خوش آمدید
تشبیہ کمر کہاں سے لائے عنقا ہے، خرد کہاں سے پائے کس طرح کہوں کمر نہیں ہے ہاں میری نظر، نظر نہیں ہے مولا میں نثارِ کبریائی اچھی یہ مثال ہاتھ آئی اس درجہ ہے نور کی کمر صاف ہے تارِ نگاہ بھی ادھر صاف
کیا آپ کا اکاؤنٹ ہے؟ اکاؤنٹ بنائیں