/ Thursday, 03 April,2025


مولانا سید محمد مرغوب اختر الحامدی رحمۃ اللہ تعا لٰی علیہ   (112)





اگر چشمِ بصیرت ہو تو ظاہر ہے یہ قرآں سے

اگر چشمِ بصیرت ہو تو ظاہر ہے یہ قرآں سے بیاضِ کُن کی رب نے ابتدا کی ہے کس عنواں سے احاطہ ہو نہیں سکتا کبھی ادراکِ انساں سے بہت آگے تِری عظمت کی حد ہے حدِّ امکاں سے نظر مشتاق، دل بیتاب، جاں پُرسوز، نَم آنکھیں چلا ہوں جانبِ طیبہ نرالے ساز و ساماں سے مدینے کی بہاریں پھر مدینے کی بہاریں ہیں بدل دیتی ہیں یہ تقدیر صحرا کی گلستاں سے فراقِ مصطفیٰﷺ کی رات کیسی جگمگاتی ہے؟ تسلسل آنسوؤں کا کم نہیں جشنِ چراغاں سے تعالیٰ اللہ اوجِ درس گاہِ سرورِ عالم فرشتوں کو سبق لیتے ہوئے دیکھا ہے انساں سے سُرورِ لذتِ حسنِ عمل اس سے کوئی پوچھے جسے بھی ایک چٹکی مل گئی ان کے نمکداں سے مدیحِ خاص ممدوحِ ازل خود حق تعالیٰ ہے ادا وصفِ نبیﷺ کا حق ہو کیا اختؔر ثناخواں سے ۔۔۔

مزید

سوادِ شب میں ملے، مطلعِ سحر میں ملے

سوادِ شب میں ملے، مطلعِ سحر میں ملے تم اے جمالِ خدا شمس میں قمر میں ملے گدا نوازئ محبوب اور کیا ہوگی وہ دیکھنے سے بھی پہلے مجھے نظر میں ملے ہے ایک جاں سے قریں اک رگِ گلو کے قریب تلاش جن کی تھی باہر، مجھے وہ گھر میں ملے تھی قدسیوں کی جبیں کی چمک دمک جن میں نشان ایسے بھی طیبہ کی رہگذر میں ملے تلاشِ منزلِ اوجِ نبیﷺ بھی کیا شَے ہے شریک آدم و عیسٰی بھی اس سفر میں ملے جو آپ عین خبر ہے وہ مبتدا تم ہو وہ تم خبر ہو کہ خود مبتدا خبر میں ملے وہ خارِ دشتِ حرم لے اُڑے ہوا جس کو الہٰی کاش وہ میرے دل و جگر میں ملے ہے اب حضورﷺ کا در اور اختؔر سائل بھلا کسی سے طلب کیوں کروں جو گھر میں ملے ۔۔۔

مزید

خاکِ وطن سے دور بلا لیجئے مجھے

خاکِ وطن سے دور بلا لیجئے مجھے طیبہ میں اب حضورﷺ بُلا لیجئے مجھے لطفِ عمیم آپﷺ، رؤف و رحیم آپﷺ میں ہُوں ہمہ قصور بلا لیجئے مجھے خالی ز حُسن و کیف بہ ہر کیف ہے حیات تا بزمِ رنگ و نور بلا لیجئے مجھے مومن کی جان سے بھی زیادہ قریں ہیں آپ کیا آپ سے ہے دُور بلا لیجئے مجھے معراجِ دیدِ گنبدِ خضرٰی نصیب ہو جانِ کلیمِ طُور بلا لیجئے مجھے تیرِ حوادثات کی بارش ہے روز و شب زیرِ ردائے نور بلا لیجئے مجھے اے مستقل نشاط، ہمہ کیفِ سرمدی تامنزلِ سُرور بلا لیجئے مجھے اے کارسازِ اخترِؔ محتاج و بے نوا امسال تو ضرور بلا لیجئے مجھے! ۔۔۔

مزید

تم کو یدِ قدرت نے کیا خوب سنوارا ہے

تم کو یدِ قدرت نے کیا خوب سنوارا ہے وَالنَّجم کا منظر ہے طٰہٰ کا نظارا ہے گو طُور کا جلوہ بھی آنکھوں گوارا ہے طیبہ کا نظارا پھر طیبہ کا نظارا ہے اس ذاتِ گرامی کو سمجھا تو خدا سمجھا جس ذاتِ گرامی پر قرآن اتارا ہے تم شافع و نافع ہوﷺ، میں خاطئ و عاصیﷺ ہوں پیارا جو تمہارا ہے اللہ کو پیارا ہے وہ جس نے شرف بخشا آغوشِ یتیمی کو اسلام کی قسمت ہے دنیا کا سہارا ہے کیوں بھیک کسی در سے سرکارﷺ بھلا مانگوں آقاﷺ تِرے ٹکڑوں پر میرا تو گزارا ہے لبّیک کی آتی ہے آواز ہر اِک دل سے شاید سرِ فاراں سے پھر ہم کو پکارا ہے اَخلاق کے شانے سے اے جانِ کرم تو نے ایک ایک خمِ گیسو ہستی کا سنوارا ہے دامن تِرے ہاتھوں میں ہے حضرتِ حسّاں کا کس اوج پہ اے اختؔر قسمت کا ستارا ہے ۔۔۔

مزید

یہ عرشِ بریں ہے کہ مدینے کی زمیں ہے

یہ عرشِ بریں ہے کہ مدینے کی زمیں ہے ساجد ہیں فرشتے بھی جہاں میری جبیں ہے ہر ایک تڑپ رُوکشِ فردوس بریں ہے محبوبﷺ! تِرا درد بھی کس درجہ حسیں ہے جو بھی ہے گدا آپﷺ کا ہِر پھر کے یہیں ہے سرکارﷺ کا دَر مرکزِ پرکارِ یقیں ہے ہر صبحِ مبیں ہے تِرے چہرے کی تجلّی ہر شامِ حسیں سایۂ گیسوئے حِسیں ہے جب تک نہ ہو اس جانِ عبادت کا تصور واللہ عبادت کوئی مقبول نہیں ہے اے ماہِ دنیٰ چُھوگئے جس کو تِرے جلوے وہ ذرّۂ رہ، تاجِ سرِ مہرِ مبیں ہے للہ مجھے روضۂ انور پہ بلا لو!! بیتاب بہت اختؔرِ غمگین و حزیں ہے ۔۔۔

مزید

نعتِ حبیبﷺ کہئے کہ حمدِ خدا بھی ہے

نعتِ حبیبﷺ کہئے کہ حمدِ خدا بھی ہے توصیف مصطفیٰﷺ کی خدا ثناء بھی ہے تو اصلِ کُنْ ہے، حاصلِ ہر مدّعا بھی ہے اے مبتدائے خلق تو ہی منتہا بھی ہے سر تا پا تو بشر ہے، بشر سے سوا بھی ہے یعنی تمام مظہرِ عینِ خدا بھی ہے ہر ٹیسں میں سکوں ہے تڑپ میں مزا بھی ہے دردِ فراقِ ماہِ مدینہ دوا بھی ہے کعبہ میں ہوں جبیں پئے سجدہ ہے بیقرار شاید مرے نبیﷺ کا یہیں نقشِ پا بھی ہے ایمان کی تو یہ ہے کہ پاکر درِ حضورﷺ جو ہوش میں نہ ہو اسے سجدہ روا بھی ہے اے اہلِ عرش! خاک نشیں ہم سہی مگر یہ فرشِ خاک مسندِ شاہِ دنیٰ بھی ہے مکہ کی شب میں صبحِ مدینہ ہے جلوہ گر کیا حُسن عارضِ پسِ زلفِ دوتا بھی ہے کچھ بھی سہی حضورﷺ مگر ہے تو آپ کا اختؔر گناہگار بھی، بَد بھی، بُرا بھی ہے ۔۔۔

مزید

گلبار داغِ ہجرِ نبیﷺ اس قدر رہے

گلبار داغِ ہجرِ نبیﷺ اس قدر رہے آٹھوں پہر بہشت بداماں نظر رہے مجھ کو رہِ عدم میں نہ خوف و خطر رہے یادِ جمالِ رُوئے نبیﷺ ہم سفر رہے رہرو! رہِ حرم ہے ادب پر نظر رہے آنسو یہاں کوئی نہ گرے چشم تر رہے یارب! نہ زخمِ ہجرِ مدینہ ہو مُند مِل یہ دِل الہٰ باد، محمّد نگر رہے گم کر دے کاش ان کی محبت میں یوں خدا اپنے وجود کی بھی نہ مجھ کو خبر رہے دل کی تڑپ نہ کم ہو حضوری کے بعد بھی یارب یہ دلنواز خلش عمر بھر رہے اختؔر رہِ حیات میں پائی رہِ نجات ہر گام پر اصولِ رضؔا راہبر رہے ۔۔۔

مزید

یہ حسن و رنگ، یہ نور و نکھار آپﷺ سے ہے

یہ حسن و رنگ، یہ نور و نکھار آپﷺ سے ہے حسینِ کعبہ، حسیں ہر بہار آپﷺ سے ہے سکوں زمیں کو، فلک کو قرار آپﷺ سے ہے ثباتِ عالمِ ہژدہ ھزار آپﷺ سے ہے یہ کہکشاں، یہ ستارے، یہ پھول، یہ غنچے یہ کائنات جناں درکنار آپﷺ سے ہے بسی ہے آپ کے گیسوئے عنبریں کی مہک فضا ہے مست، ہوا مشکبار آپﷺ سے ہے ہر ایک اَوج نے پائی ہے آپﷺ سے عظمت ہر اِک وقار کو حاصل وقار آپﷺ سے ہے یہ ہست و بود، وجود و عدم ، ظہور و نمود یہ نظمِ گردشِ لیل و نہار آپﷺ سے ہے محیطِ ارض و سما ہیں تجلّیاتِ حضورﷺ بہشتِ قلب و نظر کی بہار آپﷺ سے ہے سجی ہے آپ کے جلووں سے بزمِ کُن فَیَکُوں حسین محفلِ پروردگار آپﷺ سے ہے مدینہ دور سہی، بے نوا سہی اختؔر بس اِک نگاہ کا امیدوار آپﷺ سے ہے ۔۔۔

مزید

کیا سُہانی ہے شبِ شادئ اسریٰ دیکھو

(نغمۂ تہنیتِ شادئ اسریٰ) کیا سُہانی ہے شبِ شادئ اسریٰ دیکھو حسن و انوار بداماں ہے زمانہ دیکھو دھوم ہے سج گیا معراج کا دولہا دیکھو کیا پھبن، کیا ہے ادا، اور ہے چھب کیا دیکھو عقلِ کل نقش بہ دیوار ہے نقشہ دیکھو حُسن انگشت بداماں ہے سراپا دیکھو جسمِ انور پہ ہے انوار کا جامہ دیکھو نور ہی نور، اُجالا ہی اُجالا دیکھو ہے ضیا بار جبیں ماہِ دو ہفتہ دیکھو ہیں بھنویں آیۂ قَوسَین مُجلّٰی دیکھو مَست آنکھوں میں ہے مَازَاغ کا سرمہ دیکھو مشعلیں طور کی روشن سرِ کعبہ دیکھو عارضِ نور و حسیں گیسوئے والا دیکھو ماہِ تاباں کا گھٹاؤں میں چمکنا دیکھو مہِ اسریٰ، مَدنی چاند کا چہرہ دیکھو ہے نوشتہ ورقِ نور پہ طٰہٰ دیکھو رُخ پہ محبوبیتِ خاص کا سہرا دیکھو آج جوبن تو ہر اِک پھول و کلی کا دیکھو ہار گردن میں درودوں کا ہے کیسا دیکھو ہیں ہر اِک تار میں گلہائے فترضٰے دیکھو سُوئے قوسین چلا نوشۂ بطحا دیکھو بہرِ تعظیم جُھکا عرش۔۔۔

مزید

توئی ایں کار پیکِ نامہ بَرکُن

تضمین برکلام حضرت مولانا عبد الرحمنٰ جامؔی صاحبِ نفحات الانس ﷫ توئی ایں کار پیکِ نامہ بَرکُن نظر بر طائرِ بے بال و پَر کُن رساں پیغام منزل مختصر کن نسیما جانبِ بطحا نظر کن زِ احوالم محمّدﷺ را خبر کن گدائے یک سوالم یامحمّدﷺ کہ مشتاقِ جمالم یامحمّدﷺ غریبم خستہ حالم یامحمّدﷺ توئی سلطانِ عالَم یامحمّدﷺ زرُوئے لطف سوئے من نظر کن سکونِ دار و دامانم بآنجا مسیحائے دلِ زارم بآنجا چگو نہ اے صبا! بِرَسَمْ بآنجا بہ بُر ایں جانِ مشتاقم بآنجا فدائے روضۂ خیرالبَشرﷺ کن نزولِ رحمتِ باری زِلُطفش ترو تازہ گلِ ہستی زِلُطفش نظر بر اختؔرِ عاصی زِلُطفش مشرف گرچہ شد جامؔی زلُطفش خدایا ایں کرم بارِ دِگر کن ۔۔۔

مزید

اِک پل بھی نہیں قرار آقاﷺ

تضمین برنعتِ اعلٰحضرت، مجدّدِ مأتہ حاضرہ، امام احمد رضا خاں بریلوی قدس سرہ اِک پل بھی نہیں قرار آقاﷺ آفات سے ہوں دو چار آقاﷺ کب تک یہ اٹھاؤں بار آقاﷺ غم ہوگئے بے شمار آقاﷺ بندہ تیرے نثار آقاﷺ عصیاں کی ہے تیرگی نے گھیرا تاحدِّ نظر ہے گُھپ اندھیرا آمہرِ عرب کہ ہو سویرا بگڑا جاتا ہے کھیل میرا آقا آقا سنوار آقاﷺ دل کی بستی غمون نے لُوٹی تدبیر کی نبض آہ چُھوٹی تقدیر کہاں پہ لا کے پُھوٹی منجدھار پہ آکے ناؤ ٹُوٹی دے ہاتھ کہ ہُوں میں پار آقاﷺ یہ دشت یہ جھاڑیاں گھنیری دشوار ہے راہ شب اندھیری دیتا ہوں تجھے دہائی تیری ٹوٹی جاتی ہے پیٹھ میری لِلہ یہ بوجھ اتار آقاﷺ رکھتا ہے بڑا سہارا پلّہ یعنی وزنی ہے سارا پلّہ رکھ دے کملی کا پیارا پلّہ ہلکا ہے اگرچہ ہمارا پلّہ بھاری ہے ترا وقار آقاﷺ ہے بارِ اَلَم تو فکر کیا ہے؟ گو پشت ہے خم تو فکر کیا ہے؟ لرزاں ہیں قدم تو فکر کیا ہے؟ مجبور ہیں ہم تو فکر کیا ہے؟ تم کو۔۔۔

مزید

ہموار آکے حُور و مَلک رہگذر کریں

تضمین برنعتِ اعلٰحضرت امام احمد رضا خاں بریلوی قدس سرہ ہموار آکے حُور و مَلک رہگذر کریں ہر ہر قدم پہ بارشِ آب ِ گہر کریں آرام سے یہ ناز کے پالے سفر کریں اہلِ صراط روحِ امیں کو خبر کریں جاتی ہے امتِ نبویﷺ فرش پر کریں تسلیم ہے گناہ کئے، ہیں تو آپﷺ کے مانا کہ ہم ہزار بُرے، ہیں تو آپﷺ کے کھوٹے ہیں یاکہ ہم ہیں کھرے، ہیں تو آپﷺ کے بَد ہیں تو آپﷺ کے ہیں، بھلے ہیں تو آپﷺ کے ٹکڑوں سے تو یہاں کے پَلے رُخ کِدھر کریں ہے کون سننے والا کسے حالِ دل سنائیں محشر میں ہم کو پرسشِ اعمال سے بچائیں نادم ہیں روسیاہ، زیادہ نہ اب لجائیں سرکار ہم کمینوں کے اطوار پر نہ جائیں آقاﷺ، حضور، اپنے کرم پر نظر کریں تاریکئ گناہ میں گم سب ہیں راستے لمبا سفر ہے راہ میں حائل ہیں مَرحلے اے آفتابِ بدر! چمک اَوجِ عرش سے منزلِ کڑی ہے شانِ تبسّم کرم کرے تاروں کی چھاؤں نور کے تَڑ کے سفر کریں آہو حرم کے مجھ سے رمیدہ ہیں کس لئے؟ شاخی۔۔۔

مزید