ہفتہ , 12 شعبان 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Saturday, 31 January,2026


وہ محبت وہ مروت وہ شرافت تیری





پیر عبدالغفور

وہ محبت وہ مروت وہ شرافت تیری
رقص کرتی ہے نگاہوں میں عقیدت تیری
جامۂ فقر میں تو بخت کا اسکندر تھا
آج اعلان یہ کرتی ہے مشخیت تیری
دامن اشرف سمنان ترے سر پر ہوگا
رشگ لائیگی قیامت میں یہ نسبت تیری
نزع کے کرب جگر پاش سے محفوظ رکھا
رب کو منظور تھی کس درجہ رعایت تیری
تو نے پیری میں کئے کام جواں سالی کے
کتنی مضبوط و توانا تھی نقاہت تیری
عشق کہتے ہیں اسے اس کو فنا کہتے ہیں
صورت شیخ کی آئینہ تھی صورت تیری
کردیا اشرفی سرکار نے سرکار تجھے
عظمت شیخ کی غماز ہے عظمت تیری
دن کو ہشیار رہے رات کو بیدار رہے
تیرے چہرے سے نمایاں تھی ریاضت تیری
جھوم کر اس پہ سدا رحمت باری بر سے
نکہت و نور میں ڈوبی رہے تربت تیری