یہ کلام و بیاں سلمان کا
ہے مناقب حبیبِ یزدان کا
ایک دن یعنی جبرئیلِ امین
ہُوئے حاضر بخدمتِ شہِ دیں
اور اس طرح سے پیام دیا
کہ تمھیں ہے خدا نے فرمایا
کہ اگر میں نے از رہِ تکریم
کیا اپنا خلیل ابراہیم
میں نے اپنا تجھے حبیب کیا
یعنی یہ رتبۂ عجیب دیا
نہ کیا ہے کوئی بشر پیدا
میں نے تجھ سے بزرگ تر پیدا
اے نبیﷺ! افضلِ بشر تو ہے
پاس میرے بزرگ تر تو ہے
اور دنیا و اہلِ دنیا کو
واسطے تیرے لایا، اے خوش خو
کہ وہ پہچانے مرتبہ تیرا
اور سب جانے مرتبہ تیرا
میں نہ کرتا اگر تجھے پیدا
کاہے کو ہوتی خلقتِ دنیا
کیا حبیبِ خدا کی عزّت ہے
جس کے باعث تمام خلقت ہے
طُفیلِ سروَرِ عالَم ہُوا سارا جہاں پیدا
زمین و آسماں پیدا، مکیں پیدا، مکاں پیدا
نہ ہوتا گر فروغِ نورِ پاکِ رحمتِ عالَم
نہ ہوتی خلقتِ آدم، نہ گلزارِ جناں پیدا
شہِ لَوْلَاک کے باعث، حبیبِ پاک کے باعث
جنابِ حق تعالیٰ نے کیا کون و مکاں پیدا
ظہورِ ذاتِ اکرم سے، فُیوضِ خیرِ مقدم سے
نسیمِ بوستاں پیدا، بہارِ گلستاں پیدا
رسول اللہﷺ کی خاطر کیے جن و بشر حاضر
بنایا ماہ و انجم کو کیے ہیں بحر و کاں پیدا
جمال و حسن میں یکتا(؟)، کمالِ خلق میں یکتا
کوئی پیدا ہُوا ایسا، نہ ہوئے گا یہاں پیدا
اُنھیں کے واسطے آدم اُنھیں کے واسطے حوّا
اُنھیں کے واسطے، کاؔفی! کیے سب انس و جاں پیدا