/ Thursday, 03 April,2025


یا نبی یاد تری دل سے مرے کیوں جائے





یا نبی یاد تِری دل سے مرے کیوں جائے
بختِ بیدار مِرا جاگ کے کیوں سو جائے

لاکھ عشاقِ مدینہ ہیں الم سے گھائل
تم جو آ جاؤ تو پیارے کوئی کیوں گھبرائے

جب نظر ہی میں نہیں لاتے دو عالم کا جمال
ان کے دیوانوں کو فردوس بھی کیوں بہلائے

صبح کا وقت ہے آقا مِری جھولی بھر دو
کٹ گئی رات یوں ہی دستِ طلب پھیلائے

ٹوٹ جائے غم و کلفت کی چٹانوں کا غرور
سبز گنبد سے اگر دل کی صدا ٹکرائے

آگئے والیِ بطحا کی اماں میں اؔرشد
کہہ دو آنا ہے تو اب پیکِ اجل آجائے

(اظہار عقیدت)