صبح محشر شانِ محبوبی دکھانا چاہیے
خندۂ دنداں نما سے مسکرانا چاہیے
آب و تابِ حُسنِ عالَم گیر کے اعجاز سے
آفتابِ حشر کی تیزی بجھانا چاہیے
گیسوِ مشکیں دکھا کر عرصۂ عرصات میں
اپنے مشتاقوں کو دیوانہ بنانا چاہیے
جلوۂ قدِّ مبارک سایۂ قامت کے ساتھ
ہم کو خورشیدِ قیامت سے بچانا چاہیے
تم شفیع المذنبیں، تم رحمۃ للعالمیںﷺ
اپنی اُمّت کو خدا سے بخشوانا چاہیے
اہلِ محشر بھول جائیں گے مَصائب حشر کے
جلوۂ روئے مبارک کو دکھانا چاہیے
دیکھ کر جاہ و جلالِ شانِ محبوبِ خداﷺ
تجھ کو او خورشیدِ محشر مُنھ چھپانا چاہیے
گر نہ آیا دامنِ دیدار، کاؔفی! ہاتھ میں
دھجیاں جیب و گریباں کی اُڑانا چاہیے