ابوبردہ انصاری،جابر بن عبداللہ ان کے راوی ہیں،کہ ابواحمد بن سکینہ نے بتایا،کہ انہیں ابوغالب الماءروی نے عطیتہً باسنادہ ابوداؤد سجستانی سے،انہوں نے قتیبہ بن سعید سے،انہوں نے لیث سے، انہوں نے یزید بن ابی حبیب سے،انہوں نے بکیر بن عبداللہ بن اشجع سے،انہوں نے سلیمان بن یسار سے،انہوں نے عبدالرحمٰن بن جابر سے،انہوں نے ابوبردہ سےروایت کی،کہ حضورِاکرم نے فرمایا،کہ کسی شخص کو بھی بغیر حدود اللہ کے دس کوڑوں سے زیادہ مت مارو۔ نیزبکیر بن عبداللہ نے سلیمان سے،انہوں نے عبدالرحمٰن بن جابر سے،انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے ابی بردہ سےروایت کی،احمد بن زہیر کہتے ہیں،کہ وہ ظفری ہیں،یا کوئی اور،ان کے علاوہ کسی اور راوی کاقول ہے کہ اس حدیث کو جابر نے ابوبردہ بن نیار سے روایت کیا ہے،ابونعیم نے ابن نیار کے ترجمے میں ان کا ذکر کیا ہے،واللہ اعلم،ابوعمر نے ان کا ذکر کیاہے۔ ۔۔۔
مزید
بن حبیب بن عبید بن حارث انصاری: غسانی نے واقدی سے روایت کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن عثمان بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ قرشی تیمی: فتح مکہ کے دن ایمان لائے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہے۔ ان کے بیٹے عبید اللہ بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے مستفیض ہوئے۔ ابو عمر نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن ابی الہیثم اسدی: ایک روایت میں معقل بن ابی معقل اور معقل بن ام معقل بھی آیا ہے، لیکن آدمی ایک ہی ہے۔ مدنی ہے۔ ان سے ابو سلمہ ابو زید اور ام معقل نے روایت کی ہے۔ عمرو بن ابی عمرو نے ابو زید سے انہوں نے معقل بن ابی الہیثم اسدی سے جوان کے حلیف تھے، اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہے۔ انہوں نے روایت کی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بول اور پاخانہ کرتے وقت کعبے کا رُخ کرنے سے منع فرمایا۔ نیز ان سے یہ حدیث بھی مروی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رمضان میں عمرے کا ثواب حج جتنا ہے۔ یہ امیر معاویہ کے عہد میں فوت ہوئے۔ تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن یسار بن عبد اللہ بن معبر بن حراق بن لائی بن کعب بن عبد بن ثور بن ہدمہ بن لاطم بن عثمان بن عمرو بن او بن طابخہ بن الیاس بن مضرا المزنی: ان کی کنیّت ابو عبد اللہ، ابو یسار یا ابو علی تھی۔ عثمان اور اوس کو جو عمرو کے بیٹے تھے۔ مزینہ اس لیے کہتے تھے کہ وہ اپنی ماں مزینہ سے منسوب تھے، جو کعب بن و برہ کی بیٹی تھی معقل حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہے۔ اور بیعت رضوان میں موجود تھے اور انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس امر پر بیعت کی تھی کہ ہم میدانِ جنگ سے نہ بھاگیں گے۔ بصرہ میں مقیم ہوگئے تھے اور بصرہ کی نہر معقل کی طرف منسوب ہے۔ یہ صاحب بصرہ ہی میں امیر معاویہ کے عہد میں فوت ہوئے۔ ایک روایت میں یزید کا عہد مذکور ہے۔ ان سے عمرو بن میمون الاودی، ابو عثمان نہدی اور حسن بصری نے روایت کی اور ان سے کئی احادیث مذکور ہیں۔ عبد اللہ بن احمد بن عبد القاہر خطیب نے ابو عمر جعفر ب۔۔۔
مزید
