/ Friday, 04 April,2025


سیّدِ کائنات و خیرِ اَنامﷺ





حدیثِ بست و نہم از کتابِ مشارق الانوار

 

عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ تَعَالٰی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

إِنِّي لَاَعْرِفُ حَجَرًا بِمَكَّةَ كَانَ يُسَلِّمُ عَلَيَّ قَبْلَ اَنْ اُبْعَثَ اِنِّيْٓ لَاَعْرِفُهُ الْاٰنَ۔(رَوَاہُ الْمُسْلِمُ)

 

  ہے روایت زبانِ جابر سے
اُس حدیث و خبر کے ذاکر سے
کہ جنابِ نبی ستودہ خصال سے
کہتے تھے ہم سے یہ حقیقتِ حال
یعنی مکّے میں ایک پتھر تھا
میرے اوپر سلام تھا کرتا
اُس کو پہچانتا ہوں میں تحقیق
اب تلک جانتا ہوں میں تحقیق
ہے یہ مذکور
قبلِ بعثت کا
کہ وہ پتھر سلام کرتا تھا
اور حضرت علی بھی کہتے ہیں
کہ بَہ ہمرا
ہیِ نبی تھا
وہ جدھر کو قدم اُٹھاتے تھے
اور حضرت جدھر کو جاتے تھے
جو حجر اور جو شجر ملتا
وہ
سَلَامٌ عَلَیْک کہتا تھا
حَبَّذَا رتبۂ حبیبِ خدا
سنگ نے بھی اُنھیں سلام کیا
جائے عبرت ہے، کاؔ
فیِ ناکام!
کہ کرے آپ کو جماد سلام
اور انسان عقل و ہوش کے ساتھ
ہو نہ مصروف وِردِ تسلیمات
بلکہ انساں کو چاہیے کہ مدام
عرض کرتا رہے دُرود و سلام

 

غزل در نعت

 

سیّدِ کائنات و خیرِ اَنام
اُن کے اوپر ہزار بار سلام
طاقِ ایوانِ آفرینش کا
ہے اُنھیں کے سبب قیام و نظام
بے نظیرِ جہاں بَہ حسن و جمال
بے مثالِ بشر بَہ خاص و عام
کیا لکھوں نعتِ صاحبِ
لَوْلَاک
 عقل و دانش ہے قاصر و ناکام
عَینِ ایماں ہے آپ کی اُلفت
ہے یہی دین اور یہی اسلام
ذاتِ پاکِ شفیعِ محشر کا
ہے وسیلہ ہمیں بروزِ قیام
کشتۂ شوقِ کاؔفیِ ناکام
ہیچ لیل و نہار، صبح و شام
بَہ جنابِ نبی حبیبِ خداﷺ
ہدیۂ رحمت و دُرود و سلام