اس طرح سے بیان انس نے کیا
کہ جنابِ نبیﷺ نے فرمایا
کہ محبّت ہے جس کسی سے تجھے
اور اُلفت ہے جان و جی سے تجھے
تو تو اے شخص ہے اُسی کے ساتھ
جس کی اُلفت میں صرف کی اوقات
اس روایت میں جو رہا اِجمال
ہے مناسب لکھوں مفصّل حال
ہے جو شرحِ ’’مَشارق الاَنوار‘‘
اس کے شارح نے یہ کیا اظہار
کہ جنابِ شَفیعِ محشر سے
فخرِ عالَم قسیمِ کوثر سے
ایک سائل نے یہ سوال کیا
کہ قیامت کا دن کب آئے گا
آپ نے اِس طرح کیا ارشاد
تو جو محشر کو کر رہا ہے یاد
تو نے ساماں برائے روزِ جزا
کر رکھا ہے تیار یاں کیا کیا
اُس نے یہ عرض کی کہ اے شہِ دیں
کوئی(؟) سامان میرے پاس نہیں
نہ تو کچھ کثرتِ عبادت ہے
نہ مَتاعِ وُفورِ طاعت ہے
ہاں مگر دوستی خدا سے ہے
اور الفت بھی مصطفیٰ سے ہے
آپ نے تب یہ بات فرمائی
اور ارشاد یہ حقیقت کی
کہ تجھے جس کسی سے اُلفت ہے
سبب و موجبِ معیّت ہے
لبِ جاں بخش سے کیا خوب فرمایا
حُبّ و اُلفت کی حقیقت کو عیاں فرمایا
اُس لبِ لعل کے اور کام و زباں کے صدقے
جس زباں سے یہ سخنِ جانِ جہاں فرمایا
اہلِ ایماں کے لیے تو وہ کلام حق ہے
تم نے جو افضلِ پیغامبراں فرمایا
شبِ فرقت میں ہوئی عید محبّوں کے لیے
مژدۂ وصل جو اے سروِ رَواں فرمایا
گو کہ ہم آج تڑپتے ہیں شبِ فرقت میں
کل کا وعدہ تو بھلا آپ نے واں فرمایا
قابلِ نار ہُوا جس کو کہا ناری ہے
وہ بہشتی ہے جسے اہلِ جناں فرمایا
رشکِ فردوس ہُوا دیر کہن اے کؔافی!
جب سے یاں سرورِ عالَم نے مکاں فرمایا