ساقی مجھے جامِ مَے عطا کر
لِلّٰہ پِلا نظر مِلا کر
لب تشنہ ہوں، تشنگی بجھا دے
لا جام، تجھے خدا جزا دے
دل کو نہیں میرے تاب ساقی
لا جلد، پِلا شراب ساقی
جِیلان سے کِشید کی ہوئی لا
میخانۂ غوثِ پاک کی لا
بغداد کی ہو بہار جس میں
ہو نگہتِ چار یار جس میں
ہو فاطمی انبساط جس میں
اور پنجتنی نشاط جس میں
بُو چشتی ہو، رنگ نقشبندی
ہو کیف و سرور سہروردی
نوری[1]؎ مئے معرفت پلا دے
جو قلب و دماغ کو جِلا دے
ہر جُرعہ میں کیف و سرمدی ہو
وہ لا کہ جو آج تک نہ پی ہو
پاکیزہ سرور بھی ہو جس میں
اللہ کا نور بھی ہو جس میں
دارین کی لذتیں ہوں جس میں
کونین کی فرحتیں ہوں جس میں
فردوس کی نکہتیں ہوں جس میں
جنت کی لطافتیں ہوں جس میں
اے حامدِ[2]؎ نور بار ساقی
یہ رِند تیرے نثار ساقی
ہے عیدِ نویدِ موسمِ گل
کر آج شکستِ ساغرِ مُل
آنکھوں سے پِلا کے مست کر دے
مدہوش شرابِ ہست کر دے
آج ایسی پِلا، کبھی نہ پی ہو
ہر جرعہ میں غسلِ روح بھی ہو
اس طرح ہو روح پاک ساقی
ہر سانس ہو تابناک ساقی
ہے غسلِ مئے طہور کا دن
ہے آج ظہورِ نور کا دن
دن آگئے پھر مسرّتوں کے
پھر بدلے نصیب قسمتوں کے
گلشن سے خزاں کا زور ٹوٹا
وہ غنچۂ نَو چمن میں پھوٹا
تاریکئ کفر ہٹ رہی ہے
ظلمت کی گھٹا سمٹ رہی ہے
لو دُور ہوئے مصیبت و غم
لہرایا وہ رحمتوں کا پرچم
اَکْملتُ لَکُم کا دَور آیا
رحمت نے کرم کا دن دکھایا
دن گیارہواں ‘ شب ہے بارہویں آج
ہے بارہ ربیعِ اوّلیں آج
محبوبِ خداﷺ ہیں آنے والے
سلطانِ دنیٰ ہیں آنے والے
کونین کے شاہﷺ آرہے ہیں
تشریف حضورﷺ لا رہے ہیں
ہے آمدِ تاجدارِ عالمﷺ
ہے آمدِ نو بہارِ عالَمﷺ
کل مملکتِ خدا کے مالکﷺ
ہر شاہ کے ہر گدا کے مالکﷺ
ہے عرش پہ اقتدار جن کا
ہے فرش پہ اختیار جن کا
ہے چودہ طبق پہ جن کی شاہی
ہیں جن کے ملائکہ سپاہی
جو قاسمِ رزقِ کبریا ہیں
محبوبِ خدائے دوسرا ہیں
تابع ہیں انہیں کے انس اور جن
مومن ہیں کرم سے جن کے مومن
جو دو جہاں کے تاجورﷺ ہیں
محبوبِ خدائے بحروبَر ہیں
وہ بیکسوں، بے بسوں کا حامی
جن کے بشر و ملک سلامی
ہر کور و ضعیف کا سہارا
وہ آمنہ بی کا ماہ پارا
فریادِ غریب سننے والے
وہ دُور و قریب سننے والے
بیکس کرے غرب میں جو نالے
یہ شرق سے ہیں پہنچنے والے
آیا وہ سرِ یتیم کا ظِل
جو ٹوٹے ہوئے دلوں کا ہے دِل
مظلوم پہ ظلم اب نہ ہوگا
اندھیر یہ روز و شب نہ ہوگا
بیماروں کو مژدۂ شفا ہے
