زاہد و عابد، صاحبِ کشف و کرامت اور حضرت غوث الاعظم کے خادمِ خاص تھے۔ ان کی عظمت و بزرگی کی سب سے بڑی روشن دلیل اور کیا ہوسکتی ہے کہ جب حضرت غوث الثقلین وعظ کے لیے کرسی پر تشریف رکھتے تھے تو آپ اپنی چادرِ مبارک کرسی پر بچھایا کرتے تھے۔ ۵۷۲ھ میں وفات پائی۔ قطعۂ تاریخِ وفات: شیخ احمد بن مبارک چوں بفضلِ ایزدی رحلتش احمد مقدس بن مبارک شد رقم ۵۷۲ھ یافت از دنیائے دوں در جنّت اعلیٰ مقام نیز احمد نورِ ربانی شدا ز سرور عیاں ۵۷۲ھ ۔۔۔
مزید
شیخ صدقہ نام، ابوالفرح کنیت، باپ کا نام یٰسین تھا۔ بغداد کے رہنے والے تھے۔ حضرت غوث الاعظم کی خدمت میں اکثر حاضر ہوکر اخذِ فیض کرتے تھے۔ ایک روز حالتِ جذب و سکر میں کچھ ایسے کلمات آپ کی زبان سے نکل گئے جو ظاہر میں خلافِ شریعت تھے۔ علمائے وقت نے ان کلمات پر مواخذہ کیا۔ خلیفہ کے سامنے پیش کیے گئے۔ کوڑوں کی سزا مقرر ہُوئی۔ جس وقت جلاد نے آپ کے کپڑے اتار کر کوڑے لگانے چاہے تو شیخ صدقہ کے ایک خادم نے اے شیخ اے شیخ کی فریاد بلند کی۔ اُسی وقت ضارب کا ہاتھ خشک ہوگیا۔ اسی واقعہ نے ناظرین پر ہیبت طاری کردی۔ خلیفہ نے خائف ہوکر انہیں بڑے اعزاز و اکرام کے ساتھ رخصت کردیا۔ وہاں سے آپ حضرت غوث الاعظم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے۔ حضرت نے فرمایا: اے صدقہ جس وقت تیرے خادم نے فریاد بلند کی میں نے سُنا اور مدد میں مشغول ہوا۔۵۷۳ھ میں وفات پائی۔ مزار بغداد میں ہے۔ امام جہاں صدقہ پیرِ کبیر تو سردارِ ح۔۔۔
مزید
حضرت غوث الاعظم کے فرزند ارجمند تھے۔ علومِ ظاہری وباطنی کی تحصیل اپنے پدر بزر گواری سے کی تھی۔ اپنے وقت کے عالم و فاضل اور محدّث و فقیہ تھے۔ ۲۷؍ ماہ صفر ۵۸۷ھ میں وفات پائی۔ مرقد بغداد میں زیارت گاہِ خلق ہے۔ قطعۂ تاریخِ وفات: چو از دنیا بجنت گشت راہی وصالش والیٔ تسلیم پیداست ۵۸۷ھ شہ اہلِ یقیں مقبول رحماں دوبارہ ’’مہ جبیں مقبول رحماں‘‘ ۵۸۷ھ ۔۔۔
مزید
کنیت ابوبکر ہے۔ حضرت غوث الاعظم کے صاحبزادہ ہیں۔ تعلیم و تربیت اپنے والدِ ماجد ہی کے زیر سایہ پائی تھی اور اُنہی کے مرید و خلیفہ تھے۔ پدر بزرگوار کی وفات کے بعد نقلِ مکان کرکے سنجار چلے گئے تھے۔ وہیں ۵۸۹ھ میں وفات پائی۔ قطعۂ تاریخِ وفات: سیدِ ذی جاہ و عالی مرتبت رحلتش مہتابِ عالم گفتہ ام ۵۸۹ھ مرشدِ حق، حق نما، حق بیں عزیز نیز شد روشن زشمس الدین عزیز ۵۸۹ھ ۔۔۔
مزید
شعیب نام، لقب ابو مدین بن حسن یا حسین۔ حضرت شیخ ابوبغرائی مغربی کے مرید و خلیفہ اور حضرت شیخ محی الدین ابن العربی کے مرشد تھے۔ حضرت شیخ سیّد عبدالقادر جیلانی غوث الاعظم سے بھی اکتسابِ فیض کیا تھا۔ صاحبِ کشف و کرامت اور سر زمینِ مغرب کے مشائخِ کبار سے تھے۔ ایک روز آپ نے دیارِ مغرب کے کسی مقام پر گردن جھکا کر کہا۔ اللھم انی اشھدک واشھد ملائکتک انی سمعت واطعت۔ حاضرین نے اس کا سبب پوچھا۔ فرمایا: شیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہٗ نے بغداد میں یہ فرمایا قدمی ھٰذہ علی رقبۃ کل ولی اللہ۔ اس کے بعد بغداد کے بعض اکابر حاضر ہوئے اور انہوں نے بھی اطلاع دی کہ حضرت غوث الاعظم نے اُسی وقت یہ الفاظ فرمائے تھے۔ حضرت مولانا عبدالرحمٰن جامی صاحب نفحات الانس لکھتے ہیں کہ حضرت شیخ ابو مدین مغربی ایک روز دریا کے کنارے کنارے جارہے تھے کہ کفار کی ایک جماعت نے آپ کو گرفتار کرلیا اور اپنی کشتی میں لے گئے۔ آپ سے پہلے بھ۔۔۔
مزید
شیخ موفق الدین عبد اللہ بن احمد ابن قدامہ مقدسینام عبداللہ بن محمد بن احمد بن قدامۃ الجیلی ہے۔ صاحبِ تصنیف ہیں۔ علومِ ظاہری و باطنی میں بڑا پایہ رکھتے تھے۔ اپنے عہد کے مشہور عالم گزرے ہیں۔ حضرت غوث الاعظم کے شاگرد و مرید تھے۔وصال:۲۶۶ھ میں ہوا چو آں شیخ موفق بن محمد رقم کن لفظِ برکت با تبرک ۶۲۲ھ ز دنیا گشت سوئے خلد مامور بتاریخش دگر نورِ علیٰ نور ۶۲۲ھ ۔۔۔
مزید
شیخ عبداللہ بطائمی کے مرید و خلیفہ ہیں جو حضرت غوث الاعظم کے بزرگ تریں خلفأ سے تھے۔ علومِ ظاہری و باطنی کے جامع تھے۔ شجاعت و مرقت اور خلق میں بے نظیر تھے۔ صاحب بہجۃ الاسرار لکھتے ہیں کہ آپ نہایت خوش رو، خوش خو اور خوش گو تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں مستجاب الدعوات کیا تھا۔ ۶۵۸ھ میں وفات پائی۔ شیخ احمد چو از عنایتِ حق رحلتش ماہتاب صاحبِ حق ۶۵۸ھ کرد رحلت ازیں جہاں بہ وطن کن رقم ‘‘نیز ماہِ نو روشن’’ ۶۵۸ھ ۔۔۔
مزید
نام فیروز شاہ تھا۔ آپ کے دادا شاہ عالم نے بغداد سے نقل مکان کرکے لاہور آکر سکونت اختیار کرلی تھی۔ صاحب علم و فضل تھے۔ سیادت و بخابت اور عبادت و ریاضت میں مشہور زمانہ تھے۔ اپنے دادا کے مرید و خلیفہ تھے۔ چنانچہ ان کی وفات کے بعد سجادہ نشیں ہوئے۔ تمام عمر طلبہ و مریدین کی درس و تدریس اور ہدایت و تلقین میں گزاری۔ طلبہ کو فقہ و حدیث اور قرآن و تفسیر کا درس دیا کرتے تھے۔ شام سے آدھی رات تک اربابِ معنی کو توجہ اور تلقین فرمانے میں مشغول رہتے۔ جمعہ کے روز نماز کے بعد عصر تک وعظ و نصائح میں صرف کرتے۔ آپ کی ذاتِ بابرکات سے ایک خلقِ کثیر علومِ ظاہری و باطنی سے بہرہ در ہوئی۔ آپ کا سلسلۂ بیعت حضرت شیخ سید عبدالقادر جیلانی غوث الاعظم تک منتہی ہوتا ہے۔ ۹۳۳ھ میں وفات پائی۔ مزار تکیہ ڈنڈی گراں لاہور میں ہے۔ ڈنڈی گریا خرادی۔ صناعوں کی یہ جماعت آپ سے بڑی عقیدت رکھتی تھی۔ یہ علاقہ ڈنڈی گراں کے نام سے مشہور ہ۔۔۔
مزید
سیّد جمال الدین باپ کا نام تھا۔ اپنے پدر بزرگوار کے شاگرد و مرید تھے۔ علومِ ظاہری و باطنی میں کامل و اکمل مرجع خلائق اور صاحبِ خوارق و کرامت تھے۔ اصل وطن بغداد تھا۔ وہاں سے نقل مکان کر کے لاہور آکر سکونت پذیر ہوگئے تھے۔ سلسلۂ نسب حضرت شیخ سیّد عبدالقادر گیلانی غوث الاعظم تک منتہی ہوتا ہے۔ ۹۴۲ھ میں اللہ کو پیارے ہوئے۔ عبد قادر سیّدِ نورانی است خیرِ اسلام آمدہ ترحیلِ او ۹۴۲ھ قطبِ دوراں سالکِ ربانی است بارِ دیگر عبدِ قادر ثانی است ۹۴۲ھ ۔۔۔
مزید
سیّد عبدالقادر ثانی اوچی کے فرزند ارشد ہیں۔ عالی ہمت اور صاحبِ فضل و کمال تھے۔ والدِ ماجد کی وفات کے وقت ناگور میں تھے۔ ایک روز مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ فرمایا: مجھے پدر بزرگوار نے بلایا ہے اور میں نے ان کی آواز بگوشِ ظاہری سنی ہے۔ اسی وقت اوچ کو روانہ ہوگئے۔ گوعین وفات کے وقت تو نہ پہنچ سکے، چند روز کے بعد پہنچے، اور والدِ ماجد کے حکم کے مطابق لباسِ خرقہ و اجازت خلافت و نعمتِ سجادہ نشینی سے مشرف ہوئے۔ بقول صاحب اخبار لاخیار ۹۴۲ھ میں وفات پائی۔ مزار اوچ میں ہے۔ سیّدِ رزاق شاہِ والا جاہ میرِ حق آفتاب گو سالش ۹۴۲ھ رفت چوں در جناں ز دورِ زماں باز مخدوم قطبِ عالم خواں ۹۴۲ھ ۔۔۔
مزید