خوش آمدید
رخسار ہیں مخملیں گلابی آئینوں میں ضَو ہے آفتابی یا فرش پہ چاند آگئے دو یا پُھول کِھلے گلاب کے دو یہ جھلکیاں نور لے رہا ہے یا آب میں چاند تیرتا ہے
کیا آپ کا اکاؤنٹ ہے؟ اکاؤنٹ بنائیں