وہ جانِ مسیح آرہا ہے
دنیا میں ہے ان کی آمد آمد
ہے اسمِ شریف جن کا احمدﷺ
ہے نورِ خدا کی عِید کا دِن
دراصل ہے آج عید کا دن
کچھ اور ہے آج شانِ عالم
ہے یومِ ظہورِ جانِ عالم
پہنے ہے زمیں قبائے نوری
ہے طُور بکف ضیائے نوری
ذرّات کا یہ حِسیں تبسّم
جس پر ہیں نثار ماہ وانجم
غنچے ہیں کہ مسکرا رہے ہیں
تارے ہیں کہ جگمگا رہے ہیں
برسا ہے کرم کا عطر ہر سُو
مٹی میں بھی مشک کی ہے خوشبو
ہیں جنّ و بَشَر، مَلَک معطّر
خوشبو سے ہیں نُہ فلک معطّر
ہر غنچہ و گل ہے خلد بَرکف
ہر شاخِ شجر بہار درکف
تھا جن کا نہ باغباں نہ مالی
سر سبز ہے اُن کی ڈالی ڈالی
ہر شاخِ جناں پہ خندہ زن ہے
ہر خار شگوفۂ چمن ہے
باغوں میں پرے طیور کے ہیں
نغمات زباں پہ نور کے ہیں
غنچوں کو مِلا ہے لحنِ داؤد
ہے وردِ زباں درودِ مسعود
پُر کیف ہیں سرمدی ترانے
گلشن زرِگل کے ہیں خزانے
یہ دشت نہیں ہے گلستاں ہے
فردوس ہے یہ چمن کہاں ہے
شاخوں پہ بہار کا ہے عالم
مستی کا، خمار کا ہے عالم
پھولوں سے لدی ہیں ‘ جھومتی ہیں
سوسن کے لبوں کو چومتی ہیں
پتے کفِ دستِ حوریاں ہیں
مرأتِ جمالِ نوریاں ہیں
ایک ایک کلی بہ حسن و خوبی
ہے خلد کی نگہتوں میں ڈوبی
ہر غنچہ بکف بہارِ جنت
ہر گل پہ فدا ہزار جنت
رقصاں ہیں فلک پہ چاند تارے
آپس میں ہیں نور زا اشارے
حوروں نے لباسِ نور پہنا
قدرت سے ملا حسِین گہنا
پہنے ہوئے نور کی قبائیں
پھر اس پہ وہ نازنیں ادائیں
شاغِل بہ درود ہیں فرشتے
مائل بہ سجود ہیں فرشتے
پہنے ہوئے حلّہائے زرّیں
مشکیزے لئے بہ دوش مشکیں
ہر سمت قریب و دُور غلماں
برساتے ہیں آبِ نور غِلماں
ہے عالَمِ وجد و کیف میں عرش
سجدے میں جھکا ہے جانبِ فرش
ہے وحش و طیور میں مچی دھوم
آنے کو ہیں وہ نبئﷺ معصوم
خوں اب نہیں کفر کی رگوں میں
بت اوندھے پڑے ہیں مندروں میں
نزدیک ہے آمدِ شہِ دیں
زنجیروں میں قید ہیں شیاطیں
ہے معجزۂ ظہورِ والا
دریا تو ہے خاک، خاک دریا
وہ دیکھئے اُڑ رہا ہے کیسا
کعبے پہ محمّدیﷺ پھریرا
ابوابِ نظر کُھلے ہوئے ہیں
فردوس کے دَر کُھلے ہوئے ہیں
دو رویہ فرشتگانِ افلاک
استادہ ہیں تا بہ مولدِ پاک
ہے نور زمیں سے آسماں تک
جلوے ہیں مکاں سے لامکاں تک
پُر نور مکاں ہے آمنہ کا
گھر رشکِ جناں ہے آمنہ کا
صدقے ہے بہار آمنہ پر
انجم ہیں نثار آمنہ پر
پَردوں میں جو نور، ؟؟؟ ہے
سب پیشِ نگاہِ آمنہ ہے
[1] حضرت ابو الحسن نوری قدس سرہ العزیز ۱۲