نتیجۂ افکار، عزیز الشعراء جناب عزیؔز حاصِل پوری ملتان
قلب و نظر کا اجیالا ہے نعت محل
چشمِ ضیؔا ہے، فیضِ رضؔا ہے نعت محل
اختؔر حامدی و رضوی کا مجموعہ
شرِ سخن کی شان بنا ہے نعت محل
اختؔر شاہجہان پوری نے چھپوایا
اختؔر اختریوں لگتا ہے نعت محل
نقش و نگار مِری آنکھوں میں پھرتے ہیں
میں نے تصؤر میں دیکھا ہے نعت محل
ان آنکھوں پہ کم ہے جتنا رشک کرو
جن آنکھوں نے دیکھ لیا نعت محل
مِلتی رہے گی اس سے ٹھنڈک آنکھوں کو
دل کے لئے تسکین فزا ہے نعت محل
برجستہ تاریخِ طباعت کہہ دو عزیؔز
دیکھو اب تعمیر ہوا ہے نعت محل
۱۳۹۳ھ
(نوٹ) گزشتہ برس ’’نعت محل‘‘ کو مرتب تو کر لیا گیا تھا لیکن طباعت نہ ہوسکی لہذا مذکورہ قطعۂ سنِ ترتیب سمجھا جائے۱۲ اختؔر شاہجانپوری