اصلی نام سعادت مند تھا۔ قصبہ بٹالہ کے رہنے والے تھے۔ آباؤاجداد قوم کھتری پوری سے تھے۔ آپ کے دادا مشرف بہ اسلام ہوئے تھے جو بٹالہ میں قانون گو کے عہدہ پر مامور تھے۔ تعلیم و تربیت اپنے والدِ ماجد سے پائی تھی۔ تیس سال کی عمر میں تھے کہ آپ کے بھائی عبدالرحیم وفات پاگئے۔ آپ ازرہِ ہمدردی و خبر گیری اپنی بھاوج کے پاس آیا جایا کرتے تھے۔ ان کی بیوی کو ان کا یہ سلوک ایک آنکھ نہ بھایا اور انہیں متہم کیا۔ آپ دل برداشتہ ہو کر لاہور چلے آئے اور شیخ محمد فاضل قادری شطاری کے حلقۂ ارادت میں داخل ہوگئے اور خدمتِ مرشد میں رہ کر سلسلۂ قادریہ کی تکمیل کی۔ خرقۂ خلافت پایا اور شاہ شرف کے خطاب سے ممتاز ہوئے۔ اس دوران میں آپ کی اہلیہ حاضرِ خدمت ہوئیں اور واپس بٹالہ جانے کی تحریک کی مگر آپ نے قبول نہ کیا۔ تمام عمر لاہور میں گزاری۔ درس و تدریس اور ہدایتِ خلق میں مصروف رہے۔ شاہ رضا قادری شطاری آپ کے پیر بھائی تھے۔ ۱۱۔۔۔
مزید
اپنے وقت کے امامِ شریعت، مقتدائے طریقت اور عارفِ حقیقت تھے۔ علومِ ظاہری و باطنی کی تعلیم اپنے والدِ ماجد سے پائی تھی۔ جامع علوم و فنون تھے۔ نیز علومِ منقولات و معقولات میں بڑی دسترس حاصل تھی۔ ہندوستان کے مشائخ ِ کبار سے تھے۔ سیکڑوں مشرکین اور فاسق و فاجر آپ کے دستِ مبارک پر مشرف بہ اسلام ہوئے اور تائب ہوکر راہِ ہدایت پر آئے۔ حضرت غوث الاعظم کے ساتھ نسبت خاص تھی۔ حضرت غوثیہ ہی سے عبدالقادر ثانی کا خطاب بعالمِ باطن پایا تھا۔ صاحب اخبار الاخیار لکھتے ہیں: آپ عفوانِ شباب میں بڑی پُر تکلّف زندگی بسر کرتے تھے۔ سماع کی طرف بڑا التفات تھا۔ سفر میں بھی یہی کیفیت تھی۔ سازو سامان کے کئی اونٹ ہمرا ہوتے تھے۔ مگر سجادہ نشین ہوتے ہی ان تمام تکلفات سے کلی اجتناب اختیار کرلیا۔ طالبانِ سماع کو زجرو توبیخ کرتے تھے۔ اگر کسی موقع پر بطریق شاذ سماع سننے کا اتفاق ہوجاتا تھا تو اس قدر گریہ و زاری کر تے تھے۔۔۔
مزید
داؤد نام، سیّد فتح اللہ بن سیّد مبارک باپ کا نام تھا۔ سلسلۂ نسب امام موسیٰ کاظم تک منتہی ہوتا ہے۔ آپ کے والد عرب سے آکر ہندوستان میں پہلے ہیبت پور (پٹی) میں پھر قصبۂ چونی وال (چونیاں) سکونت پذیر ہوگئے تھے۔ آپ اسی مقام پر اپنے والد کی وفات کے چار ماہ بعد پیدا ہوئے۔ سنِ رشد کو پہنچے تو حضرت مولانا عبدالرحمٰن جامی کے شاگرد مولانا اسماعیل لاہوری کی خدمت میں آکر علومِ ظاہری کی تکمیل کی پھر حضرت سیّد حامد گنج بخش گیلانی اوچی کے حلقۂ ارادت میں داخل ہوئے اور سلسلۂ قادریہ کی تکمیل کے بعد خرقہ و خلافت سے ممتاز ہوئے اپنے زمانے کے صاحبِ حال و قال اور جامع شریعت و طریقت بزرگ گزرے ہیں۔ زہدو تقویٰ اور عبادت و ریاضت میں بھی بلند مقامات پر فائز تھے۔ تمام رات کبھی قیام، کبھی سجود، کبھی رکوع اور کبھی قعدہ میں گزرجاتی تھی۔ کثرتِ ریاضت و مجاہدہ سے آپ کی نسبتِ خاص حضرت شیخ سیّد عبدالقادر جیلانی غوث الاعظم س۔۔۔
مزید
زاہد و عابد، صاحبِ کشف و کرامت اور حضرت غوث الاعظم کے خادمِ خاص تھے۔ ان کی عظمت و بزرگی کی سب سے بڑی روشن دلیل اور کیا ہوسکتی ہے کہ جب حضرت غوث الثقلین وعظ کے لیے کرسی پر تشریف رکھتے تھے تو آپ اپنی چادرِ مبارک کرسی پر بچھایا کرتے تھے۔ ۵۷۲ھ میں وفات پائی۔ قطعۂ تاریخِ وفات: شیخ احمد بن مبارک چوں بفضلِ ایزدی رحلتش احمد مقدس بن مبارک شد رقم ۵۷۲ھ یافت از دنیائے دوں در جنّت اعلیٰ مقام نیز احمد نورِ ربانی شدا ز سرور عیاں ۵۷۲ھ ۔۔۔
مزید
شیخ صدقہ نام، ابوالفرح کنیت، باپ کا نام یٰسین تھا۔ بغداد کے رہنے والے تھے۔ حضرت غوث الاعظم کی خدمت میں اکثر حاضر ہوکر اخذِ فیض کرتے تھے۔ ایک روز حالتِ جذب و سکر میں کچھ ایسے کلمات آپ کی زبان سے نکل گئے جو ظاہر میں خلافِ شریعت تھے۔ علمائے وقت نے ان کلمات پر مواخذہ کیا۔ خلیفہ کے سامنے پیش کیے گئے۔ کوڑوں کی سزا مقرر ہُوئی۔ جس وقت جلاد نے آپ کے کپڑے اتار کر کوڑے لگانے چاہے تو شیخ صدقہ کے ایک خادم نے اے شیخ اے شیخ کی فریاد بلند کی۔ اُسی وقت ضارب کا ہاتھ خشک ہوگیا۔ اسی واقعہ نے ناظرین پر ہیبت طاری کردی۔ خلیفہ نے خائف ہوکر انہیں بڑے اعزاز و اکرام کے ساتھ رخصت کردیا۔ وہاں سے آپ حضرت غوث الاعظم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے۔ حضرت نے فرمایا: اے صدقہ جس وقت تیرے خادم نے فریاد بلند کی میں نے سُنا اور مدد میں مشغول ہوا۔۵۷۳ھ میں وفات پائی۔ مزار بغداد میں ہے۔ امام جہاں صدقہ پیرِ کبیر تو سردارِ ح۔۔۔
مزید
حضرت غوث الاعظم کے فرزند ارجمند تھے۔ علومِ ظاہری وباطنی کی تحصیل اپنے پدر بزر گواری سے کی تھی۔ اپنے وقت کے عالم و فاضل اور محدّث و فقیہ تھے۔ ۲۷؍ ماہ صفر ۵۸۷ھ میں وفات پائی۔ مرقد بغداد میں زیارت گاہِ خلق ہے۔ قطعۂ تاریخِ وفات: چو از دنیا بجنت گشت راہی وصالش والیٔ تسلیم پیداست ۵۸۷ھ شہ اہلِ یقیں مقبول رحماں دوبارہ ’’مہ جبیں مقبول رحماں‘‘ ۵۸۷ھ ۔۔۔
مزید
کنیت ابوبکر ہے۔ حضرت غوث الاعظم کے صاحبزادہ ہیں۔ تعلیم و تربیت اپنے والدِ ماجد ہی کے زیر سایہ پائی تھی اور اُنہی کے مرید و خلیفہ تھے۔ پدر بزرگوار کی وفات کے بعد نقلِ مکان کرکے سنجار چلے گئے تھے۔ وہیں ۵۸۹ھ میں وفات پائی۔ قطعۂ تاریخِ وفات: سیدِ ذی جاہ و عالی مرتبت رحلتش مہتابِ عالم گفتہ ام ۵۸۹ھ مرشدِ حق، حق نما، حق بیں عزیز نیز شد روشن زشمس الدین عزیز ۵۸۹ھ ۔۔۔
مزید
شعیب نام، لقب ابو مدین بن حسن یا حسین۔ حضرت شیخ ابوبغرائی مغربی کے مرید و خلیفہ اور حضرت شیخ محی الدین ابن العربی کے مرشد تھے۔ حضرت شیخ سیّد عبدالقادر جیلانی غوث الاعظم سے بھی اکتسابِ فیض کیا تھا۔ صاحبِ کشف و کرامت اور سر زمینِ مغرب کے مشائخِ کبار سے تھے۔ ایک روز آپ نے دیارِ مغرب کے کسی مقام پر گردن جھکا کر کہا۔ اللھم انی اشھدک واشھد ملائکتک انی سمعت واطعت۔ حاضرین نے اس کا سبب پوچھا۔ فرمایا: شیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہٗ نے بغداد میں یہ فرمایا قدمی ھٰذہ علی رقبۃ کل ولی اللہ۔ اس کے بعد بغداد کے بعض اکابر حاضر ہوئے اور انہوں نے بھی اطلاع دی کہ حضرت غوث الاعظم نے اُسی وقت یہ الفاظ فرمائے تھے۔ حضرت مولانا عبدالرحمٰن جامی صاحب نفحات الانس لکھتے ہیں کہ حضرت شیخ ابو مدین مغربی ایک روز دریا کے کنارے کنارے جارہے تھے کہ کفار کی ایک جماعت نے آپ کو گرفتار کرلیا اور اپنی کشتی میں لے گئے۔ آپ سے پہلے بھ۔۔۔
مزید
نام عبداللہ بن محمد بن احمد بن قدامۃ الجیلی ہے۔ صاحبِ تصنیف ہیں۔ علومِ ظاہری و باطنی میں بڑا پایہ رکھتے تھے۔ اپنے عہد کے مشہور عالم گزرے ہیں۔ حضرت غوث الاعظم کے شاگرد و مرید تھے۔ ۶۲۲ھ میں وفات پائی۔ چو آں شیخ موفق بن محمد رقم کن لفظِ برکت با تبرک ۶۲۲ھ ز دنیا گشت سوئے خلد مامور بتاریخش دگر نورِ علیٰ نور ۶۲۲ھ ۔۔۔
مزید
شیخ عبداللہ بطائمی کے مرید و خلیفہ ہیں جو حضرت غوث الاعظم کے بزرگ تریں خلفأ سے تھے۔ علومِ ظاہری و باطنی کے جامع تھے۔ شجاعت و مرقت اور خلق میں بے نظیر تھے۔ صاحب بہجۃ الاسرار لکھتے ہیں کہ آپ نہایت خوش رو، خوش خو اور خوش گو تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں مستجاب الدعوات کیا تھا۔ ۶۵۸ھ میں وفات پائی۔ شیخ احمد چو از عنایتِ حق رحلتش ماہتاب صاحبِ حق ۶۵۸ھ کرد رحلت ازیں جہاں بہ وطن کن رقم ‘‘نیز ماہِ نو روشن’’ ۶۵۸ھ ۔۔۔
مزید