/ Friday, 04 April,2025


کلمہ گویوں کو ہُوئی کیا ہی بشاشت حاصل





حدیثِ دہم۔۔۔ کتاب جامع صغیر تصنیفِ جلال الدین سیوطی﷫

 

عَنْ اَبِیْ مُوسٰی اَبْشِرُوْا وَبَشِّرُوْا مَنْ وَّرَآءَکُمْ مَنْ شَھِدَ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ صَادِقًا بِھَا دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔

 

یہ حدیثِ جنابِ خیرِ ورا
کرتے ہیں یوں بیاں ابی موسیٰ
کہ رسولِ کریمِ اعلیٰ خو
کہتے تھے یہ نوید ہے ہم کو
اور اِس مژدۂ بِشارت سے
غائبوں کو بھی ہاں خبر پہنچے
بعد تم سے جو آنے والے ہیں
یعنی ایمان لانے والے ہیں
جو کہے
لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہ
اُس کو حاصل ہُوئی بہشت کی راہ
ہے اگر رتبۂ صداقت میں
ہوگا داخل وہ شخص جنّت میں
 

 

غزل در نعت شریف

 

کلمہ گویوں کو ہُوئی کیا ہی بشاشت حاصل
اور اُس مژدۂ جاں بخش سے فرحت حاصل
کیا شرف کلمۂ طیّب کو خدا نے
صدقِ دل سے جو پڑھے ہو اُسے جنّت حاصل
مومنو! روضۂ رضواں کی اگر خواہش ہے
وردِ کلمہ سے کرو خلد کی نعمت حاصل
ذکرِ کلمہ کا عجب فیض ہے
سُبْحَانَ اللہ!
جس سے ہوتی ہے دل و دین کو قوّت حاصل
اور سیراب ابد کام و دہانِ مومن
عقل کو نور و ضیا، روح کو راحت حاصل
منکرِ کلمۂ طیّب کے لیے دوزخ ہے
جو مقر ہے اُسے فردوس کی نعمت حاصل
اپنے محسن شہِ
لَوْلَاک کے، کاؔفی، صدقے
جس کے باعث سے ہُوئی دین کی دولت حاصل