/ Friday, 04 April,2025


پاشکستہ تا درِ خیرالانامﷺ آہی گیا





پاشکستہ تا درِ خیرالانامﷺ آہی گیا
چلتے چلتے ہاتھ اس کو یہ مقام آہی گیا
صاحبِ وَالْفَجرﷺ کی زلفِ معنبر دیکھ کر
عقل میں حسنِ نظامِ صبح و شام آہی گیا
آپﷺ کی اس رحمتہٌ لّلعالمینی کے نثار
مجھ سے بَد کا بھی نکو کاروں میں نام آہی گیا
جوشِ وحشت باادب، شوقِ زیارت ہوشیار
ہیں جہاں ساجد فرشتے وہ مقام آہی گیا
جان دے کر یوسفِ قَوسَین کی رفتار پر
کچھ نسیمِ صبح کو طرزِ خرام آہی گیا
اب تخیّل کو حقیقت سے بدل سکتے ہیں آپ
بابِ رحمت پر بہر صورت غلام آہی گیا
بٹ رہی ہے چشمِ رحمت سے مئے لَاتَقْنَطُوْا
محفلِ محشر میں ہم تک دورِ جام آہی گیا
ہم نے مانا وہ نمازِ پنجگانہ ہی سہی
آگیا منکرِ کے لب پر بھی سلام آہی گیا
میں ہوا اختؔر ضیاؔء القادری کا جانشیں
میرا شغلِ نعت گوئی میرے کام آہی گیا