/ Friday, 04 April,2025


کیا طاقتِ رفعتِ نظر ہے





ستاعِر

کیا طاقتِ رفعتِ نظر ہے
رفعت کا دماغ عرش پر ہے
لختِ دلِ آمنہ﷞ کے صدقے
علمِ شہِ دوسرا کے صدقے
کیوں سامنے غیب ہوں نہ دم میں
دانائے غیوب ہیں شِکم میں
سن لو یہ بشارتِ الہٰی
کہتی ہے نگاہ آمنہ﷞ کی
جو رب نے کرم کئے، کئے ہیں
محبوب کو غیب بھی وئے ہیں

 

 

لکھتے ہیں یہ حضرتِ[1]؎ محقق
علّامۂ محدّث و مدقق
فرماتی ہیں اُمِّ پاک حضرت﷝وﷺ
تنہا تھی میں بس شبِ ولادت
اور صرفِ طواف مُطّلِب تھے
یوں دل میں لگا خیال آنے
یہ وقت ہے اور میں ہوں اکیلی
ہوتی کوئی رازداں سہیلی
ہُوں عالمِ دردِ زِہ میں تنہا
ہوتا کوئی فرد خانداں کا
میں محو اِسی خیال میں تھی
آواز سُنی مہیب ایسی
جس سے کہ لرز گیا مِرا دِل
پتّے کی طرح مِرا اُڑا دل
لرزاں تھی ابھی کہ میں نے دیکھا
اِک مرغ سفید بال و پَر کا
اس نے مِرے قلب پر مَلے پَر
دل سے ہوا دُور خوف یکسر

 

 مدارج النبوۃ، جلد دوم، ص ۲۰، تفریح الاذکیاء مصنفہ ابو الحسن والدِ ماجد حضرت محسن کاکو، دی، جلد دوم، ص۱۴۔[1]