زید ارقم سے یہ بھی ہے منقول
یعنی کہتے تھے یہ جنابِ رسولﷺ
مرتضیٰ شاہِ لَا فَتٰی کے لیے
اور بہرِ بتول و بہرِ حسن
اور بہرِ حسین ہے یہ سخن
جو لڑے اِن سے، میں لڑوں اُس سے
حرب اِن کے لیے کروں اُس سے
اورجو صلح اِن کے ساتھ کرے
صلح اور آشتی کی بات کرے
میں بھی کرتا ہوں صلح اُس کے ساتھ
اُس سے کرتا ہوں آشتی کی بات
کاؔفیِ خاک پائے آلِ عبا!
نظم کیجے ثنائے آلِ عبا
محبّت جس کو ہے آلِ عبا سے
اُسے الفت ہے ختم الانبیاﷺ سے
طہارت اہلِ بیتِ شاہِ دیںﷺ کی
ہُوئی ثابت کلامِ اِنَّمَا سے
وہی مومن ہے جس کو ہے محبّت
علی، حسنین سے خَیْرُالنِّسَا سے
عدو اُن کا عدوئے مصطفیٰﷺ ہے
ہُوا منقول یہ خیرالوراﷺ سے
رہوں آلِ عبا کا میں ثنا خواں
یہی، کاؔفی! تمنّا ہے خدا سے