یہ نام ہے، ابو حذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبدِ شمس کا۔ ان کے نام کے بارے میں اور بھی کئی روایات ہیں۔ اس کا ذکر گزر چکا ہے اور کنیتوں کے عنوان کے تحت ہم ذرا تفصیل سے ان کا ذکر کریں گے۔ کیونکہ وہ اپنی کنیّت کی وجہ سے زیادہ مشہور ہیں۔۔۔۔
مزید
بن سنان بن مظہر بن عرکی بن فتیان بن سبیع بن بکر بن اشجع بن ریث بن غطفان الاشجعی: ان کی کنیت ابو عبد الرحمان ہے۔ بعض روایات میں ابو زید ابو سمنان اور ابو محمد بھی آئی ہے۔ فتح مکہ میں موجود تھے۔ مدینہ آ گئے اور پھر یہیں رہ گئے۔ فاضل اور متقی آدمی تھے۔ انہوں ہی نے بروع بنت واشق کی حدیث بیان کی۔ اسماعیل اور ابراہیم وغیرہ نے باسناد ہما محمد بن عیسی سے انہوں نے محمود بن غیلان سے انہوں نے زید بن حباب سے انہوں نے سفیان سے انہوں نے منصور سے، انہوں نے ابراہیم سے انہوں نے علقمہ سے انہوں نے ابن مسعود سے روایت کی، کہ ایک آدمی نے ان سے دریافت کیا کہ ایک ایسے آدمی سے کتنا مہر وصول کیا جائے گا جس نے ایک عورت سے نکاح کیا اور اس کا مہر بھی مقرر نہ کیا۔ اور اس سے زنا شوئی تعلقات بھی قائم نہ کیے اور وہ مرگیا۔ ابن مسعود نے فتوی دیا کہ اس پر مہر مثل کی ادائیگی فرض ہوگی۔جس میں کوئی کمی بیشی نہ ہوگی اور اسے میر۔۔۔
مزید
بن عمرو اسلمی: ابو مروان ان کی کنیت تھی۔ ان سے ان کے بیٹے عطا نے روایت کی۔ وہ کہتے ہیں کہ مَیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھا تھا کہ ماعز وہاں آگئے۔ اس کے بعد راوی نے حدیث بیان کی ۔ یہ امیر کا قول ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن ملکان: جعفر وغیرہ نے اُنہیں صحابہ میں شمار کیا ہے۔ مظفر بن عاصم بن اغرالعجلی نے ۳۱۱ ہجری میں مکلبہ بن ملکان سے خوارزم یہ روایت سُنی کہ وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چوبیس غزوات اور سرایا میں شریک رہے۔ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے تھے کہ ایک بوڑھا آدمی جس کی بھنویں، آنکھوں پر لٹک آئی تھیں، دربارِ رسالت میں وارد ہوا سلام کہا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جوابِ سلام کے بعد فرمایا۔ کیا مَیں تجھے بڑھاپے کے فضائل میں کچھ بتاؤں اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موضوع پر ایک لمبی تقریر ارشاد فرمائی۔ابو موسیٰ نے اس کا ذکر کیا ہے، لیکن اگر اسے نہ بیان کرتا، تو بہتر تھا۔۔۔۔
مزید
آپ کے مورث اعلیٰ حضرت سید محی الدین الحسینی قدس سرہٗ بغداد مقدس سے سلطان عادل اورنگ ریب غازی کے آخر عہد سلطنت آصفیہ آصف جاہ اول کے عہد حکومت میں جمادی الاخریٰ ۱۱۶۱ھ میں فوت ہوئے، اُن کی قبر اورنگ آباد میں حضرت شاہ برہان الدین غریب قدس سرہٗ کے مقبرہ کے قریب ہے، ۔۔۔۔ مولانا محمد عمر صاحب کے دادا بزرگوار سید حیدر علی سیادت پناہ نے حیدر آبادمیں فوجی ملازمت اختیار کی، اُن کو اپنے والد سے ارادت واجازت حاصل تھی، ۲۰؍جمادی الاخریٰ ۱۲۵۸ھ میں اُن کا انتقال ہوا، آپ کے لڑکے مولانا سید شاہ محمد بادشاہ حسینی ۱۲۳۶ھ میں پیدا ہوئے، اور ۱۲۸۶ھ میں رہگزارے عالم جاودانی ہوئے، مولانا بادشاہ حسینی علوم اسلامیہ عربی وفارسی کے متبحر علام، صاحب تصنیف اور صاحب دیوان شاعر تھے، حضرت میر شجاع الدین حسینقدس سرہٗ کے مرید وخلیفہ اور داماد تھے، سید شاہ بادشاہ حسینی نے تیرہ۱۳حج کیے، اور ہر بار حرمین میں طویل قیام کیا، ب۔۔۔
مزید