/ Friday, 04 April,2025


میرے سلطانِ باوقارﷺ سلام





تضمین برسلام مولانا حسن رضا خاں بریلوی ﷫

میرے سلطانِ باوقارﷺ سلام
شہر یاروں کے شہر یارﷺ سلام
اے شہِ عرش اقتدارﷺ سلام
اے مدینے کے تاجدارﷺ سلام
اے غریبوں کے غمگسارﷺ سلام
سر و قامت پہ جان و دل وارے
رخ پہ قرباں جناں کے نظارے
صدقے دندانِ پاک پر تارے
تیری اِک اِک ادا پہ اے پیارے
سو درودیں فدا ہزار سلام
نور پر نور کے قبالے پر
عرش کے چاند پر، اُجالے پر
نور کے دوش پر، دوشالے پر
ربِّ سَلّمِْ کے کہنے والے پر
جان کے ساتھ ہوں نثار سلام
میرے طجاپہ، میرے ماویٰﷺ پر
میرے سرور پہ، میرے مولاﷺ پر
میرے مالک پہ، میرے داتاﷺ پر
میرے پیارے پہ میرے آقاﷺ پر
میری جانب سے لاکھ بار سلام
راہ سیدھی دکھانے والے پر
دین اِسلام لانے والے پر
اوجِ معراج لانے والے پر
میری بگڑی بنانے والے پر
بھیج اے میرے کردگار سلام
آفتابِ حسینِ فاراں پر
روحِ رنگینئ بہاراں پر
اس کرم بار ابرِ باراں پر
اس پناہِ گناہ گاراں پر
یہ سلام اور کرور بار سلام
ان کے اور ان کے نام کے صدقے
ان کے ادنےٰ غلام کے صدقے
واپسی کے پیام کے صدقے
اس جوابِ سلام کے صدقے
تاقیامت ہوں بے شمار سلام
جبکہ میری تلاش حشر میں ہو
بندۂ رسوا نہ کاش حشر میں ہو
لطفِ حق، لطف پاش حشر میں ہو
پردہ میرا نہ فاش حشر میں ہو
اے میرے حق کے راز دارﷺ سلام
پر مَسّرت رہا قیامت میں
محوِ مدحت رہا قیامت میں
زیرِ رحمت رہا قیامت میں
وہ سلامت رہا قیامت میں
پڑھ لئے جس نے دل سے چار سلام
گلشنِ آرزوئے اختؔر کا
رشکِ جنت ہو ہر گل و غنچہ
صدقۂ احمد رضا مولیٰ
عرض کرتا ہے یہ حسؔن تیرا
تجھ پہ اے خلد کی بہار سلام
ﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