(نغمۂ تہنیتِ شادئ اسریٰ)
کیا سُہانی ہے شبِ شادئ اسریٰ دیکھو
حسن و انوار بداماں ہے زمانہ دیکھو
دھوم ہے سج گیا معراج کا دولہا دیکھو
کیا پھبن، کیا ہے ادا، اور ہے چھب کیا دیکھو
عقلِ کل نقش بہ دیوار ہے نقشہ دیکھو
حُسن انگشت بداماں ہے سراپا دیکھو
جسمِ انور پہ ہے انوار کا جامہ دیکھو
نور ہی نور، اُجالا ہی اُجالا دیکھو
ہے ضیا بار جبیں ماہِ دو ہفتہ دیکھو
ہیں بھنویں آیۂ قَوسَین مُجلّٰی دیکھو
مَست آنکھوں میں ہے مَازَاغ کا سرمہ دیکھو
مشعلیں طور کی روشن سرِ کعبہ دیکھو
عارضِ نور و حسیں گیسوئے والا دیکھو
ماہِ تاباں کا گھٹاؤں میں چمکنا دیکھو
مہِ اسریٰ، مَدنی چاند کا چہرہ دیکھو
ہے نوشتہ ورقِ نور پہ طٰہٰ دیکھو
رُخ پہ محبوبیتِ خاص کا سہرا دیکھو
آج جوبن تو ہر اِک پھول و کلی کا دیکھو
ہار گردن میں درودوں کا ہے کیسا دیکھو
ہیں ہر اِک تار میں گلہائے فترضٰے دیکھو
سُوئے قوسین چلا نوشۂ بطحا دیکھو
بہرِ تعظیم جُھکا عرشِ معلّٰے دیکھو
شور ہر سمت اٹھا صَلِّ علٰے کا دیکھو
محوِ تسبیح ہے ہر ایک فرشتہ دیکھو
رفعت و عظمتِ محبوب کے روشن ہیں چراغ
جگمگاتا ہوا قصرِ فتدلّٰی دیکھو
نور کے ساز پہ حورانِ جناں گاتی ہیں
نغمۂ تہنیتِ شادئ اسریٰ دیکھو
بادۂ زمزمۂ نعت میں ہیں غرق تمام
نغمیہ زَن وجد میں ہے طائرِ سدرہ دیکھو
شادیانے وہ پسِ پردۂ رحمت گونجے
کس بلندی پہ ہے شانِ وَرَفَعْنَا دیکھو
آئی دولہا کی سواری، وہ بصد جاہ و جلال
وہ اُٹھا خاص درِ قرب سے پردہ دیکھو
پھول رحمت کے ہوئے چہرۂ انور پہ نثار
حُسن و انوار کا بٹتا ہوا صدقہ دیکھو
اُدْنُ یَا اَحْمَدُ آتی ہے صَدا پردے سے
ادب و ناز سے محبوب کا بڑھنا دیکھو
قصرِ مخصوصِ تقرب میں سواری پہنچی
چھپ گیا نور میں وہ نورِ خدا کا دیکھو
ہوش بے ہوش، خِرد گم ہے جنوں عقل کو ہے
پیکِ ادراک ہے بھولا ہوا رستہ دیکھو
خود خبر پر بھی ہے اِک بےخبری سی طاری
ہے سرِ عجز جھکائے ہوئے دنیا دیکھو
جانے کیا کیا ہوئیں محبوب و محب میں باتیں
کس سے پوچھیں کہ ہے خاموش زمانہ دیکھو
مِل کے اللہ سے تشریف بھی لے آئے حضورﷺ
ہے مگر گرم ابھی بسترِ والا دیکھو
شاعرِ صاحبِ معراج ہو تم اے اختؔر
صدقۂ نوشۂ معراج مِلا کیا دیکھو