یہ روایت ہے زید ارقم سے
اُس صحابی ثقہ مکرّم سے
کہ رسولِ خداﷺ نے فرمایا
یعنی میں جس کسی کا ہوں مولا
اُس کا مولا ہے بس علی ولی
ابنِ عمِّ محمدِ عربیﷺ
اور تفصیل اِس روایت کی
اِس طرح سے حدیث میں آئی
کہ نبیﷺ جب اخیر حج سے پھرے
بَہ مکانِ غَدِیرِ خُمّ اُترے
کر کے اَصحاب کو وہاں یک جا
ہاتھ میں ہاتھ مرتضیٰ کا لیا
پیشِ اصحابِ زمرۂ اخیار
کر دیا رتبۂ علی اظہار
یعنی واں یہ حدیث فرمائی
دی علی کو شرف سے آگاہی
اور یہ بھی لکھا ہے راوی نے
کہ بَہ نزدِ علی، عمر آئے
اور کہنے لگے کہ، یا حیدر!
ابنِ عمِّ جنابِ پیغمبرﷺ
آج تم نے وہ مرتبہ پایا
کہ ہُوئے مومنین کے مولا
ہو مبارک یہ مرتبہ تم کو
آج تم ہر بشر کے مولا ہو
سوچتا کیا ہے، کاؔفیِ مضطر!
ہے مقامِ مَناقبِ حیدر
لکھوں کیا منقبت شیرِ خدا کا
علی حیدر امامِ اولیا کا
زیادہ فکر و فہم و عقل سے ہے
مَناقب ابنِ عمِّ مصطفیٰﷺ کا
علی ہے پیشوا ہادی و مولا
تمامی اُمّت ِ خیر الوریٰﷺ کا
درِ حیدر کا جو کوئی گدا و
نہ ہو محتاج وہ ظِلِّ ہُما کا
کہیں کیوں کر نہ ہم ’’مولیٰ‘‘ علی کو
یہ ہے ارشاد ختم الانبیاﷺ کا
شرف کحلِ جواہر پر رکھی ہے
یہ رتبہ ہے علی کی خاکِ پا کا
تولّد وہ ہُوئے کعبے کے اندر
عجب رتبہ ہے شاہِ لَا فَتٰی کا
ہُوا اُن سے منوّر قصرِ عرفاں
وہ ہے سلطان مُلکِ اَولیا کا
مناقب ھَلْ اَتٰی سے ہے ہُویدا
سزاوارِ خطابِ ھَلْ اَتٰی کا
یہ کافی تو گدائے خاکِ پا ہے
جنابِ مستطابِ مرتضیٰ کا