْلَاک
جو پناہِ سیّدِ کون و مکاں میں آ گیا
وہ بِلا شک حق تعالیٰ کی اماں میں آ گیا
جس نے حضرت کا وسیلہ، دوستو! حاصل کیا
میں یہ کہتا ہوں کہ وہ دارالاماں میں آ گیا
رحمۃ للعالمیں جس روز سے پیدا ہُوئے
اور ہی اک فیض کا عالَم جہاں میں آ گیا
ہو گیا کیا رشکِ جنّت یہ گلستانِ جہاں
جب سے اس گُل کا قدم اس گلستاں میں آ گیا
فیضِ اَنوارِ قُدومِ سیّدِ اَبرار سے
نور کا عالَم زمین و آسماں میں آ گیا
جب تصوّر بند کیا نظروں میں روئے پاک کا
دیدۂ مشتاق گلزارِ جہاں میں آ گیا
یہ نہیں ممکن جلائے آتشِ دوزخ اُسے
کلمۂ دینِ محمد جس زباں میں آ گیا
اُس تبسّم کا تصور مسکرانے کا۔۔۔؟؟؟
صورتِ القاب احسن۔۔۔؟؟؟
جب لکھے کافؔی قسیم حوض کوثر۔۔۔؟؟؟
آبِ کوثر سا دہان میں مدح خواں۔۔۔؟؟؟