کیجیے کس زباں سے شکرِ خدا
کیں عطا اُس نے نعمتیں کیا کیا
ہر سرِ مو ہو گر ہزار زباں
ہر زباں سے کروں ہزار بیاں
مو برابر نہ ہو سکے تقریر
حمدِ خلّاق و شکرِ ربِّ قدیر
ہے وہ معطی و منعم و وہّاب
جس کی رحمت کا کچھ نہیں ہے حساب
ہے عنایات ِ ایزدِ غفّار
یوں تو ہم سب پہ بے حساب و شمار
ہے مگر یہ عجیب فضل و کرم
کہ مخاطب کیا بَہ خیرِ اُمَم
شکر کس طرح سے کریں اس کا
کہ کیا اُمّتِ حبیبِ خدا
وہ رسولِ خدا شفیعِ اُمَم
ہے لقب جن کا رحمتِ عالَم
اُن کے حق میں خدا نے فرمایا
تم کو رحمت کے واسطے بھیجا
ہم پہ احسان یہ کیا کیسا
اُن کی اُمّت میں جو کیا پیدا
واہ کیا ذاتِ پاکِ حضرت ہے
عینِ رحمت ہے عینِ رحمت ہے
تھا شمائل کا ترجمہ جو لکھا
نام اُس کا ’’بہارِ خلد‘‘ رکھا
نام اِس کا ’’نسیمِ جنّت‘‘ ہے
جادۂِ مستقیمِ جنّت ہے
نگہتِ باغِ مصطفائی ہے
بوئے ایماں یہاں سمائی ہے
اُن حدیثوں کے نظم کا ہے خیال
جن میں ہے حُبِ احمدی کا حال
اور وردِ دُرود کی تفصیل
وصف جس کا ہے خارجِ تفصیل
اور توصیفِ اہلِ بیتِ کرام
اُن کے اوپر ہزار بار سلام
اور وصفِ صحابۂ حضرت
اُن پہ نازل خدا کی ہو رحمت
اور گور و لحد کی وہ شدّت
الم و درد و دہشت و وحشت
ہے جو وہ گورِ امتحاں کا مقام
واں بھی آتا ہے کام آپ کا نام
وحشتِ گور جب ستاتی ہے
حُبِ احمد ہی کام آتی ہے
یا الٰہی! بَہ حَقِّ آلِ رسول
نَظمِ کاؔفی کو کیجیو مقبول
اب تو دل چاہتا ہے یوں میرا
کہ لکھوں یک غزل بَہ ضِمنِ دعا