ہے ابو طلحہ راویِ اخبار
واقفِ حالِ سیّدِ ابرار
اِس حقیقت سے کر گیا آگاہ
کہ جنابِ نبی رسول اللہ
لائے تشریف ایک دن باہر
تھی خوشی چہرۂ مبارک پر
تازگی و سرور و خوش حالی
لاحقِ حالِ فارغ البالی
عین فرحت کے ساتھ پیشانی
مطلعِ آفتابِ نورانی
رُوئے پُر نور و عارضِ تاباں
اثرِ خُرّمی سے نور افشاں
صبحِ صادق جبین نورانی
عالَم آرا کشادہ پیشانی
حَبَّذَا کیا جبینِ والا ہے
کیا ہی صَلِّ عَلٰی یہ سیما ہے
کیا کہوں وصفِ عالمِ خوبی
ہے بہارِ ریاضِ محبوبی
مطلعِ صبحِ آفرینش ہے
آفتابِ سپہر بینش ہے
نو بہارِ حدیقۂ ہستی
انتخاب صحیفۂ ہستی
لعل لب میں تبسمِ مستور
عاشقوں کی نظر میں شعلۂ طور
کیجیے یاں تو جان کو صدقے
جان کیا سب جہاں کو صدقے
قوسِ ابرو و چشمِ پُر اَنوار
جس کے دیکھے سے آئے دل کو قرار
کیا کہوں خوبی و جمال کا حال
عَینِ اعجاز ہے یہ حسن و جمال
گر لکھوں حلیہ و شمائل کو
حشر تک دفترِ خصائل کو
ایک وصف بھی اختتام نہ ہو
مجھ سے پورا کبھی یہ کام نہ ہو
ذکرِ روئے شریف آیا تھا
اِس لیے دل نے جوش کھایا تھا
تھا کہاں اور گیا کہاں کافی
اب روایت کو کر بیاں، کافی!
یعنی جس وقت آپﷺ خرّم و شاد
لائے تشریف یہ کیا ارشاد
کہ مِرے پاس عقلِ کُل آیا
اور ایسا پیام پہنچایا
یعنی فرماتا ہے خدائے پاک
واسطے تیرے، اے شہِ لَوْلَاک!
کہ نہیں اس پہ تیرا جی راضی
چاہیے ہو بہت خوشی راضی
ہے خوشی کا سبب یہ صاف عیاں
کہ تِرا اُمّتی کوئی انساں
گر پڑھے تجھ پہ ایک بار صلاۃ
اُس کو حاصل ہو اِس طرح کی بات
کہ نزولِ صلاۃ ہو دس بار
میری جانب سے اُس کو، اے مختار!
اور جو کوئی ایک بار سلام
تیرے اوپر کرے نثار سلام
اُس پہ میں دس سلام بھیجوں گا
ایک کا دس گُنا عوض دوں گا
یا نبی! تم پہ بار بار سلام
بے عدد اور بے شمار سلام
روزِ اوّل سے لے کے تا بَہ ابد
آپ پر روز سو ہزار سلام
شبِ معراج میں خدا نے کیا
اپنے(؟) محبوب پر نثار سلام
؟؟؟ تھوڑا ہے آپ کی خاطر
؟؟؟ گر کروڑ بار سلام
؟؟؟ و اہل بیت پر صلوات
؟؟؟کرتا ہے یا رسول اللہ!
؟؟؟ خستہ و نزار سلام
؟؟؟ جاں بخش کی جواب کا ہے
؟؟؟ کا انتظار سلام
ہے کتابِ دلائل الخیرات
مخزن و مجمع سلام و صلاۃ
جو حدیثیں وہاں ہُوئی ہیں وُرود
بصفاتِ صلاۃ و وردِ دُرود
واں مصنّف نے اختصار کیا
واسطے اور سند کو چھوڑ دیا
جو حدیثیں وہاں سے لیں میں نے
بے سند ویسی ہی لکھیں میں نے