کرتے ہیں عبدِ حق روایت
فرماتی ہیں امِ پاک حضرت و ﷺ
اک نور کا میں نے جام دیکھا
شربت سے بَھرا ہوا تھا سارا
میں نے کیا نوشِ جاں وہ شربت
آنے لگی جسم و جاں میں قوت
آنکھوں میں ہجومِ نور دیکھا
گھر میں مِرے ہوگیا اُجالا
اُٹھا جو تجلّیوں کا پردہ
کچھ اور نظر کے سامنے تھا
عوراتِ حسین و پاک صورت
سیمیں تن و تابناک صورت
اِستادہ ہیں سب قریب میرے
ہر ایک ادب سے سر جھکائے
حیراں تھی میں، حیرتوں میں گم تھی
اِک آگے بڑھی ادب سے بولی
میں آسیہ ہوں، حضور بی بی
مریم ہوں میں، دوسری یہ بولی
میں، اور آسیہ، یہ حوریں
ہم سب ہیں حضورﷺ کی کنیزیں
آئے ہیں یہاں بحکمِ رب ہم
اے والدۂ رسولِ اکرمﷺ